how to start business in pakistan 201

پاکستان میں کاروبار کیسے شروع کیا جائے

کاروبار کیسے شروع کیا جائے
کاروبار کے حوالے سے سب سے پہلے یہ دیکھنا پڑےگا کہ کاروبار کارجحان کتنا ہے۔ اس وقت ہمارے ملک میں چار لا کھ کے قریب بزنس گرائجویٹ پیدا ہو رہے ہیں لیکن وہ کاروبار نہیں کر رہے ۔ اس کی دو وجوہات ہیں پہلی وجہ حکومت ہے جو کہ کاروبار کے حق میں نہیں ہے۔ دوسری وجہ تعلیمی نظام ہے جو اپنا کاروبار کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں کر رہا ۔ لوگوں میں کاروبار کی سمجھ بوجھ تب پیداہوتی ہے جب کاروباری رجحان ہو۔ جو کاروباری گھر ہوتے ہیں ان گھروں میں نفع نقصان اور لین دین کی باتیں ہوتی رہتی ہیں ۔ کاروباری باتوں کی وجہ سے ان کے بچوں میں کاروبار کا رجحان پیدا ہوجاتا ہے ۔ شیخ خاندان میں بچوں کو زیاد ہ نہیں پڑھایا جاتا ان کے نزدیک یہ وقت ضائع کرنے والی بات ہے ۔ وہ اپنے بچوں کو تھوڑا بہت پڑھا کر کسی کاروبار میں ڈال دیتے ہیں۔ جب بچے کاروبار کی مار کھا کر کاروبار سیکھ لیتے ہیں تو وہ اپنا کاروبار ان کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلیم سے بندے کی گرومنگ ہوتی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جتنے بھی کھرب پتی لوگ ہیں وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں ۔ دنیا میں کوئی پروفیسر کھرب پتی نہیں ہے۔اپنا کاروبار اعتماد دیتا ہے اور کاروبار سے ہی زندگی بدلتی ہے۔
بنیادی طور پر پہلے کام سیکھا جاتا ہے پھر کام کیا جاتا ہے ۔ لوگ بغیر تجربے کے کام میں چھلانگ لگا لیتے ہیں اور ناکام ہو جاتے ہیں ۔ لوگوں کی بڑی تعداد ایسی ہے جو باہر سے پیسہ کماتی ہے یہاں کاروبار کرتی ہے اور ناکام ہو جاتی ہے ۔ کاروبارصرف پیسے نہیں ہوتا بلکہ کاروبار کے کچھ لوازمات ہیں ان لوازمات کو پورے کیے بغیر کاروبار نہیں کیا جاسکتا۔ ان لوازمات میں پہلا اصول آئیڈیا ہے بغیر آئیڈیے کے کاروبار نہیں کیا جاسکتا۔آئیڈیے میں جان ہو تو اعتماد پیداہوتا ہے اور پھر یہ اعتماد دوسروں کو متاثر کرتا ہے ۔ بڑے لوگوں کے پاس پیسہ ہوتا ہے لیکن آئیڈیا نہیں ہوتا ۔ پیسہ اور آئیڈیا ملیں تو کامیابی ملتی ہے۔ خوش قسمت لوگ وہ ہوتےہیں جن کے پاس پیسہ بھی ہوتا ہے اورآئیڈیا بھی ہوتا ہے۔ اس وقت مارکیٹ میں جتنے براینڈ ز ہیں وہ آئیڈیاز ہیں ۔ ان لوگوں نے مارکیٹ کو دیکھتے ہوئے اپنے آئیڈیے پر کام کیا اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ برینڈ بن گئے۔ بھارت میں فیلی کی چائے ایک براینڈ ہے ۔ فیلی چائے والے چائے کے کپ میں آلائچی اور زعفران ڈالتے ہیں جس کی وجہ سے چائے منفرد بن جاتی ہے اور ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ اس چائے کو پیئے۔ برصغیر میں موسم گرم مرطوب ہونے کی وجہ سے کافی کو اتنا زیادہ پسند نہیں کیا جاتا اس کے مقابلے میں چائے زیادہ پسند کی جاتی ہے ۔ اس چیز کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیلی والے اپنے کاروبار کو بڑھاتے ہوئے دبئی تک چلے گئے ۔ آئیڈیا اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے ۔ جو شخص آئیڈیا تلاش نہیں کر سکتا وہ کاروبار نہیں کر سکتا۔
آئیڈیا وہ کامیاب ہوتا ہے جو لوگوں کی ضرورت اورپسند کو پورا کرے ۔ سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ لوگ کیا پسند کرتے ہیں اور ان کی ضرورت کیا ہے ۔ آج ٹرینڈز بدل رہے ہیں، زمانہ بدل رہا ہے، لوگ کیا مانگ رہے ہیں، لوگوں کو کیا چاہیےان سب کے بارے میں پتا ہونا چاہیے ۔اوبر اور کریم کمپنیاں ایک آئیڈیا ہے ۔ان کمپنیوں نے لوگوں کی پسند کو مدِ نظر رکھا اور ان کی ضرورت کو پورا کیا ۔ اس آئیڈیے کی وجہ سے لوگ تھوڑے پیسوں میں نہایت آرام سے اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں ۔ایک وہ وقت تھا جب کسی کے وہم وگمان میں نہیں تھا کہ پانی بوتلوں میں ملے گا ۔ کسی کے ذہن میں یہ بات آئی کہ پانی صاف نہیں ہے لوگوں کو صاف پانی ملنا چاہیے اور آج وہ وقت ہے کہ ہر کوئی منرل بوتل ہا تھ میں لیے پھرتا ہے۔ اسی طرح ڈائیپر ایک آئیڈیا ہے جو لوگوں کی ضرورت کو پورا کر رہاہے ۔ بندہ ایک آئیڈیا پکڑتا ہے مارکیٹ میں جاتا ہے اور نیا ٹرینڈ سیٹ کر لیتا ہے ۔
وہ آئیڈیا زیادہ کامیاب ہو تا ہے جو خلا ء کو پرُ کرتا ہے ۔ جب خلا ء ہو اور اس کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے تو زیادہ کامیابی ملتی ہے۔ جیسے لاہور میں چائے تو بہت جگہوں پر ملتی ہے لیکن اچھی چائے بہت کم جگہوں پر ملتی ہے۔ گنتی کے چند ہوٹل ہوں گے جہاں پر بہت اچھی چائے ملتی ہے۔ نوئے فیصد سے زائد ہوٹلوں میں چائے اچھی نہیں ملتی کیونکہ انہیں چائے یا تو بنانی نہیں آتی یا پھر وہ اچھی چائے بناتے نہیں ہیں ۔ یہ ایک خلاء ہے جس کو اچھی چائے بنا کر پرُ کیا جا سکتا ہے۔ گاہک بہت ہیں اب یہ ایک آئیڈیا ہےاچھی چائے بناکر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح ہمارے معاشرے میں بہت سی جگہ خالی ہے اس خالی جگہ کو پرُ کیا جاسکتا ہے۔
ہجرت ایک آئیڈیا ہے ۔ لاہور میں صبح کا ناشتہ بہت شوق سے کیا جاتا ہے اگر ایک شخص اس آئیڈیے کو لے کر کسی اور شہر میں جائے اور وہاں ناشتے کو متعارف کروائے تو مارکیٹ خالی ہونے کی وجہ سے وہ کامیاب ہو جائے گا۔ بعض اوقات بندہ جس رہا ہوتا ہے وہاں نصیب نہیں ہوتا جیسے ہی جگہ تبدیل ہوتی ہے نصیب بدل جاتا ہے۔ ہجر ت رسولوں اور پیغمبروں نے بھی کی ہے۔ ہجرت میں برکت ہے۔ لوگ ہجرت نہیں کرتے وہ اپنے علاقے کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور پھر جو رزق کہیں دوسری جگہ لکھا ہوتا ہے وہ انہیں نہیں ملتا۔ اگر ضرور ی ہو تو ہجر ت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
کاروبار میں سب سے بڑی رکاوٹ بندے کی اپنی “انا ” ہوتی ہے ۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کا آفس ہو ، آگے پیچھے کام کرنے والے لوگ ہوں اور وہ صرف بیٹھ کر لوگوں کو آرڈر کر ے۔ ایسے کاروبار نہیں ہوتے آج جن لوگوں کے نام ہیں انہوں نے بھی کبھی اپنا آغاز چھوٹے سے کام سے کیا تھا۔ کاروبار کو ہمیشہ چھوٹے لیول پر شروع کرنا چاہیے ۔ جو چیز لیباٹری میں بنتی ہے وہ یہ یقین دلاتی ہے کہ اگر یہ چھوٹا کام ہو سکتا ہے تو پھر بڑا کام بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگ چھوٹے پیمانے سے کاروبار نہیں کرتے جس کیو جہ سے بڑے لیول پر بھی کاروبار نہیں ہوپاتا۔۔ بڑے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنے کام کا آغاز ریڑھی سے کیا ہے ۔ جوشخص اپنی “انا” ختم کر کے چھوٹا سا کام بھی شروع کر تا ہے اللہ تعالیٰ اس کے کام میں برکت ڈال دیتا ہے۔ “انا” کے ٹوٹنے سے کاروبار شروع ہو تا ہے۔ ہم “انا ” کو ختم نہیں کرتے بلکہ اس کو پالتے رہتےہیں اور پھر دعا بھی کرتے ہیں کہ یااللہ ہمار ا کاروبار چل جائے ایسا ناممکن ہے۔ بندے کو مضبوط ہونا چاہیے ۔ لوگوں کی اکثر یت صرف اس بات پر کام شروع نہیں کرپاتی کہ لوگ کیا کہیں گے ۔ جو بندہ اپنی “انا” کو ذبح کر سکتا ہے وہ ترقی کر سکتا ہے۔ انا کو ذبح کرنے کاآسان طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کی پروا کرنا چھوڑ دیں۔
آج ڈگریاں کھوکھلی ہوچکی ہیں ان سے جو چیز ملنی چاہیے وہ نہیں مل رہی ۔ تعلیمی اداروں سے فارغ ہونے والے بچے مشکلا ت کا شکار ہو رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں کاروبار کے متعلق سکھایا ہی نہیں جا رہا۔ جو استاد کاروبار پڑھا رہے ہیں انہوں نے زندگی میں کبھی کاروبار کیا ہی نہیں ہوتا جس کی وجہ سے تعلیم اپنا اثر چھوڑ نہیں پاتی۔ بچوں میں بھی یہ سمجھ بوجھ نہیں ہے کہ وہ سوچیں کہ ہم کاروبار کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہم نے کاروبار کرنا ہے ۔کاروبار کو سمجھنے کے لیے ہم کتنے کاروباری لوگوں کو ملے ہیں ۔ بزنس والے طالب علموں کو چاہیے کہ وہ کاروباری لوگوں کو ملیں ان سے کاروبار کے گرُ سیکھیں ۔ ان سے پوچھیں کہ انہوں نے اتنی ترقی کیسے کی ۔ جو لوگ پہلے سے کاروبار کر رہے ہوتےہیں وہ بہت کچھ بتائیں گے ۔مارکیٹ سے کاروبار کے متعلق کتابیں پڑھیں ۔ ان چیزوں سے کاروبار کرنے میں آسانی ہو گی۔
کاروبار اخلاقیات کی بنیاد چلتا ہے اگر اخلاقیات نہ ہوں تو پھر کاروبار نہیں ہو سکتا۔ جس طرح پیسہ کمانا بہت ضروری ہے اسی طرح عزت کمانا بھی بہت ضروری ہے۔ بازار سب سےبڑی یونیورسٹی ہے۔ دکان سب سے بڑی یونیورسٹی ہے۔ گاہک سب سے بڑا استاد ہے۔مارکیٹ ،دکان،بازار جو کچھ بندے کو سکھا تے ہیں اور کوئی نہیں سکھاسکتا۔ جوبند ہ مارکیٹ میں بیٹھ کر نہیں سیکھ سکتا وہ کہیں سے نہیں سیکھ سکتا۔ کاروبار میں کامیابی کےلیے زبان کا ایک ہونا بہت ضروری ہے۔ بڑے کاروبار صرف پرچی پر چل رہے ہیں ۔ پرچی اتنی اہم ہوتی ہے اس کو چیک کے برابر سمجھا جاتا ہے ۔ پیسے کا لالچ امیر نہیں کرتا بلکہ کاروبار سے محبت امیر بناتی ہے۔ جو لوگ پیسے کے پیچھے بھاگتے ہیں وہ کبھی امیر نہیں ہوتے۔ کام سے محبت بندے کو عروج پر لے کر جاتی ہے ۔کاروبار فل ٹائم جاب ہے یہ چوبیس گھنٹے توجہ مانگتا ہے ۔ کاروبار میں دماغ ہر وقت نفع نقصان کے بارے میں سوچتا رہتا ہے ۔ کاروبار میں اونرشپ ہوتی ہے بندے میں یہ احساس پیدا ہو جاتا ہے کہ یہ “میرا کاروبار” ہے ۔ جب تک یہ احساس نہ ہو ترقی ممکن نہیں ہوتی۔ کاروباری میں کامیابی کے لیے یہ احساس بہت ضروری ہے۔

مزید پڑھیں  کاروبار میں کامیابی کے چند اہم ﺭﮨﻨﻤﺎ ﺍﺻﻮﻝ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں