Wednesday, April 17, 2024
Homeٹیکنالوجیموبائل بیچنے سے قبل چند احتیاطی تدابیر

موبائل بیچنے سے قبل چند احتیاطی تدابیر

موبائل بیچنے سے قبل چند احتیاطی تدابیر
خواتین کے لئے انتہائی اہم ہدایت
یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ موبائل انٹرنل میموری، میموری کارڈ، ہارڈ ڈرایئو، یو ایس بی وغیرہ سے مکمل طور پر ڈلیٹ شدہ ڈیٹا ریکور ہو جاتا ہےجتنی بار مرضی میموری کارڈ وغیرہ کو فارمیٹ کر لیں لیکن ڈیٹا ریکور ہونا ناممکن نہیں ہے اگر میموری کارڈ ٹوٹ بھی جائے تو سینسر چپ ( جو پیلے رنگ کے نشان ہوتے ہیں وہ اگر ٹھیک ہوں تو پھر بھی ڈیٹا ریکور کیا جاسکتا ہے ہائی سیکورٹی ریکوری ٹولز سے)۔۔۔ بہت سے ایسے میتھڈز اور طریقے ہیں جن سے ڈیڈ ڈیٹا تک ریکور کیا جاسکتا ہے اسی طرح کمانڈپرومیٹ اور ہیکنگ سافٹ وئیر کے ذریعے اور ایسی کئی کوڈنگز ہیں جن کے ذریعے میموری بیس کو کریک کر کے ڈیٹا نکالا جاسکتا ہے اس لئےڈیٹا کے حوالے سے بہت زیادہ احتیاط کیجئے۔۔۔
پہلی غلطی
بہت سے لوگوں کے موبائل خراب ہوجاتے ہیں، موبائل پانی وغیرہ میں گر جاتا ہے یا کوئی مسئلہ ہوجاتا ہے تو وہ کسی بھی جانے انجانے کاریگر کے حوالے کر دیتے ہیں یا خاص کر خواتین کے موبائل میں کوئی ایشو آجائے تو وہ موبائل کو اسی طرح ریپیرنگ کاریگر کے حوالے کر دیتی ہیں اور یہ چیز بہت دفعہ زندگی کی سنگین غلطی ثابت ہوتی ہے۔۔۔
ہوتا کیا ہے کہ موبائل میں کوئی ایشو ہوا تو اسی طرح رپیرنگ والے کے پاس لے جاتے ہیں اور وہ لوگ سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ موبائل مرد کا ہے یا خاتون کا اگر خاتون کا ہوا تو فوراً ان کے شیطانی ذہن میں یہی آتا ہے کہ لازمی اس میں بہت سی پرسنل تصاویر اور ویڈیوز ہوں گی وہ موبائل کل پرسوں لے جانے کا کہہ کر سب سے پہلے کمپیوٹر کے ساتھ کیبل لگا کر ڈیٹا نکالتے ہیں۔۔۔
اگر ایسا کوئی مسئلہ ہوجائے تو کوشش کریں کہ لیپ ٹاپ کمپیوٹر کے ساتھ ڈیٹا کیبل لگا کر چیک کریں بہت بار ایسا ہوتا ہے موبائل میں ظاہری کوئی مسئلہ ہوتا ہے لیکن موبائل فائلز کو لیپ ٹاہ وغیرہ پر کھولا جاسکتا ہے اس صورت میں ایسا کریں کہ وہاں سے سارا ڈیٹا اپنے لیپ ٹاپ میں منتقل کر لیں۔۔۔ اگر ایسا نہیں تو پھر کسی قابل اعتماد اور جاننے والے ریپیرنگ کاریگر کو ہی چیک کروائیں۔۔۔بہت بار اسی ڈیٹا کی بنیاد پر بلیک میلنگ اور بیسیوں واقعات ہوچکے ہیں بدخصلت اور کمینے لوگ اس ڈیٹا کے بدلے بہت سے معاملات میں پڑتے ہیں اور دوسروں کی زندگیاں تباہ کر دیتے ہیں۔۔۔
دوسری غلطی
اسی طرح ایک اوربہت سنگین غلطی کہ میموری کارڈ، یو ایس بی، ایکسٹرنل ہارڈ ڈرائیو کمپیوٹر اٹھاتا نہیں یا کارڈ موبائل میں چلتا نہیں تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ کارڈ بے کار ہو گیا ضائع ہوگیا اور اس کارڈ کو ایسے ہی پھینک دیا جاتا ہے ایسا کبھی نہ کریں کیوں کہ کارڈ خراب ہوجائے یاسکریڈ ہوجائے تو ایسے کارڈ کوچند میتھڈز خاص کر کمانڈپرومیٹ کے زریعہ چند کوڈز کی مددسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے اس لئے کبھی ایسا کارڈ پھینکنے کی غلطی مت کریں بلکہ اس کارڈ کو جلا دیں یا ٹکڑے ٹکڑے کر دیں۔۔۔
اس لئے
اگر آپ کے پاس سمارٹ فون یو ایس بی یا ہارڈ ڈرایئو جس میں گھریلو تصاویر وڈیوز یا کوئی اہم ڈیٹا ہے تو اس ہارڈ ڈریئو کو کبھی مارکیٹ میں فروخت نہ کریں۔۔۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اپنے سمارٹ فون کی میموری میں گھر کی تصاویر بھول کر بھی نہ رکھیں اگر رکھنی ہی ہوں تو الگ سے میموری کارڈ لیں اور اس میں رکھیں اور وہ میموری کارڈ پھر کبھی کسی کو نہ دیں اور نہ ہی اس کو فروخت کرنا ہےایسے میموری کارڈ کو جلادیں، یا ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھینک دیں لیکن کسی کو دینا نہیں ہے بس۔۔۔
آج کل اکثر موبائلز میں میموری کارڈ کا آپشن ہی ختم کر دیا گیا ہے یعنی موبائل کی انٹرنل میموری اتنی بنا دی گئی ہے کہ اب میموری کارڈ کی ضرورت ہی نہیں رہی۔۔۔ مگر یہی انٹرنل میموری بہت زیادہ نقصان دہ اور خطرناک بھی ہے اور ایسے موبائلز جن میں انٹرنل میموری اور بیٹری وغیرہ سب فکس ہیں ان سے ڈیٹا ریکور کرنا انتہائی آسان اور ممکن ہے۔۔۔ اگر اس طرح آپ کے موبائل کی انٹرنل میموری میں تصاویرہوں تو پھراحتیاط اسی میں ہے کہ وہ موبائل کبھی فروخت نہ کریں۔۔۔
ایک بات یہ ذہن نشیں کر لیں کہ موبائل سے ڈیٹا ریکور کرنے یا ٹریش فلیش کرنے وغیرہ کے جتنے سافٹ ویئر یا ایپس ہیں اکثر وہ ایپس بھی اسی مقصد کے لئے استعمال کی جاتی ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایپ معاون ہیں مگر وہی ایپس درحقیقت بیڑہ غرق کرنے کے لئے بنائی گئی ہیں ۔۔۔ اگر خدانخواستہ موبائل فروخت کرنے کی نوبت آبھی چکی ہے تو پھر کوشش کریں کہ اپنے کسی قریبی کو فروخت کریں یا اپنے کسی قابل اعتماد بندے کو کہیں کہ اپنے حلقہ احباب میں کسی بااعتماد بندے کو بیچیں۔۔۔
احتیاطی تدابیر
اگر خدانخواستہ موبائل بیچنا ہی پڑ جائے اور موبائل کی انٹرنل میموری میں ذاتی ڈیٹا موجود ہے تو پھر فروخت سے قبل کچھ کام کریں۔۔۔ پہلے تو یہ کریں کہ ایک بار موبائل سے تمام ڈیٹا ڈیلیٹ کریں کمپیوٹر میں ڈیٹا کیبل سے لگا کر موبائل ڈرائیو کو فارمیٹ کریں۔۔۔ پھر اس موبائل کو فیکٹری ریسیٹ کریں دوبارہ آن کر کے اس میں موبائل سے چند منٹس کی کچھ رینڈم ویڈیوز اور تصاویر بنائیں جن کی لینتھ زیادہ ہو اسی طرح کچھ رینڈم فائلز وغیرہ بھی ڈالیں کوشش کریں موبائل کا کیمرا آن کر کے موبائل زمین یا ٹیبل پر رکھ کر بلینک ویڈیوز فل ایچ ڈی میں بنائیں چونکہ ایچ ڈی ویڈیوز کا سائز زیادہ ہوتا ہے تو چند ویڈیوز سے موبائل سٹوریج فل ہوجائے گی ۔۔۔ اس موبائل کو دوبارہ فیکٹری ریسیٹ کردیں اگر ممکن ہو تو یہ پراسس دو تین بار کر لیں۔۔۔ تاکہ اگر کوئی سر توڑ کوشش سے ڈیٹا ریکور کرنے کی کوشش کرے بھی تو پہلے یہی رینڈم ڈیٹاریکور ہو۔۔۔ یہ ایک احتیاط ہے بس باقی زیادہ بہتر تو یہی ہے کہ ایسا موبائل فروخت کیا ہی نہ جائے توڑ دیں جلا دیں یا پھر پارٹس نکال کر فروخت کر دیں۔۔۔
یاد رکھیں۔۔۔
ٹیکنالوجی جتنی زیادہ ترقی کرے گی جتنی زیادہ گیجٹس زیادہ ہوں گی بہت سی برائیاں بھی جنم لیں گی اور بہت سے مسائل پیدا ہو ں گے۔۔۔ اپنی پرائیویسی اور عزت اسی میں ہے کہ ہر معاملے کی دیکھ بھال کی جائے ہر چیز کو پرکھا جائے۔۔۔ جو بھی ٹیکنالوجی اور گیجٹس ہوں یا کچھ بھی ہو اس کی باریکیوں کو سمجھیں اور سیکھیں اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو سمجھیں۔۔۔ استعمال کے ساتھ ساتھ اس ٹیکنالوجی کے بارے میں کچھ ضروری معلومات کا جاننا نہایت ضروری ہے۔۔۔کیوں کہ یہی ٹیکنالوجی اور سہولت عذابِ جان بھی بن سکتی ہے۔۔۔
اللہ رب العزت ہم سب کے ساتھ خیر و عافیت والا معاملہ فرمائے ا اللہ رب العزت ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین۔۔۔
حامد حسن
متعلقہ مضامین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ