Pakistan stock exchange 352

پاکستان سٹاک ایکسچینج، میرا تجربہ کیسا رہا

سٹاک مارکیٹ۔

دو ہزار نو کے اختتام پر خاکسار نے انگلینڈ کی فیکٹری میں پارٹ ٹائم جاب سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ کام سخت تھا مگر تنخواہ اتنی تھی کے میرا گزارا آرام سے ہو جاتا ، یوں بھی انیس سال کا لڑکا جو رہتا بھی فیملی کے ساتھ ہو اس کے کتنے اخراجات ہو سکتے ہیں۔ انہی دنوں جاوید چوھدری کے چند “موٹی ویشنل کالموں ” کو پڑھ کر خاکسار پر بھی کاروبار شروع کرنے کا بھوت سوار ہوا۔ ہم بھی خود کو مستقبل کا بل گیٹس یا وارن بفٹ سمجھتے۔ کیی کاروبار دلچسپ لگے ، کچھ پر تحقیق کی اور پھر وقت اور سرمایے کی قلت کی وجہ سے ان “شیخ چلی ” کے ان منصوبوں کو خیر آباد کہنا پڑا۔ خیر ادھر ہم ہار مانتے ادھر چوھدری صاحب پھر کوئی “موٹی ویشنل ” کالم لکھتے اور ہم تازہ دم ہو کر پھر کسی کاروبار کے پیچھے لگ جاتے۔ اسی دوران ایک لائبرری سے اسٹاک مارکیٹ پر لکھی گئی کتاب ملی ، کتاب دلچسپ لگی اور ہم وہ گھر لے اے ۔کتاب پڑھی اور پھر اسٹاک مارکیٹ پر مزید کتابیں پڑھی۔ لو جی ، خاکسار کو یوں لگا کے جس “پارس ” نے ہمارے لوہے کو “سونا ” بنانا ہے وہ ہمیں شئیرز مارکیٹ کی صورت میں مل گیا ہے۔ اگلے ہفتے ہم نے ایک بروکر کے ساتھ اکاونٹ کھولا اور اپنے بینک سے پیسے ٹرانسفر کیے اور سو پاؤنڈز کے کچھ شیرز خریدے ۔نفع کیا ہونا تھا پیسے ڈوب گئے ، ہم نے اسے اپنی نا تجربہ کاری پر معمول کیا اور پھر جت گئے ۔کچھ عرصہ چارٹس وغیرہ کی مدد سے شئیرز کی قیمتوں کا تعین کرنا سیکھا اور چند موٹی موٹی چیزیں سیکھی اور اگلے ہی لمحے ہمیں لگا کے ہم اسٹاک مارکیٹ کے “ماہر ” بن گئے ہیں ، اس خیال کو تقویت اس طرح ملی کے اگلے شیرز ہم نے ہزار پاؤنڈز کے خریدے اور بیچے چودہ سو پاؤنڈز کے ، اس وقت ہماری جز وقتی ملازمت سے ہمیں پانچ سو پاؤنڈز ماہانہ ملتے تھے چار سو پاؤنڈز منافع ہمارے لئے بہت حیثیت رکھتا تھا۔ ہماری ہمت بڑھی اور اپنی ایک “کمیٹی ” لے کر اپنی طرف سے ایک اچھی کمپنی میں لگا دی اور ان شیرز میں ہمیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ۔انگلینڈ میں ان دنوں کچھ ویب سائٹس بنی ہوتی تھی جہاں پے آپ اپنی مطلوبہ کپمنی کے متعلق معلومات حاصل کر سکتے تھے اور باقی افراد سے اس کمپنی کے متعلق بات چیت کر سکتے تھے۔ وہاں سے ہمیں ایک فیسبوک پر موجود گروپ کا علم ہوا۔ اس گروپ میں ہمیں کافی کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ تب ہم پر انکشاف ہوا کے اسٹاک مارکیٹ میں مفت مشورہ اور ایماندارانہ راے کا کوئی وجود نہیں ، اگر کوئی ایک کمپنی کے متعلق منفی خیالات رکھتا ہے تو ضروری نہیں وہ ایسا دوسروں کو اس “بری ” کمپنی میں اپنی رقم لگانے سے بعض رکھنے کے لئے کر رہا ہے وہ ایسا اس لئے کر رہا ہے تا کے دوسرے اس کمپنی کے شئیرز بیچے تا کے ان کی قیمت گرے اور وہ انہیں خرید سکے۔ اسی طرح اگر کوئی آپ کو ایک کمپنی کے شئیرز خریدنے کو کہ رہا ہے تو ضروری نہیں کے وہ کی ہمدردی میں ایسا کہ رہا ہے وہ ایسا اس لئے کہ رہا ہے کیوں کے اس نے سستے داموں سوہ شیرز خریدے تھے اور باقی افراد جب انھیں خریدے گے تو ان کی قیمت بڑھے گی اب وہ شخص اپنے شئیرز بیچے گا ایک معقول منافع کے ساتھ اور باقی جائے جہنم میں۔ انہی دنوں ہم نے بھی کچھ منافع کمایا اور کچھ نقصان اٹھایا مگر شئیرز میں سرمایا کاری کرنا جاری رکھا ۔بعد میں کیی کمپنیوں کے سی ای اوز کمپنی کا منافع بڑھا چڑھا کر بیان کر رہے تھے جب کے کمپنی خسارے میں جا رہی تھی ، ان بے ضابطگیوں کے نتیجے میں شیئر ہولڈرز اپنا سب کچھ گنوا بیٹھے ، سی ای او کسی اور کمپنی میں چلا گیا اور یوں پیسا ہضم کھیل ختم۔ بعض کمپنیوں میں بورڈ اف ڈائریکٹرز ملی بھگت سے غبن کر رہے تھے ، شیر ہولڈرز کو اس وقت پتا چلا جب کمپنی دیوالیہ ہونے کو تھی۔ بعض کمپنیوں نےمعدنیات کی کچھ کانیں اس وقت خریدی جب معدنیات کی قیمتیں عروج پر تھی ، معدنیات کی قیمتیں گری اور وہ کانیں مسلسل خسارے میں جانے لگی اور یوں وہ کمپنیاں بند ہو گئی۔ اس فیسبوک گروپ میں میرے سمیت کوئی تین یا چار سو ممبران تھے کچھ نے پیسے کمانے کا نیا ڈھنگ ڈھونڈھا ہوتا کچھ یوں کے دس یا 15 افراد مل کر ایک کمپنی کے شئیرز خریدنا شروع کر دیتے ، اسٹاک مارکیٹ میں سرمایا کاری کرنے والوں کو پتا ہے کے مسلسل خریداری سے شیرز کی قیمت بڑھتی ہے اب قیمت کیی مرتبہ ایک دن میں دو یا تین گنا بڑھتی ، لازمی بات ہے کے ایک اسٹاک کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے تو باقی لوگ بھی بھیڑ چال کا شکسر ہو کر بغیر سوچے سمجھے وہ اسٹاک خریدنا شروح ہو جاتے ، جس گروپ نے یہ سب دھندھا شروع کیا ہوتا وہ اپنے اپنے شئیرز دگنے اور ترگنے منافع پر بیچ کر اگلی کمپنی کی طرف بڑھ جاتے اور پیچھے رہنے والوں کو اپنی ساتھ فیصد رقم سے ہاتھ دھو لینے کے بعد پاتا چلتا کے ان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے ، خاکسار کو بھی اس گروپ میں شمولیت کی دعوت دی گئی جو ہم نے شکریہ کے ساتھ رد کر دی۔ اب ہم نے اس گروپ کے خلاف جنگ کا فیصلہ کیا اور المیہ یہ تھا کے جن لوگوں کو بچانے کی ہم کوشش کر رہے ہوتے وہی ہمارے خلاف ہو جاتے کے تم نہیں چاہتے ہم پاؤنڈز کماے کیا کہ سکتا تھا انھیں بھاری نقصان اٹھانے کے بعد ہماری یادآتی ۔
اسی طرح اس دشت کی سیاہی میں ہماری عمر گزری ہے ، آج کل اسٹاک مارکیٹ کو مکمل پڑھنے کا دعویٰ نہیں ہے مگر معقول آمدنی نسبتاً تھوڑی سی سرمایا داری کے ساتھ ہو رہی ہے ۔ہماری مثال بھی اس تھانیدار کی سی ہو گئی ہے جسے اپنے علاقے میں موجود تمام “وارداتیوں ” کا بائیو ڈیٹا معلوم ہوتا ہے۔ مندرجہ ذیل باتوں سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کے اسٹاک مارکیٹ کس بھلا کا نام ہے اور یہ دنیا کتنی بے رحم ہے ، میں نے کیی لوگوں کو دیوالیہ ہوتے دیکھا ، کیی لوگ پاگل ہوے اور کیی ڈپریشن میں چلے گئے ۔یہ تمام باتیں میں نے انگلینڈ کی اسٹاک مارکیٹ کے متعلق لکھی ہیں جہاں قانون قدرے سخت ہے ، پاکستان یا انڈیا کی اسٹاک مارکیٹوں کا کیا حال حال ہوتا ہو گا خدا جانے!

مزید پڑھیں  مصالحہ جات کا کاروبار کیسے کریں

سٹاک مارکیٹ (حصہ دوم )۔
گزشتہ پوسٹ میں ، میں نے اپنی کہانی سنائی تھی کے کیسے میں سٹاک مارکیٹ سے متعارف ہوا اور تھوڑا بہت انٹروڈکشن ۔میری یہ پوسٹ بھی اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے ۔
پینی سٹاکس ان چھوٹی کمپنیوں کو کہتے ہیں جو ابھی ارتقا کے ابتدائی مراحل میں ہیں ، یہ آگے چلے یا نا چلے کوئی گارنٹی نہیں ، سٹاک مارکیٹ میں یہ سٹاکس بہت مقبول ہوتے ہیں کیوں کے ایک تو نسبتاً چھوٹی کمپنیوں کے اسٹاک کی قیمتوں میں بہت اتار چڑھاؤ ہوتا ہے اور دوسرا یہ کے یہ کمپنیاں اگر کامیاب ہو جائے تو پھر انویسٹر کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں ۔آج کی تمام تر بڑی کمپنیاں کل کی پینی کمپنیاں تھی۔
دنیا کی کسی بھی سٹاک مارکیٹ میں عام طور پر تین قسم کی کمپنیاں لسٹ ہوتی ہیں ،قدرتی وسائل یعنی ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور سروسز یعنی خدمآت۔
قدرتی وسائل میں معدنیات ، تیل اور اسی طرح کی چیزیں آتی ہیں ۔یہ سٹاک مارکیٹ کی سب سے مقبول کمپنیاں ہوتی ہیں ۔وجہ یہ ہوتی ہے کے بعض اوقات آپ نے اگر ایک روپیہ انویسٹ کیا ہے تو کامیابی کی صورت میں دس روپے منافع ہو ،ناکامی کی صورت میں تمام پیسا ضایع ہو جاتا ہے۔ ان سب کا تعارف کرواو گا۔ تیل پیدا اور تلاش کرنے والی کمپنیاں تین مراحل سے گزرتی ہیں۔ پہلے مرحلے میں تیل تلاش کیاجاتا ہے ، اب ہوتا یہ ہے کے کمپنی ایک مخصوص علاقے میں تیل تلاش کرنے کے کی اجازت حاصل کرتی ہے ، اگلے مرحلے میں جیوگرافیکل سروے کیا جاتا ہے ، ڈرلنگ کے لئے مناسب مقام چنا جاتا ہے اور کامیابی کا تناسب طے کیا جاتا ہے کے کتنے فیصد امکانات ہیں کے تیل ملے گا اور اگر تیل مل گیا تو کتنا تیل ملے گا۔ یہ تمام مراحل انتہائی مہنگے ہوتے ہیں اور اگر تیل نہیں ملتا تو جتنی بھی انویسٹمنٹ ہے وہ بے کار ہو جاتی ہے ، کمپنی تیل کے لئے کھودا گیا کنواں بھرتی ہے اور کھیل ختم اور پیسا ختم۔ اب چھوٹی کمپنیوں کو ڈرلنگ کے لئے بینک قرضے نہیں دیتے کیوں کے تیل نا ملا تو بینک کو پیسے ملنے نا ممکن ہو گے ۔کمپنیاں میڈیا کے ذریئے اشتہاری مہم شروع کرتی ہے ، اس کے بعد اگلے مرحلے پر نیے شئیرز رعایتی قیمت پر جاری کیے جاتے ہیں ، فرض کریں کے ایک کمپنی کو20 لاکھ روپوں کی ضرورت ہے اور اس کے شئیرز کی قیمت 10 روپے فی شیر ہے ۔کمپنی بیس لاکھ اکھٹے کرنے کے لئے 5 روپے فی نیے شیر کی قیمت مقرر کرے گی۔ اب جن لوگوں نے 10 روپے فی شیر کے حساب سے شیرخریدے تھے ان کے شئیرز کی قیمت اب آدھی ہو گئی ہے ، اسے ٹریڈنگ کی زبان میں پلیسنگ کہا جاتا ہے یعنی پیسے اکھٹے کرنے کے لئے بھاری رعایت پر نیے شیر جاری کرنا۔کمپنیاں وقتاً فوقتاً پیسے اکھٹے کرنے کے لئے پلیسنگ کرتی رہتی ہیں اور یہ سب سے مقبول طریقہ ہے مگر اس سے پہلے سے موجود انویسٹرز کو بھاری نقصان ہوتا ہے کیوں کے اس پلیسنگ کی وجہ سے جس شیر کی قیمت 10 روپے تھی اب وہ 5 روپے رہ گئی ہے۔ اب رقم اکھٹا کرنے کے بعد کمپنی ڈرلنگ کی تیاری کرتی ہے پہلے مرحلے پر ڈرلنگ کرنے کی کٹ کرایے پر حاصل کی جاتی ہے اس کے بعد تاریخ دی جاتی ہے کے اس تاریخ کو ہم ڈرل شروع کریں گے اور یہ ڈرل اتنے دن جاری رہے گی۔ اگلے مرحلے پر ڈرلنگ کے نمونے حاصل کیے جاتے ہیں اور ان کا تجزیہ کر کے بتایا جاتا ہے کے آیا مطلوبہ جگہ سے تیل ملا ہے اور اگر ملا ہے تو اتنا ہے جس نے منافع بخش پیدا وار حاصل کی جا سکے کیوں کے اگر تیل کی مقدار کم ہو گی تو اس جگہ سے پیدا کردہ تیل انتہائی مہنگا ہو گا اور کمپنی اس پیداوار سے فائدے کی بجاے نقصان ہو گی۔ اب جب کمپنی علان کرتی ہے کے ہم فلاں تاریخ کو فلاں جگہ تیل کے لئے ڈرلنگ کریں گے اور کامیابی کی صورت میں ہمیں دس ارب بیرل تیل ملنے کی توقع ہے اور کمپنی کا مارکیٹ کیپٹل ایک کروڑ ہے ، جو شیر ٹریڈر ہو گا وہ سوچے گا کے اگر تیل مل جاتا ہے تو موجود تیل کی قیمت کے حساب سے 700 ارب ڈالر قیمت کا تیل ملے گا جب کے کمپنی کی مالیت 1 کروڑ ہے اگر ہم دس ڈالرز فی بیرل بھی قیمت لگاہے تب بھی ہمیں سو گنا فائدہ ہو گا ، یہ سوچ کر وہ سٹاک خریدے گا ، سٹاک کی قیمت پہلے پانچ روپے تھی اب لوگ اسے لالچ میں آ کر خرید رہے ہیں شائد اب چھے روپے ہو ، اگلے ہفتے سات ،اس سے اگلے ہفتے آٹھ اور پھر دس پھر گیارہ ، لوگ لالچ میں آ کر سٹاک خریدتے ہیں اورقیمت بڑھتی ہے ۔خریدنے کی وجہ یہ گمان ہوتا کے کامیابی کی صورت میں ہمیں کیی گنا فائدہ ہو گا۔ لالچ میں آ کر لوگ یہ نہیں سوچتے کے ناکامی کی صورت میں جتنا انویسٹ کیا ہے سب جاتا رہے گا۔ اب سمجھ دار لوگ یہ کرتے ہیں کے پلیسنگ اور ڈرلنگ کا علان ہوتے ساتھ ہی سٹاک لے لیتے ہیں اور ایک ٹارگٹ رکھتے ہیں ، فرض کریں کے ڈرلنگ 45 دن کے لئے شروع ہو گی تو پہلے دن سے سٹاک کی قیمت بڑھنا شروع ہو جائے گی 30دنوں تک سٹاک کی قیمت شائد دوگنا یا تین گنا ہو جائے اب جن لوگ نے پلیسنگ کے شیر لئے تھے وہ بیچ دے گے ، جو لوگ نہیں بیچتے کامیابی کی صورت میں مالا مال ہو جاتے ہیں اور ناکامی کی صورت میں کنگھال ۔

مزید پڑھیں  نوکری یا کاروبار: آپ کا انتخاب کیا ہونا چاہیے

سٹاک مارکیٹ :حصہ سوم
تقریباً آج کی تمام تیل پیدا کرنے والی کمپنیاں کبھی تیل تلاش کرتی تھی ، اگر کسی چھوٹی کمپنی کو تیل مل جاتا ہے جو کمرشل بنیادوں پر پیدا کیا جا سکے تو اگلے مرحلے پر اس تیل کے ذخیرے کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ اب کپنی کو تیل کی پیداوار کے لئے پیسوں کی ضرورت پڑتی ہے ، اکثر کمپنیاں اچھی قیمت پر تیل کا دریافت شدہ ذخیرہ بیچ دیتی ہیں ، یا پھر ایک بڑی کمپنی کچھ رقم کمپنی کو دیتی ہے اور تیل کی پیداوار تک خرچے کا ذمہ خود لیتی ہے بدلے میں تیل کی پیداوار کا حصہ لیتی ہے اسے فارم ان کہتے ہیں۔ فارم ان زیادہ تر بڑی تیل کمپنیاں جیسے شیل اور بی پی کرتی ہیں۔ تیل کے کنوے کی پیدا وار بھی ایک خاص مدت تک ہوتی ہے اس مدت کے۔ بعد پیدا وار میں کمی ہو جاتی ہے اور تیل آہستہ آہستہ گھٹتا جاتا ہے۔ نیے ذخیرے خریدنے کی وجہ سے پہلے سے موجود کنووں میں پیدا وار میں وقیا ہوی کمی کو پورا کیا جاتا ہے۔ فارم ان کے علاوہ کمپنی کے پاس تیسرا آپشن یہ ہوتا ہے کے تھوڑے پیسوں سے ایک کنواں پیدا وار میں لایا جاتا ہے ،اس کی رقم سے دوسرا اور آہستہ آہستہ تیسرا اور یوں زیادہ سے زیادہ کنوے خود کر پیداوار بڑھائی جاتی ہے ، ایسی کمپنیوں پر بڑی کمپنیاں نظر رکھتی ہیں اور ایک اپنے مطلب کی کمپنی کو خرید لیتی ہیں خریدا اس طرح جاتا ہے کے ایک کمپنی کا شیر پانچ روپے ہے یو بڑی کمپنی دس روپے کی وففر ڈے کر تمام شیر لے لے گی اسے ٹیک اور کہتے ہیں، ایک اور صورت یہ ہو گی کے کمپنی بدلے میں شیر ہولڈرز کو اپنی کمپنی کے کچھ شیر آفر کرے گی کے ہر دس شیرز کے بدلے ہمارا ایک شیر لے لو۔ اگلے مرحلے پر شیر ہولڈرز کی میٹنگ بلائی جائے گی اور وہاں فیصلہ ہو گا کے کیا کیا جائے کیی مرتبہ آفر مسترد کی جاتی ہے کے قیمت کم لگائی ہے اگلی کمپنی سوچ کے لئے وقت مانگتی ہے اور پھر پہلے سے زیادہ کی آفر دی جاتی ہے یا پہلی آفر ہی برقرار رکھی جاتی ہے یا پھر کہا جاتا ہے کے اب ہمیں اس کمپنی میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ایک اور اہم چیز تیل کی پیدا واری لاگت بھی ہے بعض ملکوں میں تیل کی پیدا واری لاگت انتہائی کم ہے جیسا کے سعودی عرب اور عراق ، کچھ ملکوں میں پیداواری لاگت زیادہ ہے۔ ایک اور چیز تیل کا معیار ہے ، آعلیٰ معیار کا تیل جس کی کثافت ہلکی ہو اسے لائٹ آئل کہا جاتا ہے اس کی قیمت اور مانگ زیادہ ہے ، ہیوی آئل کی مانگ اور قیمت کم ہے۔ آج کل ایک اور چیز چل رہی ہے جس میں زیر زمین موجود تیل کے ذخیرے پر بھانپ کی۔ مدد سے دباؤ بڑھایا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ اٹھ کر اوپر آتے ہیں اور پھر ان کو اکھٹا کیا جاتا ہے اسے فراککنگ کہتے ہیں ، اس کی وجہ سے امریکا تیل پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن گیا تھا۔ طلب و رسد کے تحت تیل کی قیمت بڑھتی یا گھٹتی ہے ۔اگر تیل کی مانگ کسی وجہ سے کم ہوتی ہے تو تیل کی قیمت کم ہو گی یا اگر تیل کی پیدا وار مانگ سے زیادہ ہو جاتی ہے تب بھی اس کی قیمت کم ہو جاتی ہے ۔قیمتوں کے بڑھنے یاکم ہونے کا اثر کمپنیوں پر ہوتا ہے فرض کریں اگر ایک کمپنی کی پیدا واری لاگ پچاس ڈالر فی بیرل ہے تو جب تک تیل کی قیمت پچاس ڈالر فی ڈالر سے اوپر ہے کمپنی کو فائدہ ہو گا اگر پچاس ڈالر فی بیرل سے نیچے قیمت گرتی ہے تو کمپنی کو نقصان اب کمپنی یا تو خسارے میں اس امید پر پیدا وار جاری رکھتی ہے کے قیمتیں بڑھتے ہی یہ سارے خسارے پورے کر لے گے بعض اوقات قیمت بڑھنے میں سالوں لگ جاتے ہیں اور کمپنی کا دیوالیہ نکل جاتا ہے۔ دو ہزار چودہ میں بھی تیل کی قیمتیں اسی وجہ سے گری تھی کیوں کے فراککنگ سے پیدا شدہ تیل کی قیمت ستر ڈالر فی بیرل سے اوپر تھی سعودی عرب نے انہیں بند کرووانے کے لئے تیل کی پیداوار بڑھا دی تھی اب فراککنگ کمپنیاں تو دیوالیہ ہوی ہو یا ہوی ہو عرب ملک دیوالیہ ہونے کو آ گئے تھے اسی لئے قیمتیں بڑھانے کے لئے پیداوار کم کی گئی تھی اوراوپک ملکوں نے اس پر اتفاق کیا تھا ۔

مزید پڑھیں  کچھ کھری کھری باتیں کاروبار کی

سٹاک مارکیٹ حصہ چہارم
تیل کی قیمتیں کیوں گرتی ہیں اور کیوں بڑھتی ہیں؟ یہ سوال آپ کے دماغ میں بھی آیا ہو گا جب وطن عزیز میں مختلف حکومتیں بین لاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو وجہ بنا کر عوام کا تیل نکالتی ہیں۔ چند بڑے صنعتی ملک جیسا کے چین ، انڈیا ، جرمنی اور جاپان یہ علان کرتے ہیں کے ان کی اکنامک گروتھ میں کمی ہو گئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کے انہیں اپنی چیزیں بنانے کیلئے کم تیل کی ضرورت ہو گی اور جب ضرورت کم ہو گی تو تیل کی مانگ بھی بھی کمی ہو گی اور تیل کی قیمتیں گرنا شروع ہو جائے گی۔ بعض اوقات یورپ اور دیگر بڑی منڈیوں میں معاشی بحران آتا ہے جس کی وجہ سے یہاں لوگ کم از کم خرچ کرتے ہیں اگر لوگ کم خرچ کرتے ہیں تو اسکا مطلب یہ ہو گا کے صنعتی اشیا کی مانگ میں بھی کمی ہو گی اور تیل کی مانگ بھی ہو گی اس لئے بھی تیل کی قیمت کم ہوتی ہے۔ اوپیک ممالک تیل پیدا کرنے والوں ملکوں کی ایک نمائندہ تنظیم ہے اور یہ ایک بلاک کی صورت میں اپنے ممبران کے معاشی تخفظ کاخیال رکھتی ہے ، تیل کی قیمتوں کو مستخکم رکھنے کے لئے یہ پیداوار میں کمی رکھتی ہیں تا کے مارکیٹ میں تیل کی سپلائی کم ہو جس سے اس کی مانگ بڑھے۔ مختلف ممبر ممالک کو ایک کوٹہ دیا جاتا کے آپ اتنا تیل روزانہ پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر کسی ملک میں حالات خراب ہوتے ہیں تو اس کا اثر بھی تیل کی قیمتوں پر پڑتا ہے کیوں کے کس نا مطلب یہ ہے کے اب تیل کی پیداوار حالات کی وجہ سے کم یا زیادہ ہو گی جس سے سے سپلائی کم یا زیادہ ہو گی اور اس کا فرق تیل کی قیمتوں پر پڑے گا۔ ایران پڑ سے جب معاشی پابندیاں ہٹائی گئی تھی تب تیل کی قیمتیں بیس فیصد تک عالمی منڈی میں کم ہوی تھی وجہ یہ تھی کے ایران کھل کر عالمی منڈی میں اپنا تیل بیچے گا اس کے ساتھ بڑی تیل کی۔ کمپنیاں ایران میں سرمایا کاری کرے گی اور اس وجہ سے تیل کی قیمتیں کم ہو گی۔ اسی طرح جنگ کی صورت میں ان ممالک میں تیل کی ترسیل کا نظام درہم برہم ہو جائے گا اور تیل کی قیمتیں بڑھے گی کیوں کے غیر یقینی کی سی صورت حال میں لوگ اپنی ضرورت سے زیادہ تیل خریدے گے۔ ایک اور چیز یہ ہوتی ہے کے آپ پاکستانی ٹائم میں بدھ کے روز رات کے ساڑھے آٹھ بجے تیل کی قیمتیں چیک کریں تو غیر معمولی اضافہ یا کمی ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کے رگ کونٹ کی تفصیل دی جاتی ہے کے کتنی رگیں کام کر رہی ہیں ۔رگوں کی تعداد بڑھی ہے تو تیل کی پیداوار بھی بڑھے گی اور اس کی قیمت گرے گی ۔اگر رگوں کی تعداد کم ہوی ہے تو تیل کی پیداوار بھی کم ہو گی اور اس کی قیمت کم ہو گی۔
علی رضا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں