make-money-from-lemon-farming-in-pakistan 151

لیموں کا باغ لگائیں ایک بہترین کاروبار اور بہترین منافع کمائیں

دیسی لیموں کے باغات, ناکامی کی وجوہات و کامیابی کے راز

باغبان دوستو پاکستانی مارکیٹ میں لیموں کی کھپت اور ریٹ کو دیکھتے ہوئے اکثر احباب اس سوال کے جواب میں سر گرداں نظر آتے ہیں کہ کونسا لیموں لگایا جائے, کچھ سال قبل تک اس سوال کا کوئی خاص وجود نہ تھا اور ہر کسی کو معلوم تھا کہ دیسی لیموں چونکہ ذائقے میں بہترین ہوتا ہے اور عین گرم موسم میں پھل پک کر تیار ہو جاتا ہے جب اسکی کھپت بہت زیادہ ہوتی ہے,
لیکن کچھ سال پہلے سٹرس کے ماہرین نے دیسی لیموں پر سر سوک نامی بیماری جسکی وجہ عموما فائٹو فتھورا نامی فنگس ہے کے زیادہ حملے کی وجہ سے بین کر دیا, اسکے بعد تقریبا دیسی کے قریب شکل و ذائقے والی آپشن چائنہ لائم ہے لیکن یہ سردیوں میں پھل دیتا ہے جس وجہ سے دیسی جیسا ریٹ اور کھپت نہیں لے سکتا لیکن پھر بھی اسکا مطلب ہرگز نہیں کہ مارکیٹ میں ڈیمانڈ یا کھپت نہیں, جب یہ نیا متعارف ہوا تھا تو باغبان حسب عادت دیکھا دیکھی کچھ زیادہ ہی اسکی طرف راغب ہوئے جس وجہ سے کچھ سالوں بعد مارکیٹ میں زیادہ ہو گیا اور. کافی وقت و محنت لگا کر تیار کیے گئے باغات لوگوں کو ختم بھی کرنا پڑے لیکن اکثر علاقوں میں اب حالات نارمل ہیں, اسکے بعد کچھ عرصہ سے سیڈ لیس یا کم بیجوں والا بڑے سائزکالیمن متعارف ہو رہا ہے لیکن بڑے سائز کم ترشی اور مارکیٹ میں مکمل متعارف نہ ہونے کی وجہ سے ابھی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے میں کچھ مشکلات کا سامنا ہے اس قسم کو.
اس صورتحال میں فی الوقت دیسی لیموں کا کوئی جوڑ نظر نہیں آ رہا ڈیمانڈ قیمت کھپت و ذائقے کی دوڑ میں لیکن افسوس کہ اسکی بہتری کے لئے کام کرنے اور اس پر بیماریوں کے حملے کی وجوہات کی جڑ تک پہنچ کر ختم کرنے کی بجائے اس کی افزائش روک دی گئی حالانکہ اس پودے کے مسائل کی در پردہ وجوہات بہت بنیادی اہم اور غور طلب ہیں جن کو دور کر کے دیسی لیموں کی کامیاب باغبانی آج بھی ممکن ہے.
دیسی لیموں پر سر سوک کے حملے کی بہت بڑی وجہ پودوں کی افزائش نسل میں بنیادی غلطی ہے جو اپنے مفاد کی خاطر ہمارے اکثر نرسریوں والے کرتے ہیں اور اپنی کم علمی کی وجہ سے اس پر ہمارے باغبان پودے خریدتے وقت توجہ نہیں دیتے اور وہ وجہ ہے دیسی لیموں کے جٹی کھٹی پر پیوند پودوں کی بجائے دیسی لیموں کے بیجوں سے تیار پودے, یہاں نرسری والوں کے مفاد میں یہ بات جاتی ہے کہ بیج لگا کر ان سے اگنے والے پودے اپنی مسلسل گروتھ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھتے ہیں جس سے تقریبا ایک سال یا بعض اوقات اس سے بھی کم وقت میں پودے تیار ہو کر فروخت کے قابل ہو جاتے ہیں جبکہ اسکے مقابلے میں اگر پودے کھٹی سے تیار کیے جائیں تو ایک کیاری میں کھٹی کا بیج کاشت کیا جاتا ہے جس سے تقریبا چار سے چھ ماہ بعد کھٹی وہاں سے اکھیڑ کر آگے شفٹ کرنے کے قابل ہوتی ہے یہاں کھٹی کو وہاں سے اکھیڑ کر آگے لگاتے وقت کھٹی کی مولی کی طرح سیدھی نیچے جانے والی جڑ کو کاٹنا بہت ہی ضروری ہوتا ہے ایسا کرنے سے پودے کی ایک ہی جڑ نیچے کی طرف جانے کی بجائے دائیں بائیں جڑوں کا جال بنتا ہے جو آنے والے وقت میں زمین سے زیادہ پانی و خوراک کے حصول کا ضامن ہوتا ہے, بعض اوقات نرسریوں والے جہاں کھٹی کا بیج بوتے ہیں وہیں کھٹی تیار کر لیتے ہیں اسکا فائدہ انکو یہ ہوتا ہے کہ تقریبا آٹھ دس مہینوں یا اس سے بھی کم وقت میں کھٹی تیزی سے گروتھ کر کے پیوند کے قابل ہو جاتی ہے لیکن اسکا باغبان کو نقصان یہ ہوتا ہے کہ پودے کا روٹ سسٹم کھٹی پر پیوند ہونے کے باوجود کمزور ہوتا ہے جتنی خوراک و پانی پودے کو دیا جائے کمزور و کم جڑوں کے جال کی وجہ سے پودا پوری خوراک نہیں اٹھا سکتا جس وجہ سے کمزور رہتا ہے اور کمزور پودوں کی قوت مدافعت بھی کمزور ہوتی ہے بیماریوں کا حملہ بھی زیادہ ہوتا ہے جبکہ اسکے مقابلے میں کھٹی ایک جگہ سے اکھیڑ کر نیچے والی مولی نما جڑ کاٹ کر لگائی گئی کھٹی کی جگہ تبدیل کرنے اور جڑ کاٹنے کی وجہ سے گروتھ بہت آہستہ ہو جاتی ہے یوں یہ کھٹی اچھی محنت کے ساتھ کم و بیش بارہ چودہ مہینوں کے بعد پیوند ہوتی ہے اور مزید ایک سے ڈیڑھ سال بعد اس پر پیوند شدہ پودہ فروخت کے قابل ہوتا ہے یوں کھٹی پر پیوند پودا تقریبا اڑھائی تین سال بعد فروخت ہوتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں بیج سے تیار پودا کم و بیش ایک سال بعد فروخت کے قابل ہو جاتا ہے لیکن یہ پھل دیر سے لیتا ہے اور کمزور روٹ سسٹم کی وجہ سے زمین سے پوری خوراک نہیں لے پاتا جس وجہ سے مختلف بیماریوں کی زد میں رہتا ہے, ایئر لیرنگ سے تیار پودے بھی اسی تناسب سے جلدی فروخت کے قابل ہو جاتے ہیں لیکن ان کا روٹ سسٹم بھی جٹی کھٹی جتنا مضبوط و بیماریوں سے مقابلہ کرنے کی اتنی صلاحیت نہیں رکھتا پھر بیج سے تیار پودوں کا روٹ سسٹم اتنا طاقتور نہیں ہوتا کہ پودے کو سہارا دے سکے تو بیج سے تیار اکثر پودے جوانی میں پہنچنے پر ایک طرف گر جاتے ہیں جس وجہ سے پہلے سے کمزور روٹ سسٹم مزید 50% ختم ہو جاتا ہے اور ساتھ ہی شاخیں زمین پر لگنے سے مسائل مزید بڑھ جاتے ہیں اور یہ دیسی لیموں پر سر سوک سمیت دیگر مسائل کی بنیادی وجوہات میں سے ہیں, کھٹی پر پیوند پودے خریدنے سے پہلے منتخب نرسری سے ایک دو پودے نکلوا کر انکی گاچی توڑ کر جڑوں کا معائنہ کر لیا جائے بلکہ کچھ نرسریوں سے ایک ایک دو دو پودے نکلوا کر انکی جڑوں کا موازنہ کیا جائے اور اس معمولی خرچے اور محنت کو ضائع نہ سمجھا جائے کیونکہ کم و بیش آنے والے چالیس پچاس سالوں کا اور باغات پر آپکی محنت و وقت کا نچوڑ اس عمل میں ہے یوں آپ بہترین روٹ سسٹم والے پودوں کے انتخاب میں کامیاب رہیں گے اور باغبانوں کے اس عمل سے نرسریوں والے معیاری کام کرنے پر مجبور ہوں گے, اور جڑوں کے معائنے کے بعد جڑوں کو گیلی مٹی لگا کر شاپر میں باندھنے سے یہ پودے بھی چل جاتے ہیں یوں چند نرسریوں سے لئے گئے پودے بھی ضائع نہیں ہوں گے بلکہ سیمپل لا کر جہاں پودے لگانے ہوں وہیں معائنہ کر کے فورا لگا دیے جائیں اور یہ نقطہ بھی بتاتا چلوں کہ پودا لگاتے وقت پہلے مٹی ڈال کر اوپر سے پانی لگانے کی بجائے پہلے گڑھے کو پانی سے بھر دیا جائے پھر اس میں پودا رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال جائے جس میں مٹی کے بڑے ڈھیلے نہ ہوں پھر ہاتھوں سے پانی میں مٹی کو دبا کر تمام ہوا خارج کر دی جائے اور مٹی و پانی کو اچھی طرح گرڑھے میں گاچی کے گرد ملا دیا جائے, خیال رہے کہ گاچی نہ ٹوٹے, یوں اوپر سے ڈالی گئی مٹی و گاچی یکجان ہو جائیں گی اسکے بعد اوپر والی سطح خشک وتر کے قریب پہنچنے پر پھر پانی لگا دیا جائے اور وتر آنے پر پڑنے والی دراڑوں کو مٹی کا پاؤڈر ڈال کر یا ہاتھ سے دبا کر لازمی ختم کیا جائے
اسکے بعد چونکہ دیسی لیموں پر کانٹے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے سوکھی و بیمار شاخیں نکالنا گوڈی وغیرہ پر باغبان توجہ نہیں دیتے جس وجہ سے بیماری کا حملہ مزید شدت اختیار کر جاتا ہے, اگر ہم غور کریں تو سبزیوں والے کسان کبھی روزانہ تو اکثر دوسرے تیسرے دن سپرے کر کے کیڑوں و بیماریوں پر کنٹرول رکھتے ہیں جبکہ اسکے مقابلے میں دیسی لیموں کے باغبان سٹرس کینکر و فنگس جنکا زیادہ حملہ ہوتا ہے کے خلاف مہینہ تو دور کی بات چھ ماہ میں ایک سپرے بھی نہیں کرتے پھر ہم تقریبا 95% باغبانوں کو متوازن کھادوں کے صحیع وقت پر استعمال جیسی بنیادی باتوں کا علم نہیں اگر ہم ان امور پر کام کریں تو میرےخیال میں آنکھیں بند کر کے دیسی لیموں کے باغات لگائے جا سکتے ہیں جس سے نہ صرف باغبان بھر پور نفع کما سکتے ہیں بلکہ اپنے ملک کے شہریوں کے لئے نسبتا کم قیمت پر اچھی کوالٹی کا دیسی لیموں بھی مہیا کیا جا سکتا ہے, ضرورت اس امر کی ہے کہ با اعتماد نرسریوں سےدیسی لیموں کے پیوندی پودے لگائے جائیں اور انکی خوراک و بیماریوں کو توجہ سے کنٹرول کیا جائے تو دیسی لیموں کا کوئی جوڑ نہیں نہ ذائقے کے حوالے سے نہ قیمت کے حوالے سے.
اللہ کریم سب کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف
دعا گو محمد اسلم میکن.

مزید پڑھیں  پاکستان میں پراپرٹی کا کاروبار کیسے کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں