onpage optimization 144

آن پیج آپٹامائزیشن کیا ہے اور اسکا طریقہ کار

آن پیج آپٹامائزیشن

آن پیج آپٹامائزیشن کو آن سائیٹ آپٹامائزیشن بھی کہتے ہیں، آن پیج آپٹامائزیشن کرتے وقت ہم تمام سرچ انجنز کی گائیڈ لائن کو مدنظر رکھتے ہوئے ہیں اور کوئی ایسا کام نہیں کرتے جو اس گائیڈ لائن کے خلاف ہو
گوگل کے جدید الگریتھم پانڈا 4 کے مطابق آن پیج آپٹامائزیشن کا رول بڑھ کر 35 فیصد ہو چکا ہے اس سے آپ جان سکتے ہیں آن پیج آپٹامائزیشن کتنی اہمیت کا حامل ہے

آن پیج آپٹامائزیشن ٹیکنیکس

آن پیج آپٹامائزیشن ٹیکنیکس کا ایک اوور ویو دے دوں آنے والی پوسٹس میں ہر ٹیکنیک پر ایک پوسٹ ہو گی
Keyword Analysis
Competition Website Analysis
Tag Optimization
URL
Favicon
Canonicalization Installation
Web speed Optimization
CSS & Java Script Optimization
Optimization of Non Index Able Attribute
Text/Code Ratio
Linking ( internal, external, broken)
Doctype
W3 Schools Validation
Sitemap File
Robots.txt File
Content Optimizations
Conversion Form
Client Side webpage Analysis
Usability
اب ایک ایک ٹیکنیک پر سرسری سی بات کرتے ہیں تاکہ آپ انکے بارےمیں جان سکیں

Keyword Analysis

کی ورڈ کے بارے میں تو ہم جانتے ہیں کہ یوزر جو کچھ بھی سرچ کرنے کے لئے کسی سرچ انجن میں کوئی کیوری ٹائپ کرتا اسے کو ورڈز یا الفاظ کہتے
تو Keyword Analysis کیا ہے ، Keyword Analysis میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہم نے کونسے کی ورڈز اپنی ویب سائیٹ میں شامل کرنے ہیں یا کس طرح کے کی ورڈز ہم اپنی ویب سائیٹ میں شامل کریں کہ ہماری ویب سائیٹ اگے بڑھ سکے، یا کیسے کی ورڈز پر ہم اپنی ویب سائیٹ کا ایس ای آؤ کریں کہ وہ سرچ انجنز میں اچھی جگہ رینک کرے

Competition Website Analysis

فرض کریں میرا کی ورڈ ہے Pakistan Fashion لیکن ظاہر ہے صرف یہ کی ورڈ میرا تو نہیں بہت سی ویب سائیٹس یہ کی ورڈ استعمال کر رہیں ہیں اور ہو سکتا ہے وہ سرچ انجنز میں ہماری ویب سائیٹ سے اوپر ہوں تو ان سب ویب سائیٹس کا ہم Analysis کرتے ہیں اوران کو ہر طرح سے پرکھ کر دیکھتے ہیں انکی خامیوں خوبیوں کو سامنے رکھتے ہیں، ان ویب سائیٹس کی اچھی چیزوں کو اپنی ویب سائیٹ پر اپلائی کرتے ہیں جیسے ان ہم دیکھتے ہیں وہ کونسے کی ورڈ ایسے استعمال کر رہے جو ہم سے رہ گئے تھے وغیرہ

Tag Optimization

اس Tag Optimization میں ہم ایج ٹی ایم ایل ٹیگز کا Tag Optimization کرتے ہیں ان ایج ٹی ایم ایل ٹیگز میں ہم اپنے کی ورڈزاستعمال کرتے ہیں کیوں کہ سرچ انجنز، ٹیگز کو کچھ اہمیت دیتے ہیں جیسے بولڈ ٹیگز یا ہیڈنگ ٹیگز وغیرہ تویہ بھی تھوڑا بہت رینکنگ کی بڑھانے میں کردار ادا کرسکتے
اس میں میٹا ٹیگز، کی ورڈز، ٹایئتل، لینگوئج ، ڈسکرپشن، الٹ ٹیگز، بولڈ ٹیگز، ہیڈنگ ٹیگز ان سب کا ہم اس انداز سے Optimization کرتے ہیں کہ ہماری ویب سائیٹ کی رینکنگ پر اچھے اثرات پڑیں

 یو آر ایل URL

یہاں  یو آر ایل سے مراد آپ کی مین ویب سائیٹ اور پھر اسکے انٹرنل پیجز ہوتےہیں، یہاں ہم نے دیکھنا ہوتا کہ ہمارے یو آر ایل کیسے ہونے چاہیں انکی لمبائی کتنی ہونی چاہیئے، کیا ان یو آر ایل میں ہم اپنے کی ورڈز بھی استعمال کر سکتےاور ان سے کیسے فایڈہ آتھایا جا سکتا، وغیرہ

Favicon

جب آپ کوئی بھی ویب سائیٹ براؤزر بار میں اوپن کرتے ہیں تو اس بارکے ساتھ آپکو چھوٹا سا Favicon نظر آئے گا ہر ویب سائیٹ کا اپنا یونیک Favicon ہوتا ہے جو اس کی پہنچان بن جاتا ہے

Canonicalization Installation

اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کی سائیٹ ایک ہی یوآرایل پر ری ڈائریکٹ ہونی چاہیئے نہ کہ دو مختلف یو آرایل پر آپ کی ویب سائیٹ کھل رہی ہے تو آپ کی ویب سائیٹ کے سرچ انجنز کے کرالر آپکی ویب سائیٹ کو دو مختلف سائیٹس مان کر ایک کو ڈپلیکیٹ سمجھ کر اسکی رینکنگ ڈاون کر سکتے ہیں

اورWeb speed Optimization

  CSS & Java Script Optimization

اگرہماری ویب سائیٹ لوڈ ہنے میں زیادہ ٹائم لے رہی تو یوزر ہماری سائیٹ پر زیادہ دیر نہیں رکے گا
اس کے علاوہ سرچ انجنز کے کرالر سپائیڈر کو بھی مشکل کا سامنا ہوگا اور وہ اسکو ایک منفی انداز میں لے گا اس لئے ہمیں چیک کرنا پڑتا ہے کہ ویب سائیٹ کی سپیڈ سرچ انجنز کے معیار کے مطابق ہو اور اس کے علاوہ اگر یوزر ہماری سائیٹ پر آتا ہے اور جلد ویب سائیٹ بند کر دیتا ہے تو اس سے باؤنس ریٹ بڑھتا ہے جو ہماری ویب سائیٹ کی رینکنگ پر ایفیکٹ کرتا ہے
اس کے لئے ہمیں دیکھا جاہیئے اگر ہماری ویب سائیٹ میں ایسی جاوا سکرپٹ اور سی ایس ایس کی فائل تو استعمال نہیں ہو رہیں جو سپیس یا میموری زیادہ استعمال کر رہیں ہیں اور ہماری ویب سائیٹ کی سپیڈ کو کم ہونے کا سبب بن رہیں اور ایسا ہورہا تو ہم  ان کی فائلز کا اپٹامائزیشن ایسے کریں گے کہ وہ میموری کو کم استعمال کریں اور لوڈ ہونے میں  کم ٹائم لیں

Optimization of Non Index Able Attribute

سرچ انجنز زیادہ تر ٹیکسٹ یا لکھے ہوئے الفاظ کو پڑھ سکتے ہیں، وہ امیجز، وڈیوز، ای فریم، وغیرہ کو سرچ انجنز نہیں پڑھ سکتے تو ایسا کیا کام کیا جائے کہ ان سب چیزوں کو سرچ انجنز پڑھ سکیں کہ امیجز، وڈیوز، ای فریم، وغیرہ میں کیا تبدیلی کی جائے اس کے لئے ہم مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں جسے امیجز کے لئے آلٹ ٹیگز استعمال کرتے ہیں تو سرچ انجنز امیجز کے بارے میں جان لیتے ہیں یہ سب Non Index Able Attribute اس زمرے میں آتے ہیں جن کو سرچ انجنز کرالر نہیں کر سکتے وہ صرف ہمارے سورس کوڈ کرال کرتے ہیں اس لئے ہم انکو سرچ انجنز فرینڈلی بناتے ہیں، ہمیں دیکھناچاہیے کہ
امیجز، ائی فریمز، ویڈیوز کی وجہ سے تو ہماری ویب سائیٹ لوڈ ہونے میں دیر نہیں لگا رہی ، اگر ہماری ویب سائٹ کی سپیڈ اچھی ہوگئ تو ہمیں بھی فائدہ یوزر کوبھی مشکل نہیں ہوگی اور کرالر بھی آرام سے ہماری ویب سائیٹ کو کرال کریں گے جس سے ہماری ویب رینکنگ میں بہتری آئے گی اس لئے یہ سب ایس ای آو آپڈیمائیز ہونا بہت ضروری ہے اور یہ سب ایس ای او پراسس سے گزرنا پڑے گا

Text/Code Ratio

ہماری ویب سائیٹ کا ٹیکسٹ اور کوڈ ریشو نارمل ہونا چاہیے یہ نہ ہو کہ پر پیچ پر چند لائینز کاٹیکسٹ ہو اور سب کوڈز ہی  کوڈز ہوں زیادہ ٹیکسٹ ہو تو کوئی خاص منفی اثر نہیں پڑے گا لیکن اگر ویب سائیٹ کے پیجزپر ٹیکسٹ کم ہو تو سرچ انجنز اس ویب سائیٹ کو مثبت نظر سے نہیں دیکھتیں
اپ اپی ویب سائیٹ کا Text/Code Ratio گوگل میں Code to Text Ratio Checker سرچ کریں بہت سے ٹولز آ جائیں گے کسی بھی ٹول کو استعمال کرکے آپ چیک کر سکتے کم از کم ٹیکسٹ کوڈ ریشو 10 فیصد ہونی چاہیئے

Linking ( internal, external, broken)

 سے مراد اگرآپ  اپنی ویب سائیٹ کے کسی لنک پر کلک کریں اور اس سے آپ کی اپنی ہی سائیٹ کا کوئی پیج کھل جائے جائے تواسکو آپ کا انٹرنل لنک کہیں گے

External Links

  سے مراد وہ لنکس ہیں جن پر کلک کرنے سے آپ اپنی سائیٹ کے بجائے کسی دوسری ویب سائیٹ کا لنک کھل جائے جیسے اکثر اپکی ویب سائیٹ پر فیس بک، ٹویٹر، وغیرہ کے لنک ہوتے ہیں جن کو ایکسٹرنل لنکس کہا جاتا ہے

Broken Links

  سے مراد آپ کی ویب سائیٹ کے وہ لنکس ہیں جو پروگرامر کی غلطی کی وجہ سے یا یوآرایل میں کسی خرابی کی وجہ سے ان پر کلک کیا جائے تو ان پر ایک ایرر آتا ہے اورمطلوبہ پیج نہیں کھلتا
ہمیں یہ دیکھنا چاہیئے کہ ہماری ویب سائیٹ کتنے ایکسٹرنل لنکس ہونے چاہیے جو 5-6 سےزیادہ نہ ہوں لیکن مجبوری ہو تو زیادہ کر سکتے ہیں انکا انٹرنل لنکس کا ریشو مدنظر رکھنا چاہیے جو زیادہ سے زیادہ 20 لنکس ہو سکتا لیکن اکثر ایسا ہوتا کہ ہمیں انٹرنل لنکس کی ضرورت زیادہ ہوتی تو ہم زیادہ بھی بنا سکتے ہیں اور جتنی ضرورت ہے اتنا بنا سکتے ہیں لیکن یہ دھیان میں رہے کہ ایک ہی لنکس کو ویب سائیٹ کے لفٹ بار، سائیڈ بار، ٹاپ اور باٹم میں نہیں دینا چاہیے، لیکن بروکن لنک ایک بھی نہیں ہونا چاہیے۔ فرض کریں ایسا ہو بھی جائے تو ہماری ویب سائیٹ کو 404 ارر والا پیج شو کروانا چاہیئے اس سے ہماری ویب سائیٹ کی یوزیبلیتی بڑھتی ہے اور اس کی سرچ انجن اہمیت دیتا ہے

Doctype

آپ کسی بھی ویب سائیٹ کے کسی بھی پیج پر رائیٹ کلک کریں تو جو ونڈو سامنے آتی اس میں ویو سورس لکھا ہوا نظر ائے گا اس پر کلک کریں تو آپ کو اس پیچ کا سورس کوڈ نظر آنے لگتا ہے جو

W3 Schools Validation

w3  ڈبیلو 3 سکولز کے کچھ سٹرنڈرڈ ہوتے ہیں جن کے مطابق وہ ویب سائیٹ کی آپٹامائزیشن کرتے ہیں
اسکی اپنی ایک گائیڈ لائن ہے جیسے ویب سائیٹ کی سہی نیسٹنگ ہونی چاہیے، سارے ٹیگز چھوٹے کیریکٹرز میں ہونے چاہییں، یا جو بھی ایٹربیوٹ ہے وہ انورٹڈ کاماز میں ہونے چاہییں وغیرہ اس کے مطابق وہ ہماری ویب سائیٹ کو اینلائز کرتا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے ہمارے ویب سائیٹ w3 سکولز کے معیار کے مطایق بنی ہے یا اس میں کچھ غلطیاں یا ایرر ہیں وہ آپ validator.w3.org کے لنک پر جا کر چیک کر سکتے W3 Validation کو بھی سرچ انجنز اہمیت دیتے ہیں کہ آپ کی سائیٹ انکے معیار پر کتنی پوری اترتی ہے

Sitemap File اور Robots.txt File

ان فائلز پر آگے چل کر مزید بات ہوگئی، یہ  وہ فائلز ہوتی ہیں جن کو سرچ انجز میں سب مٹ کرنا ہوتا ہے اور ویب سائیٹ کی روٹ ڈائریکٹری میں انسٹال کرنا ہوتا ہے

Content Optimizations

ابھی تک ویب سائیٹ میں جو بھی کنٹینٹ تھا جیسے Non Index Able Attribute ، سورس کوڈ ، Favicon,Text images, وغیرہ چیک کیا جاتا ہے اور اسکی آپٹامائزیشن کی جاتی ہے

Conversion Form

مختلف قسم کے فارمزہماری ویب سائیٹ پر ہوتے ہیں جسے کنٹیکٹ اس فارم، انکوائری فارم، فیڈبیک فارم وغیرہ یعنی یہ چیک کیا جاتا ہے یوزر اور ویب ماسٹر کے رابطے کے لئے کوئی فارم ویب ائیٹ پر موجود ہے کہ نہیں اس کو سرچ انجنز ایمیت دیتے ییں

Client Side webpage Analysis

ابھی تک ہم نے جو بھی Analysis کیا وہ سارا Client Side webpage Analysis ہی تھا اس کے علاوہ اگر کوئی تجویز ہو تو ہم بھی ہم کلائنٹ کو دے سکتے کہ اس طرح آپ کی سائیٹ میں مزید بہتری آ سکتی اگر کوئی کمزوری ہو ویب سائیٹ میں تو اس کو تلاش کیا جاتا ہے

Usability

اس میں ہم چیک کرتے یں یوزر ہماری ویب سائیٹ پر آنے کے بعد کسی مشکل کا تو شکار نہین کیا وہ ہماری ویب سائیٹ کے تمام لنکس آسانی سے دیکھ سکتاہے یا جو بھی مشکلات یوزر کو ہوتیں اس کا جائزہ لیا جاتا اور اس کو دور کیا جاتا
یہ تھا آن پیج آپٹامائزیشن کا سرسری جائزہ، اگے ان پر تفصیل سے بات ہوگی

مزید ایم ٹپس

کی ورڈ ری سرچ

ٹارگیٹڈڈ آڈیئنس

گوگل کا ٹول کی ورڈ ٹرینڈز – اس سے پتہ چلتا ہے کیا چیز ٹرینڈ کر رہی ہے یہاں آپ اپنا ٹاپک لکھ کر سرچ کر سکتے ہیں
فرض کریں ہم نے ایک کی ورڈ چنا سمر فیشن اور گوگل ٹرینڈ میں لکھ کر سرچ کیا
اس سے پتہ چلے گا کونسے ملک میں یہ کی ورڈ زیادہ سرچ ہو رہا اور گوگل ٹرینڈ میں فلٹرز بھی لگے ہیں جس سے آپ اپنے کی ورڈ کے بارے میں مزید معلومات لے سکتے ہیں جیسے ملک ، تاریخ وغیرہ، ملک میں کونسے سٹیٹس میں یہ کی ورڈ سرچ کر رہا، اس کے علاوہ شہر کونسے ہیں جہاں یہ ٹرینڈ کرتا اور اس کے علاوہ ری لیٹڈ کی ورڈ کیا ہیں، اس سے ٔاپ جان سکتے ہیں آپ کے کی ورڈ کی کیا پوزیشن ہے، یہ سزینل کی ورڈ ہے اس سے آپ جان سکتے مہینے کے کن دنوں میں یہ اوپر جاتا اور کب نیچے آتا
یہ تو ہو گیا آپ کے کی ورڈ کی صورت حال

اسکے بعد آپ ہیں کی ورڈ ریسرچ پر اس کے لئے ہم گوگل پلینر ٹول استعمال کریں گے

اس میں لکھیں سمر فیشن اور گٹ ائیڈیاز پر کلک کریں،یہ ٹول اصل میں ایڈورٹائیزرز کے لئے استعمال کیا جاتا ہے لیکن ہم اس کو پبلشرز کے لئے استعمال کرتے ہیں

اب آپ نے دیکھنا ہے ” کی ورڈز ایڈیاز” کیا ہیں
اوپر چارٹ نظر آ رہا ہے جس پر آپ اس کی ورڈ کے ایک سال کے بارے میں جان سکتے کہ یہ کب اوپر گیا اور کب نیچے آیا اور ہر ماہ اس کی کتنی سرچز ہوئیں ہیں

ایس ای او میں ” ریلی وینسی” بہت اہم کردار ادا کرتی اب ہم نے ایک تو اپنے کی وڑڈ کی مین سرچز دیکھنی ہیں اسکے علاوہ ریلیونٹ سرچز بھی دیکھیں گے
اور آپ کی ویب سائیٹ زیادہ رینک ہوتی جب آپ کے کی ورڈز ایک دوسرے سے زیادہ رینک ہوتےہیں

کی ورڈ ری سرچ امپورٹنٹ نوٹ

تین اہم چیزیں دیکھنی ہوتی ہیں
ماہانہ سرچز
کمپیٹیشن
ورتھ

اگر ایک کی ورتھ اچھی ہے کمپیٹیشن لو یا مقابلہ کم ہےے( تو جلد آپ کی سائیٹ سرچ انجنز میں آ جائےگی) او سرچز زیادہ ہیں تو یہ کی ورڈ آپ کے کام کا ہے

تنیوں اہم چیزوں کا کمپینیشن بنانا ہوتا ہے تاکہ جو کی ورڈ آپ چن رہے ہوں اسکا فائدہ ہو

اب آپ مختلف کی ورڈ اس میں سرچ کرکے پریکٹس کر سکتے ہیں کہ کونسے کی ورڈ کتنے سرچ ہو رہے
اب اگر ہم ایک اور کی ورڈ لیتے ہین ” سوشل میڈیا” اور گیٹ آئیڈیاز پر کلک کرتے ہیں تو
سول و ڈاٹ کام سے بھی مددلے سکتے ہیں یہ مددگار ویب سائیٹ ہے
گوگل میں سرچ کرکے بھی مدد لے سکتے ہیں اس کے بیج کے آخر میں  ریلیٹڈ کی ورڈز اور لانگ ٹیل کی ورڈز لکھے ہوتے ہیں
بنگ ہے یاہو ہے اور بہت سارے ٹولز” کی ورڈ ری سرچ ٹولز ” ہیں لیکن سب سے بہترین ٹول ” گوگل کی ورڈ پلینر ” ہی ہے

 آن پیج ایس ای او

ورڈ پریس کے ڈیش بورڈ کی سیٹنگ پھر رائیٹنگ میں جاکر
اس میں اپ ڈیٹ سروسز کا اپشن ہوگا اسی پیج پر ایک لنک ہوگا ” اپ ڈیٹ سروسز ” اس پر کلک کرکے اگلے پیج پر ایک ویب سائیٹس کی لسٹ ہوگی اسکو کاپی کرکے آپ نے اپنے ورڈ پریس کے پیج پر پیسٹ کر دینا ہے اور سیو کر دینا ہے
ان کو پنگ سروسز کہتے ہیں اس کا مطلب ہوتا ہے کہ جب بھی آپ کوئی پوسٹ کریں گے تو یہ سروسز سرچ انجنز کو بتائے گی کہ اپ نے کچھ پوسٹ کیا ہے

جوآپ کے مین ٹاپک ہیں انکو آپ نے ویب سائیٹ کا مینو بنانا ہوتا ہے

ویب سائیٹ سیٹنگ

اس کے علاوہ اسکو کہیں بھی شئیر ضرور کریں آج کل گوگل سوشل میڈیا کے کنٹینٹ کو بھی انڈیکس کرتا ہے جیسے
گوگل پلیس میں اپ پروفائل میں اپنی ویب سائیٹس ایڈ کریں
فیس بک میں شئیر کریں ایک پیج بنائیں اپنی سائیٹ کا اور اباؤٹ میں سائیٹ کا لنک دیں

پھر لنکڈان میں پروفائل بنا کر اس میں اپنی سائیٹ آیڈ کریں
پھر ٹویٹر میں پروفائل بنائیں اور اسمیں اپنی سائیٹ کا لنک دیں
پھر ایک بہت اہم سائیٹ ہے ” سکوپ اٹ” اس میں پروفائل بنائیں اسکو گوگل بہت جلد انڈیکس کرتا ہے
یہاں کریایٹ اے ٹاپک پر آپ لنکس اور پوسٹس کر سکتے ہیں جو بھی لنک اپ ایڈ کریں گے وہ پوسٹ اپ کو یہاں نظر آئے گی آپ ایک ٹاپک کری ایٹ کر لیں اور اس میں پوسٹ کرتے رہیں
اس کے علاوہ گوگل ویب ماسٹر ٹول میں جا کر وہاں اپنی ویب سائٹ ایڈ کر دیں
اس کے علاوہ بنگ میں جو کر اس میں بھی اپنی ویب سائیٹ ایڈ کر دیں بنگ میں چلا گیا تو سمجھ لیں یہ یاہو میں چلا گیا، یہ سب نئی ویب سائیٹ کے لئے ہوگا اور پھر نئی پوسٹس جو آپ ایڈ کریں گے تو جلد آیڈ ہوں گی
اس میں نے سیکھا ویب سائیٹ پبلش کیسے کرتے ہیں

 کمپیٹیٹرز

یہ ایک کمپیٹریٹر سائیٹ وائیز ہوتا ہے اور دوسرا کمپیٹیٹر ہوتا ہے آرٹیکل وائزجسے ہم نے کوئی چیٹ پر سائٹ بنائی تو ہمارے مقابلے میں انے والی ویب سائیٹس ہمارا سائیٹ ویز کمپیٹر ہوگا مطلب اسکے اور آپ کے ارٹیکل اور موضوع ایک سا ہو،اور کسی آپ کے ارٹیکل کا مقابلے میں آنے والے ارٹیکلز آپ کے ارٹیکلز کمپیٹرز ہوں گے

الیکس ڈاٹ کام پر اپنے کمپیٹر کو چیک کرنا ہوگا دیکھنا ہوگا اسکی کیا کیاتفصیلات ہیں اس کے بیک لنکس کنتے ہیں کہاں کہاں یہ رینک کر رہا ملک کون سے ہیں باونس ریٹ کیا ہے وغیرہ اس کو دیکھ کر آپ بھی سٹریٹیجی بنائیں گے

اگر آپ نے ارٹیکل وائس کمپیٹیٹر دیکھنا ہے تو آپ اپنے ارٹیکل کا ٹائیٹل گوگل میں لکھیں اور سرچ کریں جو جو آرٹیکلز آ رہے وہ آپ کے سنگل پوسٹ کمپیٹرز ہیں پھر آپ انکی پوسٹس کو چیک کرتے ہیں کہ وہ کیسے لکھ رہے اور اس میں کیا ایسی چیز ہے جو وہ اچھا رینک کر رہے اور کہاں کہاں سے بیک لنک لیا ہوا اب بھی ایسی ہی بیک لنک بڑھاتے، پوسٹس کو اپ ڈیٹ کرتے رہیں وغیرہ

 اپٹیمازنگ ارٹیکلز

یہاں ہم سنگل ارٹیکل آپٹیماز کرنا سیکھیں گے

ایک تو ہوتا ہے ویب سائیٹ کا موضؤع جس کے مطابق ہے کیٹگریز بناتے ہیں، ویب سائیٹ کو آپٹیمائیز کرتےہیں پھر آتا ہے سنگلز ارٹیکلز کی بنیاد پر اپنی ویب سائیٹ کو آپٹیماز کرنا

ایک ویب سائیٹ شاز و نادر ہی کسی کی ورڈ پر سرچ انجنز میں آتی ہے، آصل ایس ای آو ہوتی ہی سنگل ارٹیکلز کی بنیاد پر ایک سنگل پیج کے لئے ہوتی ہے اور گوگل ہر ارٹیکل  اورہر پیج کو  کو الگ الگ نظر سے دیکھتا ہے اس کے لئے ایک پیج ایک ویب سائیٹ کے برابر ہے

مین کی ورڈز تو آپ اپنی ویب سائیٹ ( ٹائئیٹل، ڈسکرپشن، وغیرہ) میں ڈال دیتے ہیں
اس کے بعد جو انر کی ورڈ ہوتے ہیں جیسے شارٹ ٹیل، لانگ ٹیل کی ورڈ، مین کی ورڈز، انر کی ورڈز، ریلی ونٹ کی ورڈز، لیٹن سیون ٹیکس انڈیکس ( ایل ایس ای)
یعنی گوگل ہر آرٹیکل کو رینک کرے گا الگ الگ سے لیکن ساتھ آپ کے مین ویب سائیٹ سے بھی آئیڈیا لے گا

کی ورڈز کی بھی بہت سے اقسام ہیں جیسے
پرائمری کی ورڈز یا مین کی ورڈز یعنی جس پر ویب سائیٹ بیس کرتی ہے اور
سیکنڈری کی ورڈز یا سب کی ورڈز جو مین کی ورڈز کے ساتھ آرٹیکلز میں استعمال ہوتے ہیں

ایک اہم بات

جب بھی کوئی ویب سائیٹ بنائیں اس میں آنے ڈپلیکیٹ پوسٹ نہیں کرنی اس لئے سوچ سمجھ کر پوسٹ کریں وہ اپ کی ایسی پوسٹ ہوگی جسے آپ نے ہمیشہ اپ ڈیٹ کرتے رہنا ہے جو بھی نئی بات اس ٹاپک پر آئے گی آپ نے اسی پوسٹ کو اپ ڈیٹ کرنا ہے یہ نہیں کہ ایک اور پوسٹ اس موضؤع پر بنا دی یعنی اسی پوسٹ کو اچھاکرتے رہنا ہے، اس ای او میں ناکامی کی یہ خاص وجہ ہوتی کہ وہ ایک ہی موضوع پر کی گئی پوسٹ کو بار بار کرتے رہتے ہیں جبکہ اصل طریقہ یہ ہے کہ ایک موضوع یا ٹاپک بنائیں پھر اسکو ہی اپ ڈیٹ کرتے رہیں

اگر آپکی ایک ہی پوسٹ ہو گئی ایک ہی موضوع پرتو گوگل اسکی اہمیت دے گا اور جب بھی آپ اس کی اپ ڈیٹ کریں گے توگوگل اسکی رینکگ میں مزید اضافہ کرے گا اس لئے سوچ سمجھ کر پوسٹ کریں اسکا اچھا سا پرما لنک بنائیں اور اپ ڈیٹ کرتے رہیں اگر آپ نے ایک موضوع پر بہت سے پوسٹ کیں تو گوگل آپ کی دوسری پوسٹ کو اہمیت نہیں دے گا

فرض کریں ہم نے ایک پوسٹ لکھنی ہے اس کے کی ورڈ کو سب سے پہلے ہم نے گوگل میں سرچ کرنا ہے آپ دیکھیں گے کہ اس کی ورڈ کی سرچ پر جو بھی سائیٹس ائیں فی تقریبا سب سائیٹ کے لنک میں وہ کی ورڈ ہوگا اور ڈسکرپشن اور ٹایٹیل میں بھی ہوگا جو دس ویب سائٹس ائیں وہ آپ کی کمپیٹیڑز ہیں اور گوگل سرچ کے آخر میں اپ ری لیٹڈ کی ورڈز بھی دیکھ سکتے ہیں یہاں سے بھی آپ ائیڈیا لے سکتے ہیں کہ آپ ان سے بھی کی ورڈز لے سکتے لیکن آصل میں ہم نے گوگل پلینر میں دیکھنا ہے
تو ہم چلتے ہین گوکل کی ورڈ پلینر کی جانب

کی ورڈ ری سرچ فار سنگل ارٹیکل

گوگل کی ورڈ پلینر میں اپنا کی ورڈ لکھنا ” سرچ کی ورڈز فار ایڈ کی ورڈ ائیڈیاز”

اس کے نیچے ” یور لینڈنگ پیج” ہے اور پھر ” کیٹگری” ہے لیکن یہ صرف ایڈرٹائیز کے لئے ہے ہمارے لئے دو آپشنز نہیں ہیں

اسکے بعد ” ٹارگیٹنگ:” ہے جس سے آپ کوئی ایک ملک بھی سلیکٹ کر سکتے جہاں سے آپ آپ دیکھ سکتے کہ یہ کی ورڈ اس ملک میں کتنا سرچ ہو رہا یا کوئی ملک یا کوئ ٹاؤن بھی آ سکتا
پھر سرچ انجنز سلیکٹ کر سکتے

پھر نیگٹو کی ورڈز کا اپشن بھی ہے پھر ڈیٹ وغیرہ ہوتی کہ کتنے عرصے کا ڈیٹآ چاہیے ایک سال کا ڈیٹا بہت ہے
گوگل کی ورڈ پلینر پر دیکھنے کے بعد ہم گوگل ٹرینڈ میں دیکھتے ہیں ویسے گوگل ٹرینڈ ٹاپک کے حوالے سے اچھا ہوتا ہے اس کی ورڈ کی دیکھنے کی خاص ضرورت نہیں تھی لیکن بھی ایک بار دیکھ لیتے ہیں کہ ٹرینڈ کہاں جا رہا
جس میں کچھ کی ورڈز اور کیو ریز بھی مل جاتے اور یہ بھی پتہ چل جاتا کہ کہاں کس ملک میں کیا سرچ ہو رہا ہے

آپٹیمازینگ آرٹیکل جاری ہے

ہم نے کی ورڈز چن لئے تھے اب ہم نے ایک ارٹیکل لکھا جس میں ان کی ورڈز کو شامل کیا گیا کم از کم ارٹیکل 500 ورڈز کا ہونا چاہئے یہ ایس ای اؤ اور گوگل فرینڈلی ہونا چاہیئے اس گوگل کی ورڈز تلاش کرنے میں آسانی ہوتی ہے اور آپ ڈیٹ بھی ہوتا رہتا ہے

ارٹیکل کے مختلف حصے ہوتے ہیں جسے
پہلے ٹائیٹل ہوتا ہے پھر
اسکا انٹرو ڈیکٹری پیرا گراف ہے
پھر اسکا مین پیرا گراف ہوتا ہے جہاں ایکشن ہو رہا ہوتا ہے
اور آخری پیرا گراف میں اسکو سمری آتی ہے

آپ رائیٹر ہیں تو آپ جانتے ہوں گے پہلا پیرا گراف انٹروڈیکٹری ہوتا ہے
دوسرا ایکش یا مین پیرا گراف اور اخری سمری پیرا گراف ہوتا ہے
اگر ہم کچھ سکھا رہے تو کچھ ایسا ارٹیکل بنے گا

ہم کیا سیکھنے جا رہے ہیں
پھر ہم بتائیں گے کیسے ہوگا اور
آخر میں ہم نے بتایا ہم نے کیا کرلیا اور مستقبل میں کیا ہو سکتا ہے
اس کو ہم ورڈ پریس میں کچھ ایسے لکھیں گے

پہلے ٹائیٹل جو ” ایچ 1 ” میں استعمال ہوتا پھر

پورا ارٹیکل اور سب ٹائیٹلز کو ہم نے ” ایچ 2 ” میں لکھنا ” ایج 2″ میں 2-3 بار استعمال کر سکتے لیکن بڑا آرٹیکل ہے تو زیادہ بھی استعمال کرسکتے
ان ٹیگز کو سرچ انجنز اہمیت دیتے اور وہ سمجھتے ان میں کوئی خاص بات ہے ان کو لازمی ایڈ کریں

ٹایٹل کو 50 کیریکٹرز سے زیادہ کا نہیں ہونا چایئے اس کی وجہ یہ ہے کہ گوگل جو ٹائٹیل میں 50-60 ورڈز سے زیادہ شو نہیں کرتا

ٹائیٹل میں کی ورڈ کو دو بار استعمال نہیں کر سکتے یہ کی ورڈ سٹفنگ میں آتا ہے یا سپیمنگ میں آتا ہے اور گوگل کا الگورتھم ” پینگوئین ” اسی چیز پر نظر رکھتا ہے کہ کی ورڈز حد سے زیادہ تو استعمال نہیں ہوئے اپنے مین کی ورڈ کی ٹائیٹل میں استمال کریں ایک آدھ بار ” ہیڈنگ” میں استعمال کریں اور پیراگراف میں بھی استعمال کرسکتے لیکن اسکی ایک لمٹ ہے

پرمالنکس انٹرلنکنگ ٹائیٹل ڈسکرپشن

پرما لنک کی ڈیفالٹ سیٹنگ کو ورڈ پریس میں ” پوسٹ” پر کریں
پرما لنک سوچ سمجھ کر بنائیں اور اسکو بعد میں تبدیل نہ کریں ورنہ گوگل میں سرچ کرنے سے ایرر آئے گا، ٹائٹیل ڈسکرپشن، ارٹیکل وغیرہ میں اپ ڈیٹ کر سکتے ہیں لیکن پرما لنک کو تبدیل نہ کریں کیونکہ یہ ایک یونیک ایڈریس بن جاتا ہے اور تبدیل کرنے سے گوگل میں ناٹ فاونڈ کا ایرر آ ئے گا
پرما لنک میں اتنے ورڈز ہوں کہ وہ گوگل سرچ میں نظر آئیں اور گوگل ان کو ” کٹ” نہ کرے اسے لئے 4 ورڈز کا پرما لنک بہتر رہے گا

انٹرلنکنگ

اگر آپ نے ویب سائیٹ میں اس ارٹیکل کے قریب قریب کوئی دوسری پوسٹ کی ہوئی ہے تو اسکو اس پوسٹ سے لنک کریں اور اس پوسٹ کا یو آریل اس پوسٹ میں‌دیں اسکا فائدہ یہ ہے کہ دو ری لیٹڈ ارٹیکلز کے درمیان ریلی وینسی بڑھتی ہے اور دوسرا فائدہ یہ ہے گوگل اس پرانے ارٹیکل کو دوبارہ بھی کرال کر لے گا ارر ریلیوینسی بڑھنے کی وجہ سے ارٹیکلز کی رینکگ بڑھ سکتی ہے گوگل ریلیوینسی کو اہمیت دیتا ہے اس لئے ارٹیکلز میں انٹرلنکنگ کرنا نہ بھولیں اور لیکن ان ارٹیکلز میں مطابقت ہونی ضروری ہے ان کی ورڈز کی بھی آپ انٹرلنک کر سکتے جو آپ کے کسی دوسرے ارٹیکل میں استعمال ہوئے ہیں
اگر آپ کا کوئی لنک نہیں بن رہا تو آپ ایک جملہ ایسا لکھ کر لنک کر سکتے جو یوزر کے لئے بہتر ہو جیسے مین کی ورڈ کے بارے میں لکھا جا سکتا کہ اگر آپ نئے ہیں تو مزید آرٹیکل اس موضوع پر یہاں پڑھ سکتے اور اسکے بعد چند لنکس دے سکتے

نوٹ

جب بھی آرٹیکل لکھیں اسکو سپیلنگ اور گرئمر پوسٹ کرنے سے پہلے چیک کریں

ورڈ پریس میں ” ٹیگز” نہ بنائیں تو بہتر ہے کیونکہ یہ اصل میں ڈپلیکیٹ پیج بنایا ہے یعنی لنک سے بھی وہی اوپن ہوتا اور ٹیگ سے بھی وہی پیج اوپن ہوتا ہے

ایس ای اؤ یوسٹ میں پلگ ان کی جگہ پر “‌کی ورڈ” کے خانے مین کی ورڈ نہ بھی لکھیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ گوگل اب اسکو اتنی اہمیت نہیں دیتا ہاں یاہو اوربنگ اسکی اہمیت دیتے یہں اور ٹایٹیل اور ڈسکرپشن میں کچھ چینج لکھنا چاہیے یہ نہیں کہ ٹائیٹل اور ڈسکرپشن ایک ہی ہوں

امیج آپٹیمازیشن

ہر پوسٹ میں کم از کم 2 سے تین امیج  میں پوسٹ کریں اور امیج خود بنائیں اس کا ایک فائدہ  یہ  ہے کہ امیج گوگل سرچ میں آتی ہے اور یوزر آتے ہیں  اگر خود نہیں بنا سکتے تو فوٹو شاپ میں اسکو تھوڑا سا ایڈٹ کرکے فائل مینو میں جا کر سیو فار ویب اینڈ ڈیوایسز کر دیں تاکہ اسکا سائز کم ہو جائے اور وہ امیج تبدیل ہو کراپ کی ہو جاتی ہے
اگر آپ گوگل سے کاپی کرکے دوبارہ بغیر ایڈیٹ کئے ڈالیں گے تو وہ سرچ انجز میں اچھی جگہ رینک نہیں ہوگی یا آئے گی ہی نہیں کیونکہ آب گوگل نے امیجز پر بھی فلٹر لگا دیا ہے
ایڈیٹ کرنے کے بعد امیج کو مین کی ورڈ کا نام دے دیں اس کے علاوہ امیج کے الٹرنیٹ ٹییگ میں بھی میں کی ورڈ دیں تاکہ گوگل سمجھ سکے کہ یہ امیج اصل میں ہے کیا، امیج کا کیپشن اور ڈسکرپشن ایڈ کرتے ہیں تو وہ اور بھی اچھا ہو جائے گا لیکن الٹ ٹیگ تو ہر قمیت پر ایڈ کریں

اگر ہو سکے تو ” وڈیو” بھی ارٹیکلز میں ایڈ کریں

اس کے بعد اپ نے ارٹیکل پبلش کر دینا

ٹریکنگ دی کی ورڈ

اس کے بعد ہم نے کی ورڈز کو ٹریک کرنا تاکہ ہمیں پتہ چلے کہ کی ورڈز میں کیا بہتری آئی ہے یا آسکتی ہے پیڈ ٹول میں ہے اس سے serpbook. com آپ دیکھ سکتے یہ ایک بہت ہی زبردست ٹول ہے اور اسکی ٹرینکنگ بھی اچھی ہے اور منٹ منٹ کی خبر دیتا آپ کے کی ورڈز کے بارے میں

اس کے علاوہ ایک فری ٹول ہے moonsey.com
اس میں اپ ٹریک کر سکتے گوگل کی ورڈ پوزیشن چیکر میں‌دیکھ سکتے لیکن یہ گوگل کے پہلے 10 پیجز کا بتائے گا

مزید ٹپس

اس میں مختلف ٹپس پر بات ہو گئی، یہاں بتا دیں کہ کچھ لوگ‌دعوی کرتے ہیں کہ ہم ایک ہفتے میں کی ورڈ رینک کر دیں گے پندرہ دن میں کردیں گے ایک بات یہاں واضع کر دیں کہ کوئی بھی کی ورڈ کی اللیگل طریقہ سے ریننک کرے گا یا بلیک ہیٹ ایس ای اؤ کا استعمال کرے گا  تو آخر میں نقصان ہی ہوگا یہ وہ لانگ ٹرم تک سٹیبل نہیں‌رہے گا اس لئے سب کچھ نیچرل طریقہ سے کریں
نئی ویب سائیٹس پر سرچ انجنز کا کرالر کچھ ٹائم لیتا ہے لیکن پرانی ویب سائیٹ اور روز اپ ڈیٹ ہونے والی ویب سائیٹ پر کرالر ہر گھنٹے بعد بھی کرال کرتا رہتا ہے
کچھ سائیٹس پرپر منٹس کے بعد کرال کرتے ، ان کو سپائیڈر بھی کہتے، روبوٹ بھی کہتے ہیں انکو سوفٹ وئیر بھی کہتے جو کرال کرتے پھردوسرا سوفٹ ویر جسیے انڈیکسر کہتے انڈکس کرتا ہے ، کرالرویب سائٹ کے کوڈ کو کرالر کرتے ہیں

اگر ہم نے آن پیج ایس ای اؤ چھی کی ہے تو بغیر آف پیج ایس ای اؤ کے بھی گوگل اس کو رینک کر دے گا لیکن اس میں بہت ٹائم لگے گا جو چھ ماہ بھی ہو سکتا ہے لیکن اس کے لئے ہمیں آرٹیکل کو وقت بے وقت آپڈیٹ کرتے رہنا ہوگا کیوں کہ کوئی چیز مکمل نہیں ہوتی، اس لئے مختلف انداز میں اپ ڈیٹ کرنا پڑٹا رہتا ہے اور بفیر آف پیج کے یہ پہلے پیج پر آ سکتا ہے

لیکن ہم چاہتے ہیں کہ جلد از جلد پہلے پیج پر آتے تو آن پیج پر کام کرنا پڑے گا کچھ لنک بلڈنگ کرنی پڑے گی تو کم از کم 3 ماہ میں یہ پہلے پیج پر آ سکتا ہے
اور یہ ایک نیچرل طریقہ ہے اور اگر اس کی رینکنگ ڈاوں بھی ہو تو تھوڑا بہت فرق پڑے گا

کی ورڈ کا تو آپ جانتے ہی ہیں دو سے زیادہ ورڈز کو لانگ ٹیل کی ورڈز کو کہتے ہیں اور دو کی ورڈز تک کو شارٹ کی ورڈز کہتے ہیں

یہ تھا ” آن پیج ایس ای اؤ

مزید ٹپس

بیسک کنسیپٹ کلیر ہونا چاہیے پھر ہم تھوڑی بہت ہیپلپ سے ہم وہ کام کر لیتے جیسے آپ کو کوڈنگ کا کنسیپٹ پتہ ہے تو اپ گوگل وغیرہ کی ہیلپ سے وہ کوڈ لکھ لیں گے
دوسرے کو دیکھ کر سائیٹ نہ بنائیں کہ اس کی سائیٹ چل رہی چلو میں بھی اسی جیسی سائیٹ بناتا ہوں ہو سکتا ہے وہ اس ٹاپک پر بہت کچھ جانتا ہو اس لے اس کی سائیٹ کامیاب ہو اگر اسی طرح اپ بھی کسی بھی ٹاپک پر بہت زیادہ معلومات رکھتے ہیں‌تو اس پر سائیٹ بنا سکتے ہیں ایسی کوئی سائیٹ بنانے کی کوشش نہ کریں جس کے بارے میں اپ کو معلومات نہ ہو  جو کچھ بھی کریں آپ اس کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہوں اس پر آپ کی اچھی خاصی ری سرچ ہونی چاہئے
اب ٹاپک کیسے چنیں تو اس کے لئے ایک سائیٹ ہے  ای زائن آڑٹیکلز
https://ezinearticles.com/  پر جائیں‌اور دیکھیں‌سرچ کریں
فرض کریں آپ جانوروں پر سائیٹ بنانا چاہتے ہیں آپ کو مزید سپیسفک ہونا پڑے گا اور آپ کسی مخصوص جانور کا انتخاب کریں تو زیادہ بہتر ہو گا
کیوں کہ سب جانوروں پر سائیٹ بنانا مشکل ہوگا نہ آپ کی اتنی معلومات ہوگی نہ آپ سے اتنے کی ورڈز رینک نہیں ہوں گے. نہ آپ اتنے سارے ارٹیکلز لکھ سکیں گے کیونکہ مقابلہ بہت سخت ہے اس لئے ایک ٹاپک پر سائیٹ بنائیں تو گوگل بہتر انداز میں رینک کرےگااور اس نچ یا ٹاپک کا انتخاب کریں جس میں اپ کی معلومات زیادہ سے زیادہ ہو اور اپکی دلچسپی ہو اور آپ کی پاس اتنا مواد ہو کہ آپ اس پر زیادہ سے زیادہ لکھ سکیں یہ آپ کا پلس پوائینٹ ہوگا گوگل بھی اچھا  رسپونس دے گا اور آپ کی سائیٹ  مضبوط ہوگئ اور یوزرز بھی دلچیسپی لیں گے دوسری جگہ ہے
https://flippa.com/
یہاں جا کر دیکھیں یہ ایک ویب سائئیٹ کی بائی اینڈ سیل سائیٹ ہے یہاں سے آئیڈیا لیں لوگ کونسی ویب سائیٹس خریدنے کی کوشش کرتے ہیں کن ویب سائیٹس کے ریٹس یا پرائس زیادہ ہے اور کون سے ٹاپکس چنے گئے ہیں

فرض کریں آپ ایس ای او کی ویب سائیٹ بنانا چاہتے ہیں کیوں کہ آپکو یہی آتا ہے اور آپ کی اسی میں دلچسپی ہے اب آپ کےذہن میں ایک نقشہ ہے کہ آپ نے ایک بلاگ بنانا ہے اور اس پر ٹپس اور ٹریکس شئیر کرنی ہیں

اس پلان کے بعد آپ نے اگلا قدم یہ آٹھانا کہ آپ نے  گوگل ایڈورڈ ٹول کو کھول لینا  اور اس میں اپنا  کی ورڈ لکھا  ایس ای اؤ ٹپس  اور آپ نے پاکستان کے یوزرز کو ٹارگٹ کرنا ہے تو پاکستان سلیکٹ کر لینا ہے پھر گٹ آئیڈیا  پر کلک کرنا ہے

جو اگلا پیج آیا وہ  کی ورڈ آئیڈیاز دے رہا ہے اور ایک لسٹ ہے جس میں بہت سے کی ورڈز ہیں اور انکی سرچز بھی لکھی ہیں کہ ایک ماہ میں یہ کی ورڈ کتنی بار سرچ ہو رہا
اس میں سے میں وہ کی ورڈز چن لیں جن کا کمپیٹشن لو ہے یا کم ہے اور انکو کمپائین کرکے اپنی ویب سائیٹ کی کیٹگری بنائیں اور سب کیٹگریز بھی بنا سکتے ہیں اس کے علاوہ آپ ٹاپکس بھی چن سکتے ہیں جن کی سرچز ایک ماہ میں  زیادہ ہیں

اس کے بعد ایڈ گروپ آئیڈیاز پر کلک کریں اور آئیڈیاز لیں یہ آپ کا ایک ویب سائیٹ کا سٹریکچر تیار ہو رہا ایک بیس رہی آیک آئیڈیا تیار ہو رہا  کہ آپ کیا کرنے والے ہیں اور آپ کی ویب سائیٹ کے مقاصد کیا ہیں

جیسے آپ کی ویب  سائٹ ایس ای اؤ کی ہے تو اپ نے جو کی ورڈز چنے جن پر کیٹگریز بن سکتی ہیں وہ کچھ اس طرح کے ہوں گے
ایس ای او ٹپس اینڈ ٹریکس
ایس ای او ٹولز
ایس ای اؤ سروسز
ورڈ پریس ایس ای او ٹپس
بلاگر ایس ای او ٹپس
آن پیج اس ای او
اف پیج ایس ای اؤ
یہ آپ کا خاکہ تیار ہو گیا

اب ہم نے تلاش کرنا ہے ڈومین نیم

ڈومین نیم میں بھی دو چیزیں آ جاتی ہیں

ایک ہوتی ہے   ایگزیٹ میچ نیم ڈومین   یا  ای ایم ڈی ڈومین
آج کل گوگل اس کو اتنا پسند نہیں کر رہا
دوسری ہوتی ہے  برینڈ نیم
گوگل آج کل برینڈڈ ڈومین نیمز کو ترجیج دے رہا

آپ ایسا بھی کر سکتے ہیں ایسی ڈومین لیں جس میں برینڈ نیم بھی آ جائے اور کی ورڈ بھی آ جائے
بہت ساری ڈومین رجسٹریشن کمپنیز ہیں جن سے آپ ڈومین خرید سکتے ہیں اور ویب ہوسٹنگ بھی مل سکتی ہے
اگر آپ پاکستان میں ہیں تو  ہوسٹر پی کی اب بہت اچھی ویب ہوسٹنگ کی کمپنی ہے جو اپ کو ڈومین بھی فراہم کرے گی اور  چوبیس گھنٹے  سپورٹ سروس بھی مہیا کر رہی ہے اور اگر آپ کے پاس کریڈٹ کارڈ نہیں بھی ہے تو بھی آپ اس سے ڈومین اور ہوسٹنگ خرید سکتے ہیں اور اس کے لئے آپ ایزی پیسہ کا استعمال کر سکتے ہیں

آپ ا پنے براوزر میں
https://www.joinhoney.com
کا پلگ ان کر لیں یہ آپ کو آٹو کوپن تلاش کر دے گا جو پر آپ کو مزید ڈسکاؤنٹ مل جائے گا لیکن آپ کے لئے ڈیبٹ کارڈ ہونا ضروری ہے یا  یوبی ایل کریڈٹ کارڈ
اب آپ نے ڈومین  پینل میں جا کر  مینج سرور پر کلک کرکے اپنی ہوسٹنگ کے سرور یہاں اپ ڈیٹ کر دینے ہیں  اکثر یہ جلد اپ ڈیٹ ہو جائے ہیں لیکن 24 گھنٹے کا ٹائم کا کہا جاتا ہے
اس کے بعد ہوسٹنگ میں جا کر ایڈ آن ڈومین پر کلک کرکے آپ نے آپنی ویب سائیٹ ایڈ کر دینی ہے اور اس طرح اپ کی ہوسٹنگ اور ڈومین ایک دوسرے سے لنک ہو جائیں گی
اس کے بعد آپ نے اس میں ورڈ پریس انسٹال کر لینا ہے  اسی ہوسٹنگ میں اپ ورڈ پریس تلاش کرے ایک کلک سے ورڈ پریس انسٹال کر سکتے ہیں
آپ چاہیں تو ایک لوگن اٹیمپٹ  پلگ ان بھی اس میں ہوگی وہ بھی آپ انسٹال کر سکتے ہیں یہ اس لئے ہوتی ہے کہ کوئی بار بار آپ کی ویب سایئٹ لاگ ان ہونے کی کوشش کرے تو اسکا ائی پی بین ہو جاتا ہے اس کے بعد انسٹال پر کلک کر دینا ہے
http://www.leafdns.com/
آپ چیک بھی کر سکتے ہیں کہ آپ کی ویب سائیٹ ہوسٹنگ سے لنک ہو گئی کہ نہیں
ایک اور بات اگر آپ کسی دوسرے ملک میں ویب سائیٹ رینک کروانا چاہتے ہیں تو کوشش کریں اگر ڈاٹ کام  ٹی ایل ڈی ( ٹاپ لیول ڈومین) نہیں ملتا تو اس ملک کے نام کی ایکسٹینشن کے نام سے ڈومین لے لیں اور کوشش کریں اس ملک کا ہی ہوسٹنگ  سرور استعمال ہو رہا ہے جیسے اگر آپ یو کے میں اپنی ڈومین رینک کروانا چاہیے ہیں تو یوکے کا ہوسٹنگ سرور استعمال کریں اور اسی ملک کی ڈومین ایکسٹینشن لیں جو  ڈاٹ کو ڈاٹ  یو کے ہوگی  لیکن کوشش کریں جب بھی ڈومین نیم لیں  ڈاٹ کام کی ایکسٹنش ہی لینے کی کوشش کریں اور ڈاٹ کام نہیں ملتی تو بھر آپ دوسرے اپشنز  جیسے  ڈاٹ نیٹ  ، ڈاٹ  انفو، ڈاٹ او ار جی  وغیرہ بھی لے سکتے لیکن سب سے بہترین آپشن ڈاٹ کام ہی ہے اور اسی میں ڈومین نیم لینے کی کوشش کریں

تھیم انسٹال کرنا بھی بہت آسان ہے آپ کسی بھی اچھی ویب سائیٹ سے  ورڈ پریس کا تھیم خریدیں اور اسکو ڈاوں لوڈ کر لیں آس میں ایک  زپ فائل ہوگی اسکو آپ نے ورڈ پریس کی اپشن  انسٹال تھیم پر کلک کرکے اپ لوڈ کر دینا اور ایکٹی ویٹ کر لیں اور اسکے بعد آپ نے اس میں ضروری ورڈ پریس پلگ ان انسٹال کرلینے ہیں جو اپ کے لئے ایس ای او میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں

اگر‌اپ نے صحیفہ ورڈ پریس تھیم انسٹال کیا ہے تو اسکی سیٹنگز اپ یوٹیوب کے کیسی اچھی سے وڈیو میں دیکھ سکتے اس کی ساتھ آپ ورڈ پریس ایس ای او بائی یوسٹ پلگ ان سٹال کرلیں تاکہ آپ کو ایس ای اؤ کی اپشنز میں اسانی ہو اور اس کی سیٹنگز بھی آپ یوٹیوب کی وڈیوز میں دیکھ سکتے

اس کے بعد اپ نے پوسٹ لکھنی ہے اور پوسٹ لکھنے کے لئے آپ کی ورڈ ری سرچ کریں گے جو جن کا ذکر تفصیل سے کیا جا چکا ہےکہ کیسے کی ورڈ ری سرچ کرتےہیں اور کیسے کی ورڈز کا انتخاب کرتے ہیں

آپ جب کسی سال کا ذکراپنے ٹائیٹل میں کرتے ہیں تو یہ آی ٹرینڈی کی ورڈ ہوتا ہے جس اس سال میں تو آپ کی ٹریفک دے جاتا ہے لیکن اگلے سال وہ پوسٹ ڈاؤں ہو جاتی ہے اور اسکو کوئی دیکھنا پسند نہیں کرے گا لیکن اگر اپ استعمال کرنا چاہیں تو کوئی قباحب نہیں اس سے ٹریفک اچھی مل جاتی ہے

آپ نے جو اکھٹے کی ورڈز منتخب کئے ہیں انکو ایک ہی بار میں ملٹی کی ورڈز آئیڈیاز لسٹ میں‌ڈال کر بھی دیکھ سکتے ہیں کہ آپ نے منتخب شدہ کی  ورڈز کی ٹریفک کیا ہو سکتی ہے یہاں یہ بتا دیں کہ گوگل ایڈورڈ میں ایک سال کا ڈیٹا عام طور پر متنخب کیا جاتا ہے اور ان کی ورڈز کی ٹریفک اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے

اس کے علاوہ اپنئی ویب سائیٹ میں ارٹیکلز کے کی ورڈز کو ایک دوسرے سے انٹر لنک کرنا نہ بھولیں یعنی انکے اینکرٹیکسٹ آپکے کی ورڈز بن جائیں  گے اس طرح آپ کے کی ورڈز کو مزید تقویت ملے گی اور یوزرز بھی ایک سے دوسرے ارٹیکل پر جا سکے گا اور ہم انہی کی ورڈز پر جب بیک لنکس بنائیں گے تو وہ بھی اچھے نتائج لائے گی اور اینکر ٹیکسٹ کا جو سپیم ریٹ ہے وہ بھی کم ہو جائے گا اور اسکی پینلٹی کا امکان بھی کم ہوگا  اور پرما لنک کو ایس ای اؤ آپٹیمائیز کرنا نہ بھولیں اور ٹائیٹل کو مزید مختلف کرنے کے لئے اس میں  ٹاپ ، بیسٹ، فری، نیو جیسے الفاظ استمعال کر سکتے ہیں تاکہ وہ یو آر ایل یا لنک سے مختلف نظر آئے

امید ہے اپ کے یہ کی ورڈز بغیر کسی بیک لنک کے ہی رینک ہو جائیں گے اور اپ کو صرف مین کی ورڈ کے ہی بیک لنک بنانے پڑیں گے اس کے لئے کیسا آرٹیکل لکھنا ہے اس پر بات کرتے ہیں اس کے علاوہ آپ نے جو کی ورڈز منتخب کئے ہیں ان پر آپ ایک ایک پوسٹ بھی بنا سکتے ہیں
جب بھی سائیٹ بنائیں دیکھیں اپ کا مین مقصد کیا ہے اور آپ کی سائیٹ نے ہر پوسٹ اسی کو سامنے رکھ کر بنانی ہےتاکہ گوگل اور یوزر آپ کی سائیٹ کو اسی انداز میں ڈیل کریں یہ نہیں کہ سائیٹ کو ایک چورن بنا دیں کہ سب کچھ ڈالتے جاؤ ایسا کریں گے تو جلد اپ کی سائیٹ ناکامی کی جانب جائے گی کیوں کہ اتنا سب کچھ کرنا اتنے کی ورڈز اور پوسٹ رینک کرنا آپ کے بس کی بات نہیں ہوگی
جب بھی آپ ٹایٹل، ڈسکرپشن ، اور یو آل ایل بنائیں اس میں لازمی ہے کہ آپ کا مین کی ورڈ شامل ہو اور اگر چاہیں کہ پی دی ایف فائل کا بھی پوسٹ میں اضافہ کر دیں جہاں سے یوزر اپ کی پوسٹ کو ڈاوں لوڈ بھی کر سکیں اور پر پوسٹ میں دو تین امیجز شامل کرنا نہ بھولیں اور ایک وڈیو بھی اپنی پوسٹ کی بنا دیں جس کو اپ کو نہ صرف بیک لنک ملے گا بلکہ اپ کی ویب سائٹ یوتیوب پر یوزرز کی نظر میں بھی آ جائے گی اور اس سے اپ کے یوزر برھنے کا بھی امکان ہے

اس کے علاوہ گوگل سرچ سیجیشن میں بھی دیکھ سکتے ہیں کیا کیا اپ کے ٹاپک کے مطابق  سرچ ہو رہا ہے  اس کے لئے آپ گوگل سرچ میں اپنا مین کی ورڈ ڈالیں گے تو گوگل آپ کو مزید سیجشن دے گا آپ اپنے کی ورڈ کے اگے سٹیرک یا اپنے  اپنے کی ورڈ کے پیچھے  سٹیرک یا سٹار ڈال کر بھی دیکھ سکتے کہ یوزر آج کل کیا سرچ کر رہے ہیں یہان سے اپ کو اپنی پوسٹ کا  ٹائئل بھی مل جائے گا اور کچھ اچھے کی ورڈز بھی مل جائیں گے  اس طرح اپ گوگل میں اپنا مین کی ورڈ لکھ کر اس کے آگے  اے  بی سی الگ الگ لکھ کر بھی دیکھ سکتے کہ ہر الفابیٹ کے ساتھ نیا کونسا لفظ آیا ہے اس کے علاوہ آپ ایک سپیس دے کر بھی دیکھ سکتے کہ کونسا نیا لفظ ایا ہے
آج کل جو ورڈ پریس تھیم آ رہے وہ بائی  ڈیفالٹ ہیڈنگ کو ایچ ون میں لکھتے اس لے دوبارہ ایچ ون کو ایک پوسٹ میں استعمال نہ کریں اور ایچ ٹو اور کو سب ہیڈنگ کے لئے استعمال کریں

اس کے علاوہ اپ ورڈ پریس ایس ای او بائی یوسٹ میں مخلف ٹائٹل بھی ایڈ کرسکتے ہیں اگر آپ ڈسکرپشن نہ بھی لکھیں تو کوئی فرق نہیں  پڑے گا اس سے گوگل خود ہی آپ کی پوسٹ سے ٹیکسٹ آٹھا لے گا
کوشش کریں اپ کا مین کی ورڈ سب ہیڈنگ میں بھی موجود ہو
کی ورڈ ڈینسٹی اوپر نیچے ہو سکتی ہے کیوں کہ اپ ایک نیچرل انداز سے لکھ رہے ہیں اور یوزرز کے لئے لکھ رہے ہیں اس لئے یہ ایک قدرتی انداز ہے اس لئے اسکی اتنی فکر نہیں کرنی چاہیے
جو بھی امیج بنائیں اسکا  “اے ایل ٹی” ٹیکسٹ ضرور دیں کیوں کہ گوگل اے ایل ٹی ٹیکسٹ سے پڑھتا ہے اور یہ امیج میں اپ کو رینک کرےگا اور وہاں سے بھی یوزر آئیں گے
کچھ ایکسٹرا چیزیں بھی آپ کر سکتے ہیں جیسے پیرا  گراف کے پہلے جملے میں اپنا مین کی ورڈ استعمال کرنا  بولڈ کرنا  ایٹالک کرنا کلر ٹیکسٹ. ہائی لائیٹ کر سکتے ہیں انڈر لائن کر سکتے ہیں اس سے کی پوسٹ خوبصورت نظر آ ئےگی اور یوزر پر اچھا اثر پڑے گا اور سرچ انجنز میں ان کا اتنا فائدہ نہ بھی ہو لیکن کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہوتا ہے

یہاں ایک بات اور بھی قابل غور ہے کہ آپ کا ارٹیکل کتنے الفاظ کا ہو تو اس کے لئے کہا جا سکتا ہے اپ خود مطمئیں ہوں کہ یہ ارٹیکل آپ کے یوزر کے لئے وہ سب کچھ مہیا کر رہا ہے جس کے لئے یوزر اپ کی ویب سائیٹ پر ایا ہے لیکن عام  طور ہے یہ  پانچ سو سے سات سو الفاظ کا ہوتا ہے اور اپ کے کی ورڈز اور ٹپس ار ٹریکس بھی کور ہونا لازمی ہی تاکہ زیادہ سے زیادہ  یوزر آ سکیں  لیکن اج کل بڑی ویب سائیٹس بڑے بڑے ارٹیکلز لکھ رہی ہیں جو کم از کم دو ہزار الفاظ کا ہوتا ہے
انٹر لنک جب بھی کریں  ری لیلیٹڈ کرنی ہے یہ نہیں کہ   کلک ہئیر وغیرہ  یا  اپنے ہوم پیج کے ساتھ  منسلک نہ کریں بللکہ تھیک طرح سے انٹرلنکنگ کریں اور کیٹگری سہی منتخب کرنی ہے

اس کے علاوہ آپ جو اپنے ارٹیکلز کی اپنے بلاگ کی انٹر لنکنگ کریں وہ ارٹیکل
کے درمیاں میں ہونی چاہیے نہ کہ شروع یا آخر میں

اس کے علاوہ اپ ہائی اتھارتی ویب سائیٹس کو اپنے ارٹیکل میں3-2 بیک لنک دیں بے شک آپ انکو مین کی ورڈز سے بیک لنک نہ دیں مخلتف کی ورڈ سے دیں لیکن ایسا ضرور کریں  کیونکہ  وہ ویب سائیٹس ہائی اتھارٹی ویب سائیٹس ہوتی ہیں اس سے آپ کی پوسٹ کی ریلیونسی بڑھتی ہے اور اس سرچ انجنز اور یوزرز دونوں کا اس پر اچھا اثر پڑتا اور اپ کی پوسٹ بھی ایتھنٹیک ہو جاتی ہے

یہ تھا اپ کا آن پیج سیکشن کا ایک جائزہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں