sleeping problem 90

ماں کی بے خوابی بچوں کیلئے بھی نقصاندہ

جو مائیں بے خوابی کا شکار ہوتی ہیں ان کے بچوں کی نیند نہ صرف متاثر ہوتی ہے بلکہ ان کی ذہنی نشوونما اور دماغی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔

س کے لیے ماہرین نے کئی سو بچوں کا سروے کیا ہے اور بے خوابی کی شکار ماؤں اور ان کے بچوں کے درمیان اس کا تعلق دریافت کیا ہے۔ مطالعے میں 200 سے زائد صحت مند بچوں اور ان کے والدین کا جائزہ لیا گیا ہے جبکہ بچوں کی عمریں 7 سے 12 کے درمیان تھیں۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف واروک کے ماہرین نے کی ہے۔

مطالعے کے بعد ماہرین یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ بچوں کے سونے کے مسئلے کو خاندانی نظام کے تحت دیکھنا چاہیے۔ اس عمل میں نیند کے دوران الیکٹرو اینسیفیلو گرافی (ای ای جی) کے ذریعے ایک رات بچوں کا جائزہ لیا گیا اور ان کے گھروں میں جا کر ان کے دماغ پر الیکٹروڈ لگائے گئے۔ دوسری جانب بچوں کے والدین سے ان کی اپنی نیند کی کیفیات اور بچوں میں نیند کے مسائل سے سوالات کئے گئے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جن بچوں کی مائیں بے خوابی یا کچی نیند کی شکار تھیں ان کے بچے بھی کم وقت کے لیے گہری پرسکون نیند میں گئے جو بچوں کی ای ای جی سے ظاہر تھیں۔ تاہم اس پورے عمل میں باپ کی نیند میں کمی بیشی کا بچوں پر کم اثر دیکھا گیا۔ اس کی ظاہری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ بچے ماں کے پاس زیادہ وقت گزارتے ہیں اور ان کا ماں سے رشتہ زیادہ مضبوط ہوتا ہے جس کا اثر ان کی نیند پر بھی ہوتا ہے۔

سوالات کے جوابات میں جب ماں اور باپ نے اپنی نیند کے معیار کی خرابی بیان کی تو انہوں نے خود یہ اعتراف بھی کیا کہ ان کے بچے درست انداز میں نہیں سو سکے یا دیر سے سوتے ہیں۔

اچھی صحت کے لیے پرسکون اور گہری نیند بہت ضروری ہے جبکہ خراب اور ناکافی نیند دماغی کمزوری، یادداشت کو متاثر کرنے اور دماغی و نفسیاتی صحت کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

بالغان میں نیند کا سب سے عام مسئلہ دیر سے نیند کا آنا یا بستر پر لیٹے رہنے کے باوجود دیر تک جاگنا ہے جسے بے خوابی یا انسومنیا کہتے ہیں لیکن اس کی شدت کے مختلف درجے ہوتے ہیں۔

ماہرین نے اس تحقیق کو سراہتے ہوئے والدین سے کہا ہے کہ بچے اپنی ماں سے ان دیکھی ڈور سے جڑے ہوتے ہیں اور یوں ماں کی بے

خوابی ان پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔

Source

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں