karachi stock exchange 541

سٹاک مارکیٹ کے اسرار و رموز سیکھیئے

سٹاک_مارکیٹ

عاصم چودھری

پہلی قسط

بہت سے لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ میں سٹاک مارکیٹ کے بارے میں بنیادی چیزیں آپ لوگوں سے شیئر کروں گا تاکہ ایک چیز جس سے میں پیسے بنا رہا ہوں اپ بھی اس سے پیسے بنایئں- ملک کے ریونیو میں بھی اضافہ کریں- میں یہ کام کنسلٹینسی کے طور پر بھی کرسکتا ہوں- اور اس سے بھی پیسے بنا سکتا ہوں لیکن جس چیز کا علم مجھے ہے اگر اس سے کسی کا فائدہ ہوتا ہوں تو مجھے گناہ ہوگا اگر میں اس چیز کو کسی سے چھپاؤں-لہذا میں یہ معلومات بالکل فری آپ کے ساتھ شیئر کرنے لگا ہوں-بدلے میں مجھے بس اپنی دعاؤں میں یاد رکھیئے گا-

میں نے سٹاک مارکیٹ کا علم اپنے ایک انڈین دوست سے سیکھا- اس نے مجھے سٹاک مارکیٹ کے اسرار و رموز سکھائے- کہ آپ نے مارکیٹ کو سٹڈی کب کرنا ہے اور کب کوئی شیئر خریدنا ہے اور کب کوئی شیئر بیچنا ہے اور کس طرح منافع کمانا ہے-میں پاکستان میں جب واپس آیا اس کے بعد میں یہاں سے تھوڑی سی معلومات لی- اس کے لیئے مجھے مختلف بینکوں کی طرف سے آنے میسجز کو رپلائی کرکے انکے نمائندوں کی گھنٹوں گھنٹوں کالز سننی پڑی-وہ مجھے قائل کرتے تھے کہ میں انکے بینک کے ذریعے سٹاک میں انویسٹ کروں لیکن میں اس دوران ان سے اپنی مطلوبہ معلومات نکالتا رہتا تھا-

اس پوسٹ میں آپکو میں ساری انفارمیشن فراہم کرنے کی کوشش کروں گا -انڈیا کے نوجوان اس معاملے میں ہم سے بہت آگے ہیں- جبکہ ہمارے ملک کے نوجوان کو سٹاک کے بزنس کی الف ب کا بھی پتہ نہیں- اس سٹاک کے بزنس سے ہمارے ملک کی خواتین اور لڑکیاں ایک باعزت بزنس گھر بیٹھ کر کرسکتی ہیں- اور اس کام کے لیئے آپکو کسی کے ترلے منتیں کرنے کی ضرورت نہیں- اور نہ ہی آپکو کسی کا احسان لینے کی ضرورت ہے- اور نہ ہی اپنی عزت نفس کو مجروح کرنے کی ضرورت پڑے گی لیکن سٹاک کے بزنس میں شروع کرنے سے پہلے ایک چیز جو آپکو اپنے پلے سے باندھنی ہے وہ ہے صبر اور حوصلہ-ایک اچھا شکاری وہ ہوتا ہے جس کے اندر حوصلہ اور صبر ہوتا ہے اور یہ نہیں کہ اس پر تھوڑی سی مشکل پڑنے پر وہ کھپ ڈالنا شروع کردے مثال کے طور پر ایک شیئر آپ نے خریدا اور اس کی قیمت کم ہوگئی تو آپ کے اندر انتظار اور صبر کا حوصلہ ہونا چاہیئے یہ نہ ہو کہ آپ پہلے ہی دن کھپ ڈال دیں کہ میں لٹ گیا برباد ہوگیا- اور اپنے ذہن سے یہ کانسیپٹ بھی نکال دیں کہ ایک دن میں آپ لکھ پتی ہوجاتے ہیں-بلکہ جس شخص میں صبر اور انتظار ہے وہ شخص اچھا سٹاک مارکیٹ کا بزنس کرسکتا ہے- – میں نے اپنی پہلی انویسٹمینٹ 1 لاکھ کی تھی اور اس سے میں نے 1لاکھ بنایا- یعنی 100 فیصد- لیکن 5 مہینے سے زیادہ کا انتظار کرنا پڑا-آپ سمجھیں کہ یہ آپکی کمیٹی پڑگئی ہے جو کہ 4 سے 5 مہینے بعد ہی نکلے گی اور ڈبل ہوکر بھی نکل سکتی ہے یا تھوڑی سی-اور ضروری نہیں کہ ٹائم بھی 4 سے 5 مہینے ہوں-کبھی کم ٹائم میں بھی مطلوبہ نتائج حاصل ہوسکتے ہیں- وہ انحصار کرتا ہے کہ آپ کس قسم کے شیئر میں ٹرید کرتے ہیں-اور وہ شخص بھی بہت بڑا بیوقوف ہوتا ہے جو اپنی ساری سیونگز انویسٹمینٹ میں لگادیتا ہے- آپکو سٹیپ وائز میں اس کے بارے میں جان کاری دینے کی کوشش کرتا ہوں-

پہلا سٹیپ: سب سے پہلے آپکو پاکستان سٹاک مارکیٹ میں اپنا اکاؤنٹ بنوانا پڑتا ہے- جس کی مدد سے آپ سٹاک مارکیٹ میں شیئر خرید یا بیچ سکیں- اس کام کے لیئے آپ کے پاس 2 طریقے ہیں کہ آپ کسی بروکر کے پاس چلے جایئں اور اس کو پیسے دیدیں اس سے وہ آپ کے حصے کے شیئر خریدتے بیچتے ہیں اور اس سے آدھا منافع آپ کا وہ کمیشن کی مد میں لیجاتے ہیں- اور یوں آپکے حصے میں معمولی سا کمیشن آتا ہے- دوسرا طریقہ یہ آپ خود اپنا سٹاک کا اکاؤنٹ بنوایئں اور خود ہی ٹریڈنگ کریں- اس کے لیئے 3 بینک کی ذیلی کمپنیاں ہیں جن میں آپ اپنا سٹاک کا اکاؤنٹ کھلوا سکتے ہیں- بینک اسلامی پاکستان سیکورٹیز لمیٹڈ، میزان بینک لمیٹیڈ اور ایم سی بی بینک- ان میں بینک اسلامی پاکستان 25 ہزار کی رقم سے اکاؤنٹ کھولتا ہے، میزان 50 ہزار کی رقم سے اکاؤنٹ کھولتا ہے جبکہ ایم سی بی 1 لاکھ کی رقم سے اکاؤنٹ کھولتا ہے- جیسے ہی آپ ان بینکس میں کسی ایک میں اپنا اکاؤنٹ کھلواتے ہیں اس کے بعد یہ اکاؤنٹ کھولنے میں تقریبا 1 ہفتہ لگاتے ہیں- اس کے بعد ایک سی ڈی آپ کے گھر کے ایڈریس پر آتی ہے جس میں سٹاک مارکیٹ کا سوفٹ ویئر، آپکا آئی ڈی اور آپکا پاسورڈ وغیرہ موجود ہوتا ہے-آپ اس کو اپنے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، یا اینڈرایئڈ موبائل میں سے کسی بھی چیز پر انسٹال کرکے اس کو استعمال کرسکتے ہیں- اس کے ساتھ ایک کتابچہ بھی ہوتا ہے جس میں سوفٹ ویئر کو استعمال کرنے کا طریقہ مینشن ہوتا ہے- اور یوں آپ سٹاک مارکیٹ میں انویسٹ کرنے کے لیئے تیار ہوجاتے ہیں- آپکو میں ریکمینڈ کروں گا کہ آپ لوگ بینک اسلامی پاکستان سے اپنا اکاؤنٹ بنوایئں کیونکہ یہ شروعات 25 ہزار روپے سے کرتے ہیں- یعنی آپکو سٹاک کا کام کرنے کے لیئے کم از کم رقم 25 ہزار روپے چاہیئے- جبکہ ایک اچھا کھیل کھیلنے کے لیئے تقریبا 1 سے ڈیڑھ لاکھ چاہیئے- اس سے اگلی قسط میں آپکو یہ بتاؤں گا کہ شیئر کی کتنی اقسام ہیں اور کوئی شیئر کب خریدنا ہوتا اور کس وقت اس کو بیچنے کا ٹائم ہوتا ہے- یہ چیز یا طریقہ آپکو اتنے آسان الفاظ میں کوئی نہیں بتائے گا-مارکیٹ میں صرف یہ کورس کروانے کے لوگ 20 ہزار روپے چارج کرتے ہیں-میں اس پر مفصل پوسٹ کرنے کی کوشش کروں گا- صرف اس لیئے کہ ہمارا پاکستان کا پڑھا لکھا نوجوان جو فضول کاموں میں لاکھ لاکھ روپے اجاڑ دیتا ہے-کیونکہ وہ کام کرنے میں عار سمجھتا ہے وہ کم از کم اس لاکھ روپے کو کسی کام میں لگالے جہاں اس کو اپنے دماغ کا صرف 5 یا 10 فیصد حصہ استعمال کرنا پڑے- اور اس میں اسکا بھی فائدہ ہو اور اس ملک کا بھی-

#سٹاک_مارکیٹ
#قسط_نمبر_2
سی ڈی سی اکاؤنٹ کھلوانا

سٹاک مارکیٹ کے متعلق پہلی پوسٹ کی تو احباب نے اس کو بہت پسند کیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سٹاک مارکیٹ کے متعلق بنیادی علم بھی شائد کسی کسی کے پاس ہے-اور یہ علم سیاست دانوں نے اپنے پاس ہی رکھا اور عام عوام تک پہنچنے ہی نہیں دیا- اس کی کچھ وجوہات سیاسی اور کچھ بلیک میلنگ والی ہیں- مجھے ان باکس میں بھی کافی اچھا رسپانس ملا- اور اس کے علاوہ کمنٹس سیکشن میں کافی اچھا رجحان ملا- ان باکس میں بہت سے لوگوں نے سوالات پوچھے جو کہ بالکل بنیادی نوعیت کے تھے اور سٹاک کے اکاؤنٹ کو کھلوانے کے طریقہ کار سے متعلق تھے لہذا اس پوسٹ میں سٹاک اکاؤنٹ کو کھولنے کے طریقہ کار کے بارے میں تفصیل سے بتاتا ہوں-

جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ سٹاک اکاؤنٹ آپ بینک اسلامی پاکستان، میزان بینک یا پھر ایم سی بی کی ایسوسی ایٹڈ کمپنیز میں سے کسی ایک کمپنی میں کھلواسکتے ہیں اور پھر اس کے بعد میں آپکو ریکیمنڈ کیا کہ آپ لوگ بینک اسلامی سییکورٹیز پاکستان سے سٹاک اکاؤنٹ کھلوایئں وہ زیادہ بہتر ہے- سٹاک مارکیٹ والے اکاؤنٹ کو بینک کی زبان میں CDC اکاؤنٹ کہتے ہیں-یعنی آپ نے بینک اسلامی پاکستان سیکورٹیز لمیٹڈ میں یہ جا کر یہ کہنا ہے کہ آپ نے CDC اکاؤنٹ کھلوانا ہے-

CDC اکاؤنٹ 3 طرح کا ہے- CDC اکاؤنٹ کی پہلی قسم 25 ہزار کے پیکج والی ہوتی ہے، دوسری قسم 75 ہزار کے پیکج والی ہوتی ہے اور تیسری قسم 1 لاکھ کے پیکج والی ہوتی ہے- CDC اکاؤنٹ کی دوسری اور تیسری قسم میں بینک اپنے صارفین کو سہولیات دیتا ہے جیسے سٹاک میں انویسٹ کرنے کی رہنمائی، زیادہ کیش نکلوانے کی سہولت، زیادہ کیش جمع کروانے کی سہولت وغیرہ- جبکہ جو پہلی قسم میں ہے اس کی مثال بالکل ایسے ہے جیسے آپ کو بندوق پکڑادی جائے اور کہا جائے چلو بھئی میدان جنگ میں اور مقابلہ کرو- لیکن یہ کام اتنا آسان ہے کہ آپ صرف تھوڑی سی رہنمائی سے ہی سٹاک کو سمجھ جاتے ہیں اور ایک اچھے سپیکولیٹر بن جاتے ہیں-اس لیئے آپ نے کوشش کرنی ہے کہ آپ پہلی ہی قسم کا اکاؤنٹ کھلوایئں-ہاں اگر کسی کے پاس پیسے زیادہ ہوں وہ دوسری اور تیسری قسم کے کھلواسکتے ہیں-لیکن اگر نقصان ہوجائے تو گایئڈ اور رہنمائی کرنے والے اس میں کوئی ذمہ داری نہیں لیتے-

اس اکاؤنٹ کے لیئے آپکے پاس اپنے آئی کارڈ کی کاپی، 2 گواہان اور انکے شناختی کارڈز کی کاپی، ایک نومینی(امیرجنسی یا وفات کی صورت میں کانٹیکٹ پرسن) ، آپکی جاب کا ایکسپیئرنس سرٹیفکیٹ اور ایک کسی بینک کا اکاؤنٹ ہونا ضروری ہے-یہ اکاؤنٹ کسی بینک کا بھی ہوسکتا ہے لیکن اگر میزان بینک کا اکاؤنٹ ہوجائے تو زیادہ بہتر ہے- یہ اکاؤنٹ CDC کے علاوہ اکاؤنٹ ہوتا ہے جس سے آپ اپنے پیسے سٹاک خریدنے کے لیئے ٹرانسفر کرنے کے لیئے استعمال کرتے ہیں یا سٹاک میں جو منافع ہوتا ہے اس منافع کو نکلوانے کے لیئے استعمال کرتے ہیں- آپ بینک اسلامی سیکورٹیز کمیٹڈ گئے وہاں سے فارم لیا- گواہان سے دستخط کروائے، انکی شناختی کارڈز کی کاپی لگائی، نومینی کے دستخط کروائے اس کا ڈیٹا لکھا-اور اس کے بعد اپنے بینک چلے جانا ہے جہاں آپکا اکاؤنٹ بناہوا ہے اس بینک سے اپنے اکاؤنٹ کی تفصیل لکھوا کر بینک منیجر سے اٹیسٹ کروانا ہے کہ واقعی ہی اس بینک میں آپکا اکاؤنٹ ہے-یہ سارا کام کرنے کے بعد آپ نے بینک اسلامی سیکورٹیز لمیٹڈ پاکستان جانا ہے جہاں سے آپ نے فارم لیا تھا- او آپ نے 25 ہزار روپے کیش اس فارم کے ساتھ وہاں جمع کروانے ہیں- وہ آپ کو ایک رسید دے گا-

آپ کو اس پراسس کرنے کے 2 دن بعد آپکوکنفرمیشن کی ای میل آئے گی-جس کے جواب میں آپ نے “OK” ، Yes” یا پھر “Done” لکھنا ہے جس کا مطلب ہے کہ فارم پر لکھی ہوئی ای میل آپ کی ہی تھی اب بینک اسی ای میل پر آپ سے خط وکتابت کرے گا- اس سے اگلے دن آپکو بینک اسلامی کے نمائندے کی طرف سے ایک فون کال آئے گی وہ آپ سے آپکا نام، فون نمبر، آپکے گھر کا ایڈریس، ای میل وغیرہ پوچھ کر کنفرم کرے گا کہ آیا کہ آپ واقعی ہی وہی ہیں جس نے اکاؤنٹ کھلوایا ہے- اس کےایک دن بعد آپکے نام بینک سے ایک ڈاک آئے گی جس میں ایک کوپن میں آپکا “یوزر نیم” اور پاسورڈ” ہوگا جس کو آپ نے سنبھال کررکھنا ہے-اور اس کے ساتھ ایک سی ڈی ہوگی جس میں سٹاک مارکیٹ کا سوفٹ ویئر ہوگا- جس کو آپ نے اپنے لیپ ٹاپ، کمپیوٹر یا پھر اینڈرایئڈ موبائل پر انسٹال کرتے ہیں- لیکن آپکا اکاؤنٹ ابھی ایکٹیویٹ نہیں ہوا- اس ڈاک کے لفافے میں دو کاغذات ہونگے جن میں ایک آپکی بینک سٹیٹمینٹ ہوگی اس بینک سٹیٹمینٹ پر آپ نے اپنے دستخط اور تاریخ ڈال کر اس کو اسی بینک کے ایڈریس پر واپس بھیجنے ہیں-جیسے ہی یہ بینک سٹیٹمینٹ بینک کو ملے گی اسی دن آپکا اکاؤنٹ ایکٹیویٹ ہوجائے گا- اب آپ اپنے “یوزر نیم” اور پاسورڈ کی مدد سے اپنا اکاؤنٹ اوپن کرسکتے ہیں- بعض اوقات کچھ ٹیکنیکل وجوہات کی بنا پر پہلی دفعہ یوزر نیم اور پاسورڈ سے آپکا اکاؤنٹ نہیں اوپن ہورہا ہوتا- تو اس کے لیئے آپکو بینک کے نمبر پر کال کرنی پڑتی ہے- تو ایک فون کال سے ہی آپکا کام ہوجاتا ہے اور آپ سے اس پر معذرت بھی کی جاتی ہے- اور یہ سب کے ساتھ نہیں ہوتا-

اب آپ کا CDC اکاؤنٹ کھل چکا ہے اور آپ اس کو استعمال کرسکتے ہیں- آج لوگوں کے سوالوں کے جوابات کی وجہ سے شیئرز کے بارے میں نہیں بتاسکا-انشااللہ کل شیئرز کے متعلق تفصیل سے لکھوں گا-دعاؤں میں یاد رکھیئے-

#سٹاک_مارکیٹ_قسط_نمبر_3

سٹاک مارکیٹ کے بارے میں پیش خدمت ہے اگلی قسط- ابھی تک میں نے آپکو یہ بتادیا کہ ہے سٹاک کے لیئے آپ نے CDC اکاؤنٹ کیسے کھلوانا ہے- اس کو سوفٹ ویئر کے ذریعے استعمال کرنا بالکل فیس بک چلانے جیسا ہی ہے لہذا اس پر کسی قسم کی ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں-اور ساتھ میں آپکو ایک کتابچہ بھی فراہم کیا جائے گا جو کہ اردو اور انگلش دونوں زبانوں میں ہوگا لہذا آپ کو اس قسط میں سٹاک،شیئرز، انڈیکس اور مارکیٹ کے پوزیٹیو اور نیگیٹو وغیرہ کے بارے میں انفارمیشن دینے کی کوشش کرتا ہوں-

سٹاک مارکیٹ کیا ہوتی ہے یہ سوال مجھ سے ایک کمنٹ میں پوچھا گیا تو اس کے بارے میں عرض ہے کہ سٹاک مارکیٹ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں انسان مختلف کمپنیز کے شیئرز کی خرید و فروخت کرتا ہے-پاکستان سٹاک ایکسچینج میں اس وقت تقریبا 250 کے قریب کمپنیاں اس وقت ایکٹیولی ٹریڈ کررہی ہیں- جبکہ رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 350 کے قریب ہے- یعنی 350 میں سے صرف 250 کمپنیاں ہی ایکٹیو ہیں- اور ان کمپنیوں میں سے کوئی کمپنی فراڈ نہیں اور یہ سب سیکورٹی ایکسچینج کمیشن میں رجسٹرڈ ہوتی ہیں- لہذا فراڈ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا- اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ شیئرز کیا ہوتے ہیں تو میں بتاتا ہوں کہ شیئرز کس کو کہتے ہیں- اگر ایک کمپنی کی ٹوٹل ورتھ کو 100 برابر حصوں میں تقیسم کیا جائے تو ایک حصہ شیئر کہلاتا ہے- یہاں میں نے 100 حصے ایک مثال دی ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ کمپنی کے 100 ہی حصے ہوتے ہیں- ایک کمپنی کے کروڑوں لاکھوں شیئرز ہوتے ہیں -جب آپ کسی کمپنی کے شیئرز خریدتے ہیں تو آپ اس کمپنی کے اتنے شیئرز کے آرڈنری مالک بن جاتے ہیں-لیکن اس سے آپکو کمپنی کا کوئی حصہ یا منیجر یا بورڈ آف گورنر میں نہیں چلے جاتے- یعنی اگر ایک کمپنی کے ٹوٹل 1000 شیئرز ہیں اور آپ 100 شیئرز خرید لیتے ہیں تو آپ اس کمپنی کے 10 فیصد آرڈنری مالک بن گئے ہیں- ایک کمپنی کے ٹوٹل شیئرز اور ایک شیئرز کی قیمت سے ہم اس کمپنی کی ٹوٹل ورتھ نکال سکتے ہیں- مثال کے طور پر ایک کمپنی میڈیا ٹائمز لمیٹڈ کے نام سے سٹاک میں رجسٹرڈ ہے اس کے ایک شیئر کی قیمت اس وقت 1 روپے ہے اور اس کے ٹوٹل شیئرز کی تعداد 1 کروڑ ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ اس کمپنی کی ٹوٹل ورتھ 1 کروڑ روپے ہے- امید کرتا ہوں کہ یہاں تک آپ کو سٹاک مارکیٹ اور شیئرز کے بارے میں تھوڑا سا کانسیپٹ کلیئر ہوا ہوگا-

اس کے بعد آپ کو پاکستان سٹاک مارکیٹ میں رجسٹرڈ کمپنیوں کے شیئرز کی اقسام کے بارے میں تھوڑا سا بتاتا چلوں- سٹاک مارکیٹ میں رجسٹرڈ کمپنیوں کے شیئرز کی 2 اقسام ہیں ایک وہ کمپنیاں جو کہ اپنے شیئرز خریدنے والے انویسٹرز کو پر شیئر “ڈیوی ڈینڈ” دیتی ہے-اور دوسری قسم ان کمپنیوں کی ہوتی ہے جو کہ اپنے شیئرز خریدنے والے انویسٹرز کو “ڈیوی ڈینڈ” نہیں دیتی- اب پھر آپ کے ذہن میں آئے گا کہ یہ “ڈیوی ڈینڈ” کیا بلا ہے- تو گھبرانے کی ضرورت نہیں اس کے بارے میں بھی آپکو مکمل طور پر بتاتا ہوں-

جیسے ایک بندہ کسی کمپنی میں کام کرتا ہے تو اس کو کام کرنے کی تنخواہ ملتی ہے-لیکن ایک سال کے بعد کمپنی منافع میں جاتی ہے تو کمپنی یہ فیصلہ کرتی ہے وہ اس سال اپنے سارے ملازمین کو ایک بونس دے گی- سٹاک مارکیٹ کی زبان میں شیئرز پربونس کو “ڈیوی ڈینڈ” کہتے ہیں-مثال کے طور پر “FFC” کمپنی کے ٹوٹل شیئرز 10 لاکھ ہیں اور ایک شیئر کی قیمت 100 روپے ہےٓسارے کے سارے شیئرز بک گئے تو اس مطلب ہوا کہ انویسٹرز نے اس کمپنی میں 10 کروڑ روپے انویسٹ کردیا- کمپنی نے ایک سال کے بعد 1 کروڑ روپے کا منافع کمایا- کمپنی نے اپنے خرچے وغیرہ نکالے تو اس کے پاس 50 لاکھ بچے- اب اس 50 لاکھ روپے کو اس نے بونس کے طور پر اپنے انویسٹرز میں تقسیم کرنا ہے- تو اس 50 لاکھ کو ٹوٹل نمبر آف شیئرز پر تقسیم کرکے ایک شیئر کے حصے کا بونس نکالے گی- اور وہ اپنے انویسٹرز میں تقسیم کردے گی- اس کیس میں اگر 50لاکھ کو ٹوٹل شیئرز 10 لاکھ پر تقسیم کریں تو ایک شیئر کے حصے میں 5 روپے آتے ہیں- اس کو ڈیوی ڈینڈ کہتے ہیں-سٹاک مارکیٹ میں رجسٹرڈ کچھ کمپنیاں اپنے انویسٹرز کو ڈیوی ڈینڈ مہیا کرتی ہیں جیسے FFC, Treet, Berger وغیرہ وغیرہ- اور ان کمپنیز کے شیئرز کی قیمت جب بڑھے آپ انکو بیچ دیں اور منافع کمایئں یا پھر شیئرز اپنے پاس رکھ کر اس پر “ڈیوی ڈینڈ” لیتے رہیں وہ آپکی مرضی ہے-

دوسری قسم ان کمپنیوں کی ہے جو کہ “ڈیوی ڈینڈ” نہیں دیتی- ان کمپنیوں کے شیئرز ہم نے تب خریدنے ہوتے ہیں جب اس شیئرز کی قیمت اپنی “لو” پرائس پر ہوتی ہے اور بیچتے تب ہیں جب اس کی قیمت اپنے ہائی لیول پر جاتی ہے -اور یوں منافع حاصل ہوتا ہے- یہ سمپل بازار میں دکانداری جیسی چیز ہے کہ آپ نے منڈی سے 100 روپے کی چیز خریدی اور مارکیٹ میں 200 روپے کی بیچ دی- اور 100 روپے منافع کمایا- مثال کے طور پر “نمر ریزین” ایک کمپنی ہے میں نے اس کے شیئرزکی قمیت جب 1 اعشاریہ 5 روپے تھی تب خریدے-اور 5 مہینے بعد جب اس کی قیمت 7 روپے ہوگئی تو میں نے بیچ دیئے- یوں میں نے ایک شیئر پر ساڑھے 5 روپے کا منافع ہوا- سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہمیں کب پتہ چلے گا کہ شیئر کی قیمت اب “لو” ہے خرید لینا چاہیئے اور “ہائی” ہے اب بیچ دینا چاہیئے اس کے متعلق اگلی قسط میں ڈیٹیل سے بتاؤں گا-

اس کے بعد آجاتی ہے انڈیکس کی باری- آپ سنتے ہیں کہ آج انڈکس منفی ہوگیا آج انڈکس پوزیٹیو ہوگیا- تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مویا انڈیکس کہتے کسے ہیں-انڈکس بنیادی طور پر شیئرز کی خرید اور فروخت کے درمیان فرق کو کہا جاتا ہے- یعنی اس دن بکنے والے شیئرز اور خریدنے جانے والے شیئرز میں فرق انڈکس کہلاتا ہے- اگر یہ خریدنے جانے والے شیئرز کی تعداد زیادہ ہے اور بیچے جانے والے شیئرز کی تعداد کم تو انڈیکس پوزیٹیو ہوگا- اور ہم کہیں گے کہ آج مارکیٹ پوزیٹیو رہی- یعنی لوگوں نے پیسہ مارکیٹ میں انویسٹ کیا- لیکن اگر بیچے جانے والے شیئرز کی تعداد خریدے جانے والے شیئرز کی تعداد سے زیادہ ہے تو انڈیکس اس دن نیگیٹیو ہوگا- یعنی اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس دن لوگوں نے اپنا پیسہ مارکیٹ سے نکالا ہے-

پاکستان میں چونکہ شیئرز میں انویسٹ کرنے والے لوگوں کی تعداد 1 پرسنٹ بھی نہیں ہے اور عام طور پر یہ لوگ یا تو بزنس ٹایئکونز ہوتے یا پھر چونکہ انکا تعلق سیاسی جماعتوں سے ہوتا لہذا یہ لوگ بلیک میلنگ کرنے کے لیئے آنے والی حکومت کو جھٹکے دینے کے لیئے جان بوجھ کر مارکیٹ اوپر چڑھائی جاتی ہے اور نیچے گرائی جاتی ہے اس لیئے پاکستان کی سٹاک مارکیٹ کا سیاست سے بہت گہرا تعلق سمجھا جاتا ہے-لیکن اگر عام عوام سٹاک مارکیٹ میں پیسہ انویسٹ کرنا شروع کردے اور سیاسی وابستگی سے زیادہ بزنس کی طرف دھیان دے تو یہ بلیک میلنگ بھی ختم ہوتی جائے گی اور سیاسی حالات سے سٹاک مارکیٹ پر کوئی خاص فرق بھی نہیں پڑے گا-

قسط نمبر 4

سٹاک کے حوالے پیش خدمت ہے اگلی قسط- اس قسط میں آپکو پورٹ فولیو بنانے کا طریقہ اور سٹاک مارکیٹ میں انویسٹ کرنے کے اصول کے بارے میں ڈیٹیل سے بریف کرنے کی کوشش کروں گا-

سٹاک میں پورٹ فولیو کا مطلب آسان الفاظ میں سمجھ لیں کہ آپ نے سٹاک کی مختلف کمپنیاں سلیکٹ کرکے ان میں پیسہ انویسٹ کرنا ہے- پورٹ فولیو بنانے کے لیئے آپکو سٹاک مارکیٹ کے اندر کمپنیوں کے نام دیکھنے ہونگے وہ کہ کونسی کونسی ہیں- یہ کام مشکل تھا چنانچہ سٹاک مارکیٹ نے انویسٹرز کی اس مشکل کو حل کرنے کے لیئے کچھ سیکٹرز بنادیئے سیکٹرز کے مطابق کمپنیوں کو تقسیم کردیا- جیسا کہ دیوان سیمنٹ، ڈی جی سیمنٹ ، میپل لیف وغیرہ یہ ساری کمپنیاں سیمنٹ سیکٹر میں آتی ہیں- اسی طرح حبیب بینک، پنجاب بینک اور یو بی ایل یہ کمپنیاں بینکنگ سیکٹر میں آتی ہیں-سٹاک مارکیٹ میں اس وقت ایکٹیو سیکٹرز 10 ہیں- جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں-فوڈز، ٹیکنالوجی، سیمنٹ، ٹرانسپورٹ، متفرق، انجینئرنگ، کمیکل، کمرشل بینک، کیبل الیکٹریکل اینڈ گڈذ اور پاور جنریشن اینڈ ڈسٹری بیوشن-تمام کمپنیوں کو ان سیکٹرز میں تقسیم کردیا جاتا ہے- اب آپ ان سیکٹرز کو منتخب کرکے جس سیکٹرز کی جونسی کمپنی میں انویسٹ کرکے اس کے جتنے شیئرز خریدتے ہیں تو ٹوٹل ملا کر جو مساوات بنتی ہے اس کو پورٹ فولیو کہتے ہیں- مثال کے طور میں 4 سیکٹرز کی کمپنیوں کے کچھ شیئرز خریدتا ہوں تو میرے ٹوٹل خریدے ہوئے شیئر مل کر پورٹ فولیو کہلایئں گے-

سب سے پہلا اصول سٹاک مارکیٹ میں پیسہ انویسٹ کرنے کا یہ ہے کہ آپ نے اپنا مظبوط قسم کا پورٹ فولیو بنانا ہے- پورٹ فولیو بنانے کے لیئے آپ نے اپنی ٹوٹل انویسٹمینٹ کو 4 سے 5 حصوں میں تقسیم کرنا ہے- اپنی ٹوٹل کو 5 حصوں میں تقسیم کرکے اب آپ نے 4 سیکڑز منتخب کرنے ہیں- سٹاک مارکیٹ کا پہلا اصول یہ ہے کہ کبھی بھی سارا پیسہ ایک ہی کمپنی پر نہیں لگانا چاہیئے- اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ ایک ہی کمپنی کے سارے شیئر خرید لیں اور اسی سیکٹر پر گورنمنٹ کوئی ٹیکس وغیرہ عائد کردے تو آپکی انویسٹمینٹ ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہوجائے گا- لہذا ہمیشہ 4 سیکٹرز منتخب کریں- اور 4 سیکٹرز منتخب کرنے کے بعد ان سیکٹرز کی کوئی سی 3 اچھی کمپنیاں سلیکٹ کریں اور ان کمپنیوں کے شیئرز خریدیں- اس طرح کے آپ کے پاس ٹوٹل 4 سیکٹرز اور ان 4 سیکٹرز میں 12 کمپنیاں ہوں گی جن کے آپکے شیئرز خریدے ہونگے- اور یوں آپ کا پورٹ فولیو بہترین قسم کا بن جائے گا- اور رسک پھیل جائے گا- انویسٹمینٹ میں رسک کو ہمیشہ پھیلا کر رکھا جاتا ہے اس طرح رسک کم سے کم ہوتا ہے-

سٹاک کا دوسرا اصول یہ ہے کہ آپ کو شروع میں بتایا کہ آپ نے اپنی رقم کو 5 حصوں میں تقسیم کرنا ہے- 4 حصوں کو تو آپ نے 4 مختلف سیکٹرز میں استعمال کرکے اس کے شیئرز خرید لیئے لیکن رقم کا ایک حصہ آپ نے کیش کی صورت میں بچا کر رکھنا ہوتا ہے اور اس کو سٹاک والے اکاؤنٹ میں ہی رکھنا ہوتا ہے- کیونکہ اس کی کبھی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے-

سٹاک کا تیسرا اصول یہ ہے کہ جب بھی آپ شیئرز خریدیں تو کبھی اکٹھے شیئر مت خریدیں- بلکہ تھوڑے تھوڑے کرکے خریدیں- مثلا آپ نے سیمنٹ سیکٹر سلیکٹ کیا اور سیمنٹ سیکٹر کی ایک کمپنی دیوان سیمنٹ سلیکٹ کی- تو جس وقت آپ خریدنا چاہ رہے ہیں اس وقت شیئر کی قیمت اپنے “لو ریٹ” پر ہے لیکن ہوسکتا ہے وہ “لو ریٹ” تھوڑا اوپر نیچے ہو(یہ اعشاریہ میں ہی ہوتا ہے) تو اگر آپ نے 500 کے حساب شیئر خریدے ہونگے تو دن کے آخر میں آپکے ٹوٹل خریدے ہوئے شیئرز سے آپکی شیئرز کی رقم ایوریج آؤٹ ہوجائے گی- مثلا صبح 10 بجے شیئر کی قیمت 12.5 تھی آپ نے 500 شیئر خرید لیئے-11 بجے شیئر کی قیمت 12.4 ہوجائے تو 1000 شیئر اس وقت خرید لیئے اور 12 بجے پھر شیئر کی قیمت 12.5 ہوگئی تو اس وقت 1000 خرید لیئے- آپ نے یوں ٹوٹل 2500 شیئر خریدے اور ایک ریٹ پر نہیں خریدے لہذا آپکا ایوریج ریٹ 12.45 بنا- اس کو ایوریج آؤٹ کہتے ہیں-

سٹاک کا چوتھا بنیادی اصول یہ ہے کہ کبھی بھی ٹینشن نہیں لینی اور جلد بازی نہیں کرنی- یاد رکھیں سٹاک مارکیٹ میں لگایا ہوا پیسہ کبھی بھی ڈوب نہیں سکتا اگر آپ کے اندر صبر اور حوصلہ موجود ہے- کیونکہ اگر آپ نے کوئی شیئر مہنگا خرید بھی لیا تو یاد رکھیئے وہ شیئر دوبارہ اپنی قیمت پر واپس ضرور پہنچے گا لیکن ہوسکتا ہے اس کو 4 ،5 مہینے لگ جایئں لیکن آپکا پیسہ ریکور ضرور ہوگا- مثال کے طور پر میں نے ایک شیئر جنوری کی 1 تاریخ کو 24.9 پر خریدا اس شیئر کی قیمت 18 جنوری تک کم ہوکر 20 روپے تک چلی گئی اب اس کا مطلب یہ ہوا کہ مجھے پر شیئر 4 روپے نقصان ہوا-لیکن میں نے جلد بازی نہیں کی- اور صبر کیا آج 30 تاریخ کو اسی شیئر کی قمیت 26.8 روپے پر پہنچ چکی ہے- لہذا میرا پیسہ ریکور ہوچکا ہے- کبھی تھوڑے انتظار کے بعد کبھی 2، 4 مہینے کے انتظار کے بعد-

سٹاک کا پانچواں اصول یہ ہے سٹاک کا کاروبار کبھی بھی ان پیسوں سے مت کریں جو آپکو چاہیئے ہوتے ہیں مثال کے طور بندہ یہ سوچے آج میں مارکیٹ میں پیسہ لگا رہا ہوں اور کل ہی مجھے اس میں منافع ہوجائے گا- ایسا نہیں ہوتا- لہذا سب سے پہلی چیز اس چیز کو دماغ میں رکھنا چاہیئے کہ سٹاک مارکیٹ کے کام کے لیئے وہ پیسہ استعمال کریں جو آپکے زیر استعمال نہ ہو- بلکہ کمیٹی کی طرح آپکے ذہن میں یہی ہو کہ یہ 5 مہینے بعد ہی مجھے منافع کے ساتھ ملے گا-

سٹاک کا چھٹا اصول یہ ہے کہ کبھی بھی لالچ مت کریں کیونکہ سٹاک مارکیٹ صبر اور حوصلے کا کام ہے یہ آپ کو دنوں یا منٹوں میں منافع نہیں دیتی- اس سے لوگ پیسے بناتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ آپ دنوں میں ہی امیر کبیر بن جایئں گے-لہذا خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں رہنا سیکھیئے-

سٹاک کے کام کو پارٹ ٹائم بزنس کے طور پر اختیار کریں- سٹاک کے بزنس کو کبھی بھی اپنا مین سٹریم بزنس مت بنایئں- آپ اگر جاب کرتے ہیں تو آپ اپنی جاب کے ساتھ دن کا آدھا یا 1 گھنٹہ اس کو دےد یں تو کافی ہے- لیکن اس کو کبھی بھی مین سٹریم بزنس کے طور پر اختیار مت کریں-

اس کے بعد ایک سوال کا جواب کہ “بلیو چپ کمپنیاں” کونسی ہوتی ہیں تو اس کا جواب عرض ہے کہ بلیو چپ پوکر گیم کی ایک ٹرم ہے- پوکر کی گیم میں 3 طرح کی گوٹیاں ہوتی ہیں- بلیو، ریڈ، اور وائٹ- ان گوٹیوں میں بلیو گوٹیاں سب سے مہنگی ہوتی ہیں- شروع شروع میں سٹاک مارکیٹ میں جن کمپنیوں کے شیئر بہت مہنگے ہوتے تھے انکو “بلیو چپ کمپنیاں” کہا جاتا تھا- بعد میں یہ تعریف تھوڑی تبدیل ہوتی گئی اور ماڈرن تعریف اب اس کی یہ بنی ایسی کمپنیاں جو کہ ریلائی ایبل کمپنیاں ہوں اور اپنے انویسٹرز کو ڈیوی ڈینڈ بھی دیتی ہوں ایسی کمپنیاں بلیو چپ کمپنیاں کہلاتی ہیں-ان کی لسٹ اور تفصیل آپکو سٹاک مارکیٹ کی ویب سائٹس پر مل جائے گی-امید کرتا ہوں آج کی قسط آپکو سمجھ آگئی ہوگی-

(جاری ہے )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں