karobar 745

کاروبار کے لئے مارکیٹنگ کا ٹرینڈ سمجھنا ضروری ہے

کاروبار کے لئے مارکیٹنگ کا ٹرینڈ سمجھنا ضروری ہے

دنیا کی تمام کمپنیاں اپنی پروڈکٹس کی پروموشن کے لئے صارفین کو اپنی جانب کھینچنے کے مختلف حربے اور طریقے آزماتی ہیں اور یہی تکنیکی عوامل مارکیٹنگ کہلاتے ہیں ۔ مارکیٹنگ کی کئی اقسام ہیں جن میں سے ایک قسم رعایتی سیل یا آفرز کہلاتی ہے ۔ جو حقیقت میں کسٹمرز کو اپنی پروڈکٹس کی طرف راغب کرنے کا ایک موثر ترین ذریعہ ہے ۔ پاکستان کی برانڈز کہلائی جانے والی تمام کمپنیاں کا بائیو ڈیٹا اٹھا لیجئے آپ کو آفرز کی بھرمار ملے گی۔ عمومی طور پر سیل ان چیزوں پر نظر آتی ہے جن کا تعلق موسم سے ہو جیسے ملبوسات اور شوز وغیرہ ۔۔چونکہ موسم کے حساب سے پہناوے بدلتے رہتے ہیں اس لئے کمپنیاں اپنے پاس موجود سٹاک میں اپنی رقم باؤنڈ کرنے کی بجائے اپنا مارجن کم کرکے فروخت کی پیشکش کردیتی ہیں ، اور اس سے انہیں دو فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔
نمبر ایک ۔ نیا کسٹمر مل جاتا ہے جو عین ممکن ہے کہ پروڈکٹ کے معیار سے مطمئن ہوکر مستقل گاہک بن جائے ۔
نمبر دو ۔ پیسہ سرکل میں آجاتا ہے اور نئی پروڈکٹ کی لانچنگ میں مزید انویسٹمنٹ سے کمپنی کو کہیں زیادہ منافع مل جانے کی امید پیدا ہوجاتی ہے ۔

کاروباری نفسیات کو مد نظر رکھئے

کسی بھی کمپنی کے لئے کسٹمر انتہائی اہم ہوتا ہے ، بعض مذاہب میں تو کسٹمر کو اوتار تک سمجھا جاتا ہے ، کوئی اسے بھگوان کا روپ بتاتے ہیں ( نعوذ باللہ ) جبکہ کاروباری دنیا میں کسٹمر کو صحیح سمجھا جاتا ہے ، وہ چاہے کچھ بھی کہے پھر بھی وہی ٹھیک ہے ۔ اسی لئے کمپنیز وقتی طور پر بچت سے زیادہ کسٹمر سے تعلق کو ترجیح دیتی ہیں ، اور اس تعلق کو مضبوط کرنے کے لئے کمپنیز ہر وہ قدم اٹھاتی ہیں جو ان کی نظر میں بہتر ہو ۔ جو کسٹمرز کو بار بار ان کی جانب کھینچ سکے۔
یادرکھئے ! بزنس کی پروموشن میں نفسیات کا بہت عمل دخل ہوتا ہے، جو کاروباری کسٹمرز کی نفسیات کو سمجھ گیا مطلب اسے پَر لگ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ کامیابی کی بلندیوں تک جا پہنچے گا ۔ پاکستان کیا دنیا بھر کی اقوام کا نفسیاتی مطالعہ کر لیجئے ، تقریباً ہر ملک و قوم کے باشندے کمپنیز کی طرف امڈے چلے آتے ہیں آخر کیوں ؟
یہ ایک کاروباری نفسیات ہے ، جس کو سمجھنے کے بعد کمپنی کے شہ دماغ پیچھے بیٹھ کر کھیلتے ہیں اور مشاق ٹیم اپنے سروے سے نت نئے خوشنما نعروں کے ساتھ پبلک کو اپنی جانب کھینچتی رہتی ہے ۔ اور یہ غلط بھی نہیں ہے ہر کمپنی کو اپنی پروڈکٹس کی پروموشن کا جمہوری حق حاصل ہے تاہم دعوی غلط نہیں ہونا چاہئے جیسے بتایا جائے پروڈکٹ بھی ویسی ہی ہو۔

کمپنیز کا ٹرینڈ کیا ہے ؟

پاکستانی کسٹمرز کی نفسیات کا مطالعہ کیا جائے تو کمپنیز متوجہ کرنے کے لئے انتہائی پر کشش آفرز دیتی رہتی ہیں ، شاید آپ کے ذہن میں یہ آئے کہ اس سے کمپنیز کو خسارہ ہوتا ہے یا یہ کہ کمپنیز کی سیل نہیں ہورہی ہے یا یہ کہ ان کا کام ٹھنڈا پڑگیا ہے اسی لئے وہ آفرز دے رہے ہیں ۔ اگر آپ کمپنیز کی آفرز کو اس تناظر میں دیکھتے ہیں تو آپ کو بزنس پہ مزید سٹڈی کرنی چاہئے ۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ طور جان کی سیل نہیں اس لئے آفر ہے ؟ کیا آپ یہ سوچ سکتے ہیں کہ باٹا کا مال نہیں نکل رہا اس لئے انہوں نے یہ آفر لگائی ہے ؟ کیا جے ڈاٹ کے پاس کسٹمرز کی کمی ہے ؟ ہر گز نہیں ۔ یہ اور ان کے جیسی تمام کمپنیاں ہر فرد کو اپنا خریدار بنانے پر تلی ہوئی ہیں ۔ ہر کمپنی کی خواہش ہے کہ وہ ہر گھر میں گھس جائے اور ہر ان کی پروڈکٹس کا خریدار ہو اور اس مقصد کے لئے ان کے پاس پاکستانی نفسیات کے مطابق سب سے بڑا ہتھیار “ Sale “ ہے چاہے وہ Up to ہو چاہے Flat کسٹمر دوڑا چلا آتا ہے ۔

کم ریٹ کیوں ؟

کمپنیز کی طرف سے %15 یا %20 یا %50 یا %70 تک آفرز ہوتی ہیں لیکن ساتھ میں چھوٹا سا up to لکھا ہوتا ہے، اس وقت گل احمد کمپنی کی %70 سیل ہے لیکن آپ جاکر وزٹ کیجئے تو وہاں شاید دو سے تین آئٹم ایسے ہوں گے جن پہ %70 رعایت ہوگی ۔زیادہ تر کم سے کم رعایت دی جاتی ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ کیا کمپنی کو اس سے خسارہ نہیں ہوتا ؟ جی نہیں ۔ کوئی بھی کمپنی خسارے کا سودا نہیں کرتی ، یہاں پر بھی نفسیاتی گیم ہوتی ہے ۔ اگر ایک پروڈکٹ کی قیمت 3 ہزار ہو تو کمپنی اس پہ چار ہزار کا ٹیگ لگا کر %30 رعایت پہ31 سو میں دے دیتی ہے ۔ اور کسٹمر یہ سوچ کر خرید لیتا ہے کہ 4 ہزار والی چیز مجھے 31 سو میں مل رہی ہے اور وہ خوشی خوشی قیمت ادا کردیتا ہے حالانکہ اگر وہ پہلے چلا جاتا تو وہی چیز شاید اسے 3 ہزار میں مل جاتی ۔ لیکن ہر کمپنی ایسا کرے یہ لازمی نہیں ہے ۔ بعض کمپنیاں “ نو پرافٹ نو لاس “ والی پالیسی پہ عمل کرتی ہیں تاکہ کسٹمر محفوظ ہوجائے اور معیار سے اطمینان کے بعد دوبارہ واپس آئے ۔

عبداللہ بن زبیر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “کاروبار کے لئے مارکیٹنگ کا ٹرینڈ سمجھنا ضروری ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں