Wednesday, April 17, 2024
Homeادبپاکستانی معاشرے کا ایک کڑوا سچ

پاکستانی معاشرے کا ایک کڑوا سچ

میری بیٹی جو اب بارہ سال کی ہو رہی ہے اس کو چار پانچ سال قبل جھولے سے گر کر ناک پر شدید چوٹ لگی۔ ناک کی ہڈی ٹوٹ کر مڑ گئی مگر اس وقت محسوس نہیں ہوا۔وقت کے ساتھ اس کے ناک کی ہڈی ٹیڑھی ہو رہی ہے تو اب سرجری سے سیدھی ہو گی۔ لاہور کے بہت اچھے ای این ٹی پروفیسر ڈاکٹر سے ملاقات کا وقت لیا۔ یہ لاہور کا پرائیویٹ ہسپتال تھا۔ شام 4 بجے بیٹی کو لے کر ڈاکٹر صاحب کے پاس پہنچا۔ 3000 روپے فیس ادا کی اور ڈاکٹر کے روبرو پیش ہو گئے۔
ڈاکٹر صاحب یقیناً انتہائی قابل ڈاکٹر ہیں۔ بیٹی کے ساتھ وہ ہنسی مزاق میں بات کرتے رہے۔ وہ ان کی باتین سن کر ہنستی اور شرما کے جواب دے دیتی۔ ڈاکٹر صاحب پوچھتے ” آپ گڈ گرل ہو یا ویری گڈ گرل ہو ؟ ۔۔۔ ماما کی بات مانتی ہو ؟ سکول میں پوزیشن آتی ہے ؟ آپ کی بیسٹ فرینڈ کا کیا نام ہے ؟ “۔ وغیرہ وغیرہ۔ میں سامنے بیٹھا دیکھتا رہا۔ مجھے بخوبی معلوم ہے کہ پروفیشنلز کسی بھی شعبے کے ہوں وہ یا تو فطرتی طور پر خوش مزاج ہوں تو ہوں وگرنہ یہ سب “کلائنٹ” کو خوش کرنے کی خاطر مصنوعی رویہ ہوا کرتا ہے۔
معائنہ کر چکے تو بولے ” معمولی سرجری کرنا ہو گی مگر یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ بالکل ٹھیک ہو جائے گا”۔ میں نے سن کر کہا کہ اچھا تو کب سرجری ممکن ہے ؟۔ بولے ” آپ کیا کام کرتے ہیں ؟ “۔ مجھے اس آوٹ آف کانٹیکسٹ بات کی سمجھ تو آ گئی کہ اب ڈاکٹر صاحب میری فنانشل ورتھ جاننا چاہ رہے ہیں تا کہ اس کے مطابق مجھے سرجری کاسٹ کا ٹیکہ لگایا جا سکے۔ میں نے مسکین سی شکل بنا کر عرض کی ” ڈاکٹر صاحب میرا انتہائی معمولی سا کاروبار ہے۔ آپ کے بارے بہت سنا تھا اسی لئے بڑی مشکل سے 3000 روپے جمع کر کے آپ کے پاس آیا ہوں۔ یہ میری بیٹی میری جان ہے۔”۔
ڈاکٹر صاحب کے تیور یہ سنتے ہی بدلے۔ چہرے پر حیرانی ابھری۔ انہوں نے بغور میرے کپڑوں کا جائزہ لیا پھر میری بیٹی کے لباس پر ایک نظر ڈالی۔ آخرکار بولے ” پروسیجر آپ کو میرا پی اے سمجھا دے گا”۔ کمرے سے باہر نکلا تو پی اے نے فائل دیکھی۔ کہنے لگا ” آپریشن کی کاسٹ 3 لاکھ، ایک دن آئی سی یو میں رہنا ہو گا اس کے چارجز 24 گھنٹے کے 18000 اور ادویات اس کے علاوہ ہوں گی”۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا اچھا یعنی لگ بھگ 4 لاکھ ؟ ۔۔ بولا “جی لگ بھگ”۔
میں فائل پکڑ کر چلنے لگا تو وہ بولا ” آپ کو ابھی 50 ہزار ایڈوانس جمع کروانا ہوں گے۔ ابھی کروائیں گے تو اس جمعہ کو سرجری کے لئے وقت ملے گا”۔ میں نے سن کر کہا ” بھائی ہو سکتا ہے میں نے کسی اور ڈاکٹر سے کنسلٹ کرنا ہو ؟ یا پھر میرے پاس ابھی 50 ہزار بھی نہ ہوں”۔ انتہائی بیزاری سے بولا ” ڈاکٹر صاحب نے آپ کو پہلے ہی بہت مناسب کاسٹ بتائی ہے۔ اس سے کم انہوں نے کبھی کیا ہی نہیں۔ آپ کو تو انہوں نے بہت رعایت دے دی ہے”۔ میں نے مسکراتے ہوئے اسے کہا “اچھا! اس سے کم کا غریب نواز پیکج کوئی نہیں ہے کیا ؟ “۔ اس نے سن کر مجھے یوں دیکھا جیسا کہنا چاہ رہا ہو کہ کام کروانا کوئی نہیں اور آ جاتے ہیں چسکے لینے !!!
پارکنگ میں موجود اپنی گاڑی میں آ کر بیٹھا تو بیٹی چپ چپ سی نظر آئی۔ میں نے پوچھا کہ کیا بات ہے بیٹا کوئی بات ہے ؟ ۔بڑی اداس سی بولی ” پاپا آپ کے پاس میرے آپریشن کے پیسے نہیں ہیں کیا ؟ “۔۔۔ یہ سن کر مجھے اس کی خاموشی کی وجہ تو سمجھ آ گئی اسے بولا ” کیسی بات کرتی ہو بیٹا، میں نے لوگوں کے علاج کروا دیئے تم تو میری بیٹی ہو۔ مجھے اپنا آپ بھی بیچنا پڑے تو بیچ دوں گا مگر بات پیسوں کی تو نہیں ہے بیٹا۔ بات انسانیت کی ہے۔ بات اصول و جائز و ناجائز کی ہے۔ میں حلال کماتا ہوں اس لئے یوں ناجائز پیسے نہیں لگا سکتا جبکہ یہ ایک معمولی سی سرجری ہے۔ تم جب بڑی ہو گی سمجھ جاو گی۔ سرجری تو میں کرواوں گا مگر ایسے نہیں۔ “
وہ سن کر کچھ دیر چپ ہوئی پھر بولی ” پاپا آپ نے کہا تھا یہ سب سے بیسٹ ڈاکٹر ہیں”۔ میں نے اس کی جانب دیکھا “ہاں یہ قابل ڈاکٹر ہیں مگر بیٹا ضروری نہیں جو اپنے پیشے میں قابل ہو وہ اچھا انسان بھی ہو۔ یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ جیسے میں ایک قابل فوٹوگرافر ہوں لیکن یہ ضروری تو نہیں کہ میں اچھا انسان بھی ہوں۔ جس شخص میں انسانیت نہ ہو وہ چاہے جتنا قابل ہو میرے نزدیک وہ صفر ہے”۔ اس نے بات سمجھتے ہوئے ہنس کر کہا ” پاپا مجھے ان سے کروانا بھی نہیں آپ اپنے 3000 واپس لے آئیں”۔ اب اس بچی کا جتنا ذہن تھا اس نے ایسی بات کہہ دی۔ اسے لگا ہو گا کہ جو فیس دی وہ اگر مکمل علاج نہ کرواو تو قابل واپسی ہوتی ہے۔ میں نے بھی جواب میں قہقہہ لگاتے کہا ” بیٹا وہ واپس نہیں ہو سکتے۔ ڈاکٹر صاحب نے آپ کو انٹرٹین بھی تو کیا تھا ناں ؟ کتنا ہنسایا تھا انہوں نے ؟ یہ ان کے سروس چارجز تھے” ۔۔۔
آپ کو بتاتا چلوں کہ میں نے چلڈرن ہاسپٹل فیصل آباد جو کہ بچوں کے واسطے سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال ہے وہاں رابطہ کیا۔ مجھے سینئیر ترین پروفیسر ڈاکٹر نے اٹینڈ کیا۔ گپ شپ لگائی۔ بیٹی کا مکمل معائنہ کیا اور بولے کہ بخاری صاحب مشورہ یہ ہے کہ آپ اس کے ناک کی ہڈی کی ٹریٹمنٹ ابھی بالکل نہ کروائیں۔ اگر کروانا چاہئیں تو میں کل ہی کر دوں گا۔ معمولی سی سرجری ہے کوئی بڑا ایشو نہیں ہے۔ مگر بیٹی کی عمر ابھی بارہ سال ہے۔ اس کی ہڈیاں ابھی بڑھیں گی۔ اگر ابھی سرجری کر بھی دی تو ممکن ہے کہ پھر ہڈی بڑھ جائے۔ آپ اسے چار پانچ سال بعد یہاں لائیں۔ جب یہ سولہ سترہ سال کی ہو جائے گی تب بہتر رہے گا۔ جن ڈاکٹر صاحب نے آپ کو فوری سرجری کا بتایا تھا ان کی قابلیت بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔
یہ بات مجھے منطقی لگی۔ میں نے رخصت ہونے سے قبل برائے معلومات پوچھا کہ اگر ابھی سرجری کرنا ہو تو کتنی کاسٹ آ جائے گی ؟۔ جواب ملا کہ میں ہسپتال کی پچاس روپے کی پرچی پر مفت کر دیتا ہوں۔ البتہ آپ اگر جاننا چاہتے ہیں کہ کتنا خرچ ہو سکتا ہے تو کوئی اچھا ڈاکٹر اس سرجری کا زیادہ سے زیادہ ساٹھ ستر ہزار لے سکتا ہے۔
ہمارا کلچر ایسا ہے کہ کیا وائٹ کالر لوگ ڈاکٹر وکیل وغیرہ اور کیا ریڑھی بان۔ سب آپ کی گاڑی، آپ کے فنانشل سٹیٹس اور آپ کے لباس سے آپ کی قیمت طے کر کے آپ کو جہاں تک ممکن ہو ٹوکا پھیرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ یہ یہاں کامن پریکٹس ہے۔ ڈاکٹر کے سامنے اس کا مریض نہیں بلکہ کلائنٹ ہوتا ہے۔ وکیل کے سامنے اس کا مدعی نہیں بلکہ گاہک ہوتا ہے اور پھل فروش کے سامنے گاڑی رکتے ہی اس کا ریٹ دگنا ہو جاتا ہے۔ یہ مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے
سید مہدی بخاری۔

متعلقہ مضامین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ