درخواستیں

پرنسپل کے نام درخواست برائے ضروری کام لکھنے کا طریقہ سیکھیں

An application for leave to the principal for essential

 طلبا کے کئے درخواست برائے چھٹی بوجہ ضروری کام، کو نہایت زبان آسان اور سادہ لکھا گیا ہے تاکہ طلبہ اس کو آسانی سمجھ سکیں۔ درخواست برائے رخصت بوجہ ضروری کام، کی اس مثال  میں طالب علم نے اپنی مجبوری کو واضح انداز میں بیان کیا ہے تاکہ پرنسپل صاحب کو اس درخواست کو قبول کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہ ہو۔ امید ہے آپ کو ہماری کاوش پسند آئے گی درخواست کا نمونہ حاضر اس اسے خوب سمجھ کر پڑھیں اور امتحان میں اچھےنمبر لیں

بخدمت جناب،
پرنسپل صاحب،
گورنمنٹ ہائی اسکول،
الف۔ب۔ج

عنوان: درخواست برائے ضروری کام

جناب عالی!

بصد ادب و احترام گزارش ہے کہ میں آپ کے ادارے کا ایک باقاعدہ طالب علم ہوں اور ہمیشہ تعلیمی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتا رہا ہوں۔ آپ کی سرپرستی اور اساتذہ کی محنت کی بدولت میری تعلیمی کارکردگی اچھی رہی ہے۔ آج میں آپ سے ایک خاص ضرورت کے تحت رجوع کر رہا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ میری درخواست کو غور سے سنیں گے۔

جناب عالی، میرے والد صاحب بیمار ہیں اور ان کے علاج کے لیے ہمیں دوسرے شہر جانا پڑے گا۔ میرے والد صاحب کی حالت ایسی ہے کہ ان کے ساتھ کسی کا موجود ہونا بہت ضروری ہے، اور چونکہ میں گھر میں بڑا بہوں، اس لیے یہ میری ذمہ داری بنتی ہے کہ میں ان کا ساتھ دوں اور ان کا خیال رکھوں۔

مزید  پرنسپل کے نام درخواست برائے حصول سرٹیفکیٹ/ سند لکھنا سیکھیں

میرے لیے ان دنوں اپنے والدین کے ساتھ ہونا بہت ضروری ہے۔ اس لیے میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے دو دن کی رخصت کی اجازت دی جائے، تاکہ میں اپنے والد صاحب کے علاج کے سلسلے میں ان کی مدد کر سکوں۔ ان دو دنوں کی غیر حاضری کے دوران میں اپنی پڑھائی کا مکمل خیال رکھوں گا اور جو بھی کام چھوٹے گا، اس کی تلافی جلدی کروں گا۔

میں یہ بھی یقین دلاتا ہوں کہ میں رخصت کے بعد پوری توجہ سے اپنی تعلیم جاری رکھوں گا اور اپنی کارکردگی میں کوئی کمی نہیں آنے دوں گا۔ مجھے امید ہے کہ آپ میری مجبوری کو سمجھیں گے اور اس درخواست پر ہمدردانہ غور فرماتے ہوئے رخصت کی اجازت دیں گے۔

آپ کی نوازش اور شفقت کا پیشگی شکریہ ادا کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت اور خوشیاں عطا فرمائے۔

آپ کا نیاز مند،
العارض: [آپ کا نام]

کلاس: [آپ کی کلاس کا نام]

تاریخ: [درخواست لکھنے کی تاریخ]

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button