
جدائی کا غم سب سے گہرا اور تکلیف دہ احساس ہوتا ہے، خاص طور پر جب بات الوداع موت پر اشعار کی ہو۔ یہ شاعری اس جدائی کے درد کو الفاظ میں ڈھالتی ہے جو کسی اپنے کے بچھڑ جانے کے بعد محسوس ہوتا ہے۔ الوداعی اشعار ان جذبات کا عکس ہیں جو دل کی گہرائیوں سے نکلتے ہیں، جب کوئی ہمیشہ کے لیے رخصت ہو جاتا ہے۔
ان اشعار میں قبر کی خاموشی، جدائی کا کرب اور وہ لمحات بیان کیے گئے ہیں جب آخری بار کسی اپنے کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ الوداع موت پر اشعار ان بچھڑتے لمحوں کی عکاسی کرتے ہیں جب آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوتی ہیں اور دل میں دکھ کا طوفان برپا ہوتا ہے۔
الوداع پر اشعار
جس طرح آپ نے بیمار سے رخصت لی ہے
صاف لگتا ہے جنازے میں نہیں آئیں گے
میری لاش کے سرہانے وہ کھڑے یہ کہہ رہے ہیں
اسے نیند یوں نہ آتی اگر انتظار ہوتاپرنم الہ آبادی
مر مر کے مسافر نے بسایا ہے تجھے
رُخ سب سے پھرا کے منہ دکھایا ہے تجھےکیونکر نہ لپٹ کر سوؤں تجھ سے اے قبر
میں نے بھی تو جاں دے کے پایا ہے تجھے
موت اک ماندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر
میر
لوگ کہتے ہیں مر گیا مظہر
پر حقیقت میں گھر گیا مظہر
مظہر جان جاناں
یہ چمن یوں ہی رہے گا اور ہزاروں بلبلیں
اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گی
مری نماز جنازہ پڑھائی غیروں نے
مرے تھے جن کے لیے وہ رہے وضو کرتے
نازہ روک کر میرا وہ اس انداز سے بولے
گلی ہم نے کہی تھی تم تو دنیاچھوڑے جاتے ہو
سنے جاتے نہ تھے تم سے مرےدن رات کے شکوے
کفن سرکاو میری بے زبانی دیکھتے جاو
فانی
بعد مرنے کے بھی چھوڑی نہ رفاقت میری
میری تربت سے لگی بیٹھی ہے حسرت میری
اللہ رے سادگی نہیں اتنی انہیں خبر
میت پہ آ کے پوچھتے ہیں ان کو کیا ہوا
سوگ میں یہ کس کی شرکت ہو گئی
بزم _ماتم بزم_عشرت ہو گئی
ہائے ،کس وقت ہوئیں دونوں مرادیں پوری
یار جب بام پہ آیا تو قضا بھی آئی
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
الوداع شاعری – جدائی کے درد کو لفظوں میں سمیٹتی شاعری
الوداع شاعری جذبات کی وہ تصویر ہے جو جدائی کے کرب، بچھڑنے کے غم اور یادوں کے درد کو بیان کرتی ہے۔ یہ شاعری ان لمحات کی عکاسی کرتی ہے جب کوئی عزیز ہمیشہ کے لیے رخصت ہو جاتا ہے یا کوئی اپنا دور چلا جاتا ہے۔ الفاظ کا یہ حسین امتزاج دل کی گہرائیوں سے نکلنے والے احساسات کو شعری رنگ دیتا ہے، جہاں ہر لفظ ایک ٹھنڈی آہ اور ہر مصرع ایک سسکی کی مانند محسوس ہوتا ہے۔ الوداعی اشعار، محبت، رفاقت اور زندگی کے بدلتے رنگوں کو ایسے بیاں کرتے ہیں کہ پڑھنے والا خود کو انہی جذبات میں گھرا ہوا پاتا ہے۔
بہت محفوظ تھی ہستی وہ مثلِ سائباں سا تھاحصارِ عشق جب ٹوٹا تو آفت کو تو آنا تھاوہ اکثر مجھ سے کہتا تھا قیامت تک تمہارا ہوںگیا جب چھوڑ کر مجھ کو قیامت کو تو آنا تھا…
ہر سانس قرض ہے تو پھر اے دل شکستگی
مرنے کو زندگی کی یہ تہمت بھی کم نہیں
زندگی کیا ہے ‘کبھی دل مجھے سمجھائے تو!
موت اچھی ہے اگر وقت پہ آجائے تو
؎موت بے آفاق صدیوں کا سفر
زندگی زنجیرِ پا ہے اور بس
ہر سانس قرض ہے تو پھر اے دل شکستگی
مرنے کو زندگی کی یہ تہمت بھی کم نہی
موت فتح و ظفر کی منزل ہے
زندگانی ہے رہگزارِ شکست
سِ دنیا سے گزر جاتے ہیں
ایسا کرتے ہیں کہ مر جاتے ہیں
اب سانس کا احساس بھی اک بارِ گراں ہے
خود اپنے خلاف ایسی بغاوت نہ ہوئی تھی
قریۂ جاں کے اس طرف روشنیوں کی بھیڑ ہے
آج حدودِ ذات سے ‘ چار قدم نکل کے چل
تمام دن مرے سینے میں جنگ کرتا ہے
وہ شخص جس کے مقدر میں خودکشی بھی نہی
؎میری پروازِ جاں میں حائل ہے
سانس ٹوٹے ہوئے پروں جیسی
حسنؔ ہجومِ یاس میں مرنے کا شوق بھی
جینے کا اک حسین بہانہ لگا مجھے
آ مجھے اپنے شہر میں لے چل
اے مری موت سوچتی کیا ہے
دل کی خاطر زندہ رہیے کب تلک؟
دل ہی کہتا ہے کہ اب مر جائیے
چلی تھی جن سے یہاں رسمِ خود نگہداری
انہیں عزیز ہوا ذکرِ خودکشی اب تو
خود کشی کو بھی رائیگاں نہ سمجھ
کام یہ بھی ہے کر گزرنے کا
قبر الوداع موت پر اشعار – دائمی جدائی کا درد
قبر کے سکوت میں بسی الوداعی شاعری ان جذبات کا عکس ہوتی ہے جو جدائی کے زخموں کو لفظوں میں باندھتی ہے۔ جب کسی پیارے کو مٹی کے سپرد کیا جاتا ہے، تو دل پر ایک ایسا دکھ طاری ہوتا ہے جو کبھی مٹ نہیں سکتا۔ یہ اشعار محبت، یادوں اور بچھڑنے کے کرب کو بیان کرتے ہیں، جہاں ہر لفظ ایک نہ ختم ہونے والی اداسی کی گواہی دیتا ہے۔
یاد رکھے گی تری شامِ غریباں مجھ کو
؎یہ رونقیں یہ لوگ یہ گھر چھوڑ جاؤں گا
؎یہ رونقیں یہ لوگ یہ گھر چھوڑ جاؤں گا
اک دن میں روشنی کا نگر چھوڑ جاؤں گا
آج کچھ اور ہی عالم ہے پسِ قریہ ٔجاں
آج کچھ اور ہی منظر ہے سرِ سطحِ زماں
آج محرابِ دل و جاں میں کوئی عکس نہیں
حدِ امکاں پہ سرابوں کا سفر ختم ہوا
دریا میں ایک آدھ بھنور چھوڑ جاؤں گا
ہماری لاش پہ ڈھونڈو نہ انگلیوں کے نشاں
ہمیں خبر ہے عزیزو! یہ کام کس کا ہے؟
؎تری ہتھیلی پہ کس نے لکھا ہے قتل میرا
مجھے تو لگتا ہے میں ترا دوست بھی رہا ہوں
؎اپنے دشمن سے میں بے وجہ خفا تھا محسن ؔ
جانے کس دیس جا بسے اختر
ہائے وہ لوگ خوش کلام سے لوگ
جانے کس دیس جا بسے اختر
ہائے وہ لوگ خوش کلام سے لوگ
دیکھے کسی کو ایک جھلک اور اس کے بعد
پہروں کسی کو بیٹھ کے سوچا کرے کوئی
کاغذ پہ یہ اشعار ہیں یا خون کے چھینٹے
یا رنگ پہ آیا ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فن کار کا دکھ ہے
ایک جیسے تھے سبھی اس شہر میں
مجھ کو سب سے مختلف ہونا پڑا
ذرا سی دیر تھی بس اک دیا جلانا تھا
اور اس کے بعد فقط آندھیوں کو آنا تھا
وگرنہ کون اٹھاتا یہ جسم و جاں کے عذاب
یہ زندگی تو محبت کا اک بہانہ تھا
یہ کون شخص مجھے کرچیوں میں بانٹ گیا
یہ آئینہ تو مرا آخری ٹھکانہ تھا
میں کیا کہوں کہ کیسی تھی وہ شام الوداع
میں دیکھتا رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بلایا نہیں اسے
وقت نے تو یہی سکھایا شمار
آج ہے آج، کل نہیں کوئی
الوداع دوست شاعری – جدائی کے درد کو بیان کرنے والے اشعار
زندگی موت کے پہلو میں بھلی لگتی ہےگھاس اس قبر پہ کچھ اور ہری لگتی ہے
موت پر جانے حال کیا ہو گا
گر تو غفلت میں ہی جیا ہو گا
تیری دوستی میں فنا ہو رہے ہیں
تڑپتا ہے دل کہ جدا ہو رہے ہیں
آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گاجانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا
اب تو جاتے ہیں بت کدے سے دوستوںپھر ملیں گے اگر خدا لایا
اب تم کبھی نہ آؤ گے یعنی کبھی کبھیرخصت کرو مجھے کوئی وعدہ کیے بغیر
اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گامگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا
چمن سے رخصت گل ہے نہ لوٹنے کے لیےتو بلبلوں کا تڑپنا یہاں پہ جائز ہے
دکھ کے سفر پہ دل کو روانہ تو کر دیااب ساری عمر ہاتھ ہلاتے رہیں گے ہم
جدائی الوداع موت پر اشعار – بچھڑنے کے لمحات کی عکاسی
گونجتے رہتے ہیں الفاظ مرے کانوں میںتو تو آرام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ
ہم نے مانا اک نہ اک دن لوٹ کے تو آ جائے گالیکن تجھ بن عمر جو گزری کون اسے لوٹائے گا
جاتے ہو خدا حافظ ہاں اتنی گزارش ہےجب یاد ہم آ جائیں ملنے کی دعا کرنا
جاتے جاتے ان کا رکنا اور مڑ کر دیکھناجاگ اٹھا آہ میرا درد تنہائی بہت
ریل دیکھی ہے کبھی سینے پہ چلنے والییاد تو ہوں گے تجھے ہاتھ ہلاتے ہوئے ہم
تمہارے ساتھ یہ موسم فرشتوں جیسا ہےتمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا
تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گامگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا
اس گلی نے یہ سن کے صبر کیاجانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں
اس کو رخصت تو کیا تھا مجھے معلوم نہ تھاسارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا
وقت رخصت تری آنکھوں کا وہ جھک سا جانااک مسافر کے لیے زاد سفر ہے اے دوست
الوداعی الوداع موت پر اشعار – بچھڑنے کی اداسی کا اظہار
الوداعی اشعار جدائی کے کرب اور یادوں کی تڑپ کو بیان کرتے ہیں۔ جب کوئی اپنا ہمیشہ کے لیے بچھڑ جائے، تو الفاظ بھی آنسو بن کر بہنے لگتے ہیں۔ یہ شاعری دل کی گہرائیوں سے نکلنے والے غم کو احساسات میں ڈھالتی ہے، جہاں ہر شعر جدائی کی تکلیف کا عکاس ہوتا ہے۔
موت وہ حقیقت ہے جس سے کوئی فرار ممکن نہیں، مگر کسی اپنے کا بچھڑ جانا دل پر گہرا زخم چھوڑ جاتا ہے۔ الوداعی الوداع موت پر اشعار غم، جدائی اور یادوں کی تلخی کو شاعری کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔ جب کوئی عزیز ہمیشہ کے لیے رخصت ہو جائے تو الفاظ بھی بے بس ہو جاتے ہیں، لیکن یہ اشعار ان جذبات کو الفاظ کی صورت میں ڈھال کر دکھ اور سوز کو بیان کرتے ہیں۔ یہ شاعری بچھڑنے والے کی یاد کو تازہ رکھنے کا ایک خوبصورت انداز ہے، جو دل کی کیفیت کو دوسروں تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے۔
آخر ایک روز تو پیوند زمیں ہونا ہے
جامۂ زیست نیا اور پرانا کیسا۔!!
ماں کی آغوش میں کل، موت کی آغوش میں آج
ہم کو دنیا میں یہ دو وقت سہانے سے ملے۔!!
آشوب جدائی کیا کہئے انہونی باتیں ہوتی ہیں
آنکھوں میں اندھیرا چھاتا ہے جب اجیالی راتیں ہوتی ہیں
پتے ٹوٹ گئے ڈالی سے یہ کیسی رت آئی
مالا کے منکے بکھرے ہیں دے گئے یار جدائی
پھر درد جدائی کا جھگڑا نہ رہے کوئی
ہم نام ترا لے کر مر جائیں تو اچھا ہو
برق کا اکثر یہ کہنا یاد آتا ہے مجھے
تنکے چنوانے لگی ہم سے جدائی آپ کی
جدائی میں یہ دھڑکا تھا کہ آنچ ان پر نہ آ جائے
بجھائی آنسوؤں سے ہم نے آہ آتشیں برسوں
ادھر تو آنکھوں میں آنسو ادھر خیال میں وہ
بڑے مزے سے کٹی زندگی جدائی میں
خوب سی تنبیہ کرنا اے جدائی تو مجھے
گر کسی سے پھر کبھی قصد آشنائی کا کروں
آہ ملتے ہی پھر جدائی کی
واہ کیا خوب آشنائی کی
اگر ایک پل ہو جدائی تیری
تو صحرا مجھے سارا گھر بار ہو
الوداع شعر – جدائی اور یادوں میں بسا، دل کو چھو لینے والا کلام
ستم کرتے مل کر تو پھر لطف تھا
جدائی میں کیا آزمایا مجھے
وصل عین دوری ہے بے خودی ضروری ہے
کچھ بھی کہہ نہیں سکتا ماجرا جدائی کا
جدائی میں نہ آنا تھا نہ آئی
مجھے ظالم قضا نے مار ڈالا
محبت میں جدائی کا مزا مضطرؔ نہ جانے دوں
وہ بلبل ہوں کہ گل پاؤں تو پتا درمیاں رکھوں
سانس در سانس ہجر کی دستک
کتنا مشکل ہے الوداع کہنا
راس آ نہیں سکا کوئی بھی پیمان الوداعتُو میری جانِ جاں سو مری جان الوداع
گزر تو جائے گی تیرے بغیر بھی لیکنبہت اداس، بہت بے قرار گزرے گی
یارب غم ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتاجوہاتھ جگر پر ہے وہ دست دعا ہوتا
الوداعی غزل اور الوداعی نظم میں وہ تمام جذبات شامل ہوتے ہیں جو کسی اپنے کے جانے کے بعد دل میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہ شاعری صرف الفاظ نہیں، بلکہ احساسات کا مجموعہ ہے جو ہر شخص کے دل کو چھو لیتا ہے۔ اگر آپ الوداع دوست شاعری یا کسی اپنے کے لیے الوداعی الفاظ تلاش کر رہے ہیں، تو یہاں آپ کو بہترین شاعری ملے گی جو آپ کے جذبات کی ترجمانی کرے گی۔
الوداعی نظم