what is bitcoin and how does it workpixabay 609

کرپٹو کرنسی یا بٹ کوئین کیا ہے

کرپٹو کرنسی (بٹ کوائن)

آجکل ہر جگہ کرپٹو کرنسی کی باتیں ہو رہی ہیں اسکے مشہور ہونے کی سب سے بڑی وجہ بٹ کوائن ہے یقیناً آپنے بھی بٹ کوائن کی وجہ سے ہی کرپٹو کرنسی کا نام سنا ہوگا لیکن آپکو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ اس وقت دنیا میں 900 سے زیادہ کرپٹو کرنسیاں موجود ہیں جن میں Bitcoin, Ethereum, Lite coin, Ripple, Factom, مشہور کرنسیاں ہیں
اب کہیں اس حلال اور کہیں حرام کہا جا رہا ہے.کہیں یہ لیگل ہے تو کہیں غیر قانونی، میں ان جھمیلوں میں پڑے بغیر آپکو کرپٹو کرنسی کے بارے میں بتاتا ہوں اور اس سے پہلے آپکو مشہور زمانہ بٹ کوائن کے کچھ دلچسپ حقائق بتا دوں
بٹ کوائن 2009 میں وجود میں آیا،اس وقت اسکی قیمتی تقریباً صفر تھی اس وقت ایک گمنام بندہ جس کا نام SmokeTooMuch ظاہر کیا گیا تھا اسنے اپنے دس ہزار بٹ کوائن صرف پچاس ڈالر کے عوض نیلامی میں پیش کیے لیکن کوئی خریدنے والا نہیں تھا کیونکہ اسکی کوئی ویلیو ہی نہیں تھی پھر دو ہزار دس کے شروعات میں اسکی قیمت
اتنی تھی کہ آپ ایک روپے کے تین بٹ کوائن بآسانی خرید سکتے تھے نکلی نا ٹھنڈی سانس ?
مئی دو ہزار دس میں ایک بٹ کوائن ایک روپے کے برابر ہوا اسکے بعد اسکی پرواز اوپر نیچے ہوتی رہی لیکن دو ہزار سترہ میں بٹ کوائن نے رائٹ براداران سے معاہدہ کر کے فضا میں چھلانگ لگا دی اور تقریباً پچانوے فیصلہ پاکستانیوں کی قوت خرید سے کوسوں دور چلا گیا ایک وقت یوں آیا کہ دو ملین پاکستانی روپوں میں ایک بٹ کوائن فروخت ہونے لگا پھر انجن میں وقتی خرابی کی وجہ سے اس کی قدر میں اماؤس کی رات آئی اور اسکی قیمت گرتے گرتے آج کی تاریخ میں یعنی یکم جنوری کو پاکستانی روپے میں 1488943.40 روپے ہے یعنی اب بھی ملین سے کافی اوپر ہے اسکی قیمت میں کب شب قدر آتا ہے کوئی حتمی رائے نہیں لیکن بٹ کوائن کی مشہوری نے لوگوں کو دوسری کرنسی کے متعلق بھی سوچنے پر مجبور کر دیا جن میں Ethereum Ripple سر فہرست ہیں،اس وقت متوسط طبقے کی قوت خرید میں رپل ہی آتا ہے اسکو پاکستان میں کیسے خریدنے ہیں اور باقی تمام کرنسی کے حوالے سے مکمل لیکن ابھی ہم بات کر رہے تھے کہ کرپٹو کرنسی کیا ہے تو کرپٹو کرنسی، ڈیجیٹل رقم کی ایک شکل ہے جس میں آپکو رقم نہایت ہی مہارت سے پروگرام اور ڈیزائن کی ہوئی شکل یعنی عام زبان میں کمپیوٹری شکل میں ملتی ہے یہ بالکل ڈالر یا ین یا روپے کی طرح ہے یعنی جیسے آپکا ایے ٹی ایم کارڈ ہوگیا ویسے ہی یہ کرپٹو کرنسی ہے یعنی آپ اس کے ذریعے کچھ بھی خرید سکتے ہیں رقم ٹرانسفر کر سکتے ہیں لیکن یہ کرنسی decentralized کرنسی ہوتی ہے اگر آپ ڈی سینٹرالائزڈ کرنسی کے بارے میں نہیں جانتے تو آپکو بتا دوں کہ روایتی کرنسی ? ہمیشہ سے کوئی ادارہ مانیٹر کرتا ہے یعنی پاکستان میں روپے کی قیمت اسکی قوت خریدو فروخت صرف سٹیٹ بینک آف پاکستان ہی طے کر سکتا ہے لیکن کرپٹو کرنسی میں ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ آپ اسے بارٹر سسٹم کی طرح سمجھ سکتے ہیں جس میں کوئی تیسرا فریق شامل نہیں ہوتا تو اسکا کوئی ریکارڈ بھی نہیں ہوتا یعنی چوروں اور کرپٹ افراد کے لیے یہ کافی کمال کی کرنسی ہے کہ اس سے وہ اپنا کالا دھن سفید میں بدل سکتے ہیں اور کسی کو کوئی پتا نہیں چلے گا کیونکہ اسکا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا صرف یوزر کا دماغ ہی جانتا ہے کہ اسکے پاس کتنی رقم ہے یا پھر وہ جب تک پبلک کو بتا نہیں دیتا یا اپنے والٹ یعنی ورچوئل پرس کو دوسروں کو دکھاتا نہیں ہے یعنی آسان لفظوں میں یہ ایسی رقم ہے جس کا سراغ کوئی حکومت بھی نہیں لگا سکتی یہی اسکا فائدہ ہے اور یہی اسکا نقصان ہے ایک حوالے سے اس میں سارا اختیار یوزر کا ہوتا ہے چاہے وہ کرنسی کسی ریٹ پر بیچے اس کرنسی کے ریٹ کی قیمت وہ تمام افراد طے کرتے ہیں جو اسکے فی الوقت مالک ہوتے ہیں اسکے علاوہ اس کرنسی کی قیمت ڈیمانڈ کے مطابق کم زیادہ ہوتی رہتی ہے

عامر اشفاق

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں