تعلیم

سوشل میڈیا کا مثبت اور منفی استعمال

آج ہر انسان جس کے پاس ٹچ موبائل موجود ہے وہ سوشل میڈیا ضرور استعمال کر رہا ہے۔ کئی حوالوں سے سوشل میڈیا ہماری زندگی میں آسانی بھی پیدا کررہا ہے۔ کاروباری افراد اس کو استعمال کرتے ہوئے اپنے کاروبار کو مزید وسعت دے رہے ہیں۔ اساتذہ اپنی ٹیچنگ میں اس کو استعمال کرکے آن لائن ٹیچنگ کر رہے ہیں۔ اس طرح یہ تقریباً ہر شعبہ زندگی کا ایک لازمی جز بن چکا ہے۔

جہاں اس کے بے شمار فوائد ہیں وہاں اس کے منفی استعمال کی وجہ سے معاشرے میں مجموعی طور پر اخلاقی زوال ہو رہا ہے۔ اس وقت سوشل میڈیا پر گندے اور غیر اخلاقی مواد کی مسلسل اور آسان فراہمی اس بات کی دلیل ہے کہ سوشل میڈیا ہمارے لیے اس دور کی ایک آزمائش اور فتنہ ہے۔ عمومی طور پر ہماری نوجوان نسل ہر وقت ویڈیوز بنانے اور اس کو وائرل کرنے کی سوچ میں سرگرداں ہے۔ ہاتھ میں پکڑا موبائل کسی کی ویڈیو بنانے کیلیے ہر وقت تیار رکھا ہے ۔ وقت کے ضیاع کیلیےرقص اور غیر اخلاقی مزاحیہ ویڈیوز بنائی جاتی ہیں
اسی سوشل میڈیا سے نت نئے سائبر کرائم سامنے آرہے ہیں۔ کبھی کسی کے پروفائل سے ڈیٹا حاصل کر کے اس کی فرینڈ لسٹ میں موجود افراد سے مختلف بہانوں سے لوٹنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کسی کو بلیک میلنگ اور فرینڈشپ کا جھانسا دیا جارہا ہے۔ غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ذہانت اور صلاحیتوں کا بے دریغ منفی استعمال کیا جارہاہے۔

اسلام میں تو کسی دوسرے فرد کو تکلیف نہ دینے کا حکم دیا گیا ہے لیکن اس سوشل میڈیا کے ذریعے ایسی ذہنی تکلیف پہنچائی جارہی ہے جس کی نوبت خودکشی تک پہنچ جاتی ہےاور یہ نفرت اور تشدد کو بھڑکانے کا ایک بڑا ذریعہ بن جاتا ہے۔ فیملی ممبرز ایک دوسرے کو وقت دینے کی بجائے سوشل میڈیا اور موبائلز پر زیادہ ٹائم گزارتے ہیں۔
اسی طرح سوشل میڈیا پر بلا تحقیق غلط معلومات اور خبروں کو آگے پھیلایا جارہا ہے جس کی اسلام میں سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ غلط خبروں اور معلومات کے پھیلنے سے مزید برائیاں جنم لیتی ہیں ۔ ہر شخص سوشل میڈیا پر شئیر کرنے والی پوسٹ کا ذمہ دار بھی ہے اور اس کا اللہ کے ہاں جواب دہ بھی ہے۔ جس پوسٹ کو شئیر کرنے جا رہے ہیں ایک سیکنڈ رک کر غور کیا کریں کہ اس سے میرے نامہ اعمال میں کیا لکھا جائے گا۔
جس طرح نشے کی بہت سی اقسام ہیں تو ان میں ایک نئی قسم سوشل میڈیا کا مزہ ہے۔ سوشل میڈیا صارف کا ہر نوٹیفیکیشن کی گھنٹی پربار بار موبائل چیک کرنا اس کو وہی خوشی فراہم کرتا ہے جو ایک نشہ کرنے پر ملتی ہے۔ بہت زیادہ سوشل میڈیا کا استعمال فرائض میں غفلت کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔

سوشل میڈیا اس وقت افراد اور معاشرے کے بگاڑ کا اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ اور منفی رویوں اور لڑائی جھگڑوں کو فروغ مل رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے کارکنان ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال کر اپنے ذوق کا اظہار کر تے ہیں تو بہترین ہوٹل میں کھانا کھانے والے اپنی اور کھانے کی تصاویر شئیر کرکے اپنی انا کو تسکین پہنچاتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے نقصانات سے بچنے کی بات کریں توضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سوشل میڈیا پر صرف مثبت سرگرمیوں میں حصہ لیں ۔ اسلام اور مسلمانوں کے بین الاقوامی تاثر کو بہتر کرنے کی کوشش کریں اور سوشل میڈیا کو واضح اور طے شدہ اصولوں کے مطابق استعمال کریں۔ پاکستان کے نوجوان اگر سوشل میڈیا پر غیر ضروری ایپس میں وقت ضائع کرنے کی بجائے انٹر نیٹ کے تین سب سے بڑے اور قیمتی شعبوں گرافک ڈیزائننگ ، ویڈیو ایڈیٹنگ اور کونٹینٹ رائیٹنگ جیسی مہارات حاصل کریں اور گندے مواد کے خلاف جنگ کرتے ہوئے اپنا بہترین مثبت کردار ادا کریں تو پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں۔
اعجاز احمد ، دارارقم سکولز ، چنیوٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button