کرپٹو کرنسی یا بٹ کوئین کیا ہے 44

کرپٹو کرنسی یا بٹ کوئین کیا ہے

کرپٹو کرنسی (بٹ کوائن)
..
آجکل ہر جگہ کرپٹو کرنسی کی باتیں ہو رہی ہیں
اسکے مشہور ہونے کی سب سے بڑی وجہ بٹ کوائن ہے
یقیناً آپنے بھی بٹ کوائن کی وجہ سے ہی کرپٹو کرنسی کا نام سنا ہوگا
لیکن آپکو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ اس وقت دنیا میں 900 سے زیادہ کرپٹو کرنسیاں موجود ہیں
جن میں
Bitcoin, Ethereum, Lite coin, Ripple, Factom,
مشہور کرنسیاں ہیں
اب کہیں اس حلال اور کہیں حرام کہا جا رہا ہے
کہیں یہ لیگل ہے تو کہیں غیر قانونی،
میں ان جھمیلوں میں پڑے بغیر آپکو کرپٹو کرنسی کے بارے میں بتاتا ہوں اور اس سے پہلے آپکو مشہور زمانہ بٹ کوائن کے کچھ دلچسپ حقائق بتا دوں
بٹ کوائن 2009 میں وجود میں آیا
اس وقت اسکی قیمتی تقریباً صفر تھی
اس وقت ایک گمنام بندہ جس کا نام
smokettoomuch
ظاہر کیا گیا
تھا اسنے اپنے دس ہزار بٹ کوائن صرف پچاس ڈالر کے عوض نیلامی میں پیش کیے لیکن کوئی خریدنے والا نہیں تھا کیونکہ اسکی کوئی ویلیو ہی نہیں تھی
پھر دو ہزار دس کے شروعات میں اسکی قیمت
اتنی تھی کہ آپ ایک روپے کے تین بٹ کوائن بآسانی خرید سکتے تھے
نکلی نا ٹھنڈی سانس ?
مئی دو ہزار دس میں ایک بٹ کوائن ایک روپے کے برابر ہوا
اسکے بعد اسکی پرواز اوپر نیچے ہوتی رہی لیکن دو ہزار سترہ میں بٹ کوائن نے رائٹ براداران سے معاہدہ کر کے فضا میں چھلانگ لگا دی
اور تقریباً پچانوے فیصلہ پاکستانیوں کی قوت خرید سے کوسوں دور چلا گیا
ایک وقت یوں آیا کہ دو ملین پاکستانی روپوں میں ایک بٹ کوائن فروخت ہونے لگا
پھر انجن میں وقتی خرابی کی وجہ سے اس کی قدر میں اماؤس کی رات آئی
اور اسکی قیمت گرتے گرتے آج کی تاریخ میں یعنی یکم جنوری کو پاکستانی روپے میں
1488943.40 روپے
ہے
یعنی اب بھی ملین سے کافی اوپر ہے
اسکی قیمت میں کب شب قدر آتا ہے کوئی حتمی رائے نہیں
لیکن بٹ کوائن کی مشہوری نے لوگوں کو دوسری کرنسی کے متعلق بھی سوچنے پر مجبور کر دیا
جن میں
Ethereum
Ripple
سر فہرست ہیں
اس وقت متوسط طبقے کی قوت خرید میں رپل ہی آتا ہے
اسکو پاکستان میں کیسے خریدنے ہیں اور باقی تمام کرنسی کے حوالے سے مکمل
لیکن ابھی ہم بات کر رہے تھے کہ کرپٹو کرنسی کیا ہے
تو کرپٹو کرنسی
ڈیجیٹل رقم کی ایک شکل ہے جس میں آپکو رقم نہایت ہی مہارت سے پروگرام اور ڈیزائن کی ہوئی شکل یعنی عام زبان میں کمپیوٹری شکل میں ملتی ہے
یہ بالکل ڈالر یا ین یا روپے کی طرح ہے
یعنی جیسے آپکا ایے ٹی ایم کارڈ ہوگیا ویسے ہی یہ کرپٹو کرنسی ہے
یعنی آپ اس کے ذریعے کچھ بھی خرید سکتے ہیں رقم ٹرانسفر کر سکتے ہیں
لیکن یہ کرنسی
decentralized
کرنسی ہوتی ہے
اگر آپ ڈی سینٹرالائزڈ کرنسی کے بارے میں نہیں جانتے تو آپکو بتا دوں کہ روایتی کرنسی ? ہمیشہ سے کوئی ادارہ مانیٹر کرتا ہے
یعنی پاکستان میں روپے کی قیمت اسکی قوت خریدو فروخت صرف سٹیٹ بینک آف پاکستان ہی طے کر سکتا ہے
لیکن کرپٹو کرنسی میں ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ آپ اسے بارٹر سسٹم کی طرح سمجھ سکتے ہیں
جس میں کوئی تیسرا فریق شامل نہیں ہوتا
تو اسکا کوئی ریکارڈ بھی نہیں ہوتا
یعنی چوروں اور کرپٹ افراد کے لیے یہ کافی کمال کی کرنسی ہے کہ اس سے وہ اپنا کالا دھن سفید میں بدل سکتے ہیں
اور کسی کو کوئی پتا نہیں چلے گا کیونکہ اسکا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا صرف یوزر کا دماغ ہی جانتا ہے کہ اسکے پاس کتنی رقم ہے
یا پھر وہ جب تک پبلک کو بتا نہیں دیتا
یا اپنے والٹ یعنی ورچوئل پرس کو دوسروں کو دکھاتا نہیں ہے
یعنی آسان لفظوں میں یہ ایسی رقم ہے جس کا سراغ کوئی حکومت بھی نہیں لگا سکتی
یہی اسکا فائدہ ہے اور یہی اسکا نقصان ہے
ایک حوالے سے اس میں سارا اختیار یوزر کا ہوتا ہے
چاہے وہ کرنسی کسی ریٹ پر بیچے
اس کرنسی کے ریٹ کی قیمت وہ تمام افراد طے کرتے ہیں جو اسکے فی الوقت مالک ہوتے ہیں
اسکے علاوہ اس کرنسی کی قیمت ڈیمانڈ کے مطابق کم زیادہ ہوتی رہتی ہے
اب ہم بات کرتے ہیں کہ یہ کام کیسے کرتی ہے
( جاری ہے)

عامر اشفاق

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں