how to earn 30000 in a month in urdu 274

تیس دن میں تیس ہزار کیسے کمائے جائیں

تیس دن میں تیس ہزار کیسے کمائے جائیں:
یہ سوال دو دن پہلے کیا تھا، اِس کا مقصد صرف یہ تھا کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کریں۔ کاروباری دماغ کاروباری آئڈیاز کی اماجگاہ ہوتی ہے، مگر کاروباری افراد کے لئے مشکل یہ ہوتی ہے کہ مصروف زندگی کے باعث وہ بہت سے پلان پر عمل درامد ہی نہیں کر پاتے، تو پھر کیوں نا عوام الناس کی خدمت میں ایسے آئڈیاز پیش کردئے جائیں؟
اس سلسلہ میں فیس بک پر بہت اچھا ریسپانس ملا، دوستوں نے بہترین آئیڈیاز سے نوازا، اللہ اُن کو اجر دے۔ میرے پاس بھی کچھ آئیڈیاز ہیں، بدقسمتی سے تیس دن میں تین لاکھ والا آئیڈیا نہیں ہے، مگر اِن میں بھی کمائی مناسب ہے، اس لئے اپنے آئیڈیاز بھی شئیر کردیتا ہوں۔
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وہی کام کریں جو آپ کو آتا ہے۔ میں کہتا ہوں ہر طرح کی سروس ہائر(hire) کی جاسکتی ہے۔ بس آپ کو ایمانداری سے بیچنا آنا چاہئے۔ آئیے اب میں اپنے آئیڈیاز بتاتا ہوں، جن سے آپ تیس دن میں تین لاکھ نا سہی مگر لاکھ سے اوپر بہت کم سرمایہ کاری میں کما سکتے ہیں۔ یہ آئیدیاز شارٹ ٹرم آئیڈیاز ہیں۔ دو مراحل میں اپنی بات سمجھاؤنگا، پہلے مرحلہ میں کام بتاؤنگا، اگلے مرحلہ میں اُس کام کو بیچنا کیسے ہے یہ سمجھاؤنگا۔
پہلا مرحلہ (کاموں کی فہرست)
ا۔ اپنے شہر اور علاقہ میں موجود اے سی سروس اور ریپئیرنگ والے بندے سے کنٹریکٹ / پارٹنرشپ کریں، آپ اُس کو کلائنٹ لاکر دیں گے۔ یہی کام جنریٹر رپئیرنگ کے ساتھ بھی کیا جاسکتا ہے۔
۲۔ سیکورٹی کیمرے یا سی سی ٹی وی انسٹالیشن: ملک میں بڑھتی ہوئی سیکورٹی کی ابتر سورتحال کی وجہ سے آج کل یہ کام عروج پر ہے، یہ کام کوئی بھی الیکٹریشن یا ٹیکنیشن بخوبی انجام دے سکتا ہے۔
۳۔ ویڈیو نگاری: آن لائن شاپنگ کی آمد سے بہت سے روزگار کے لئے نت نئے مواقع کھلے ہیں، اگر آپ کسی ویڈیو ایڈیٹر سے پارٹنرشپ کریں، اور مختلف آن لائن شاپنگ کی ویب سائٹ اور فین پیج کو ویڈیو نگاری کی سروس بمع یوٹیوب چینل کے مہیا کریں تو ایک اچھی کمائی متوقع ہے، عام طور پر فوٹو گرافر، ایک پراڈکٹ کی فوٹو شوٹ کے لئے تین سو سے سات سو روپے مانگتے ہیں، اگر ۳۰ سیکنڈ کی ویڈیوز کے لئے پانچ سو سے ہزار کے ریٹ چارج کرکہ یوٹیوب پر اپلوڈ کی جائیں تو صرف دو سو ویڈیو آپ کو ایک لاکھ سے دو لاکھ تک کی کمائی دے سکتی ہیں۔
۴۔ گرمیوں کے ساتھ ہی پورے پاکستان خصوصاً پنجاب میں لوڈ شیڈنگ بھی عروج پر پہنچ گئی ہے، ایسے میں سولر پینل انسٹالیشن کا کام بھی آپ کو اچھا خاصہ منافع دے سکتا ہے۔
۵۔ اگر آپ ویب ڈیولپمنٹ کی فیلڈ سے ہیں تو ایک آئیڈیا یہ بھی کہ آپ مختلف طرح کے سکرپٹ ھوسٹ کرکہ اُن کو ماہانہ سبسکرپشن کی بنیاد پر مہیا کرسکتے ہیں۔ چند سکرپٹ میں بتادیتا ہوں، باقی آپ بھی اپنے حساب سے بہتر تلاش کرسکتے ہیں
– اسکول مینجمنٹ سسٹم
– اپائنٹمنٹ سسٹم (برائے ڈاکٹر و دندان ساز، سیلون، وکلاء وغیرہ)
۶۔ کار واشنگ اور آئل چینج سروس: جی یہ کام بھی آپ کو لاکھوں روپے کا منافع دے سکتا ہے، آئل چینج اور کار واشنگ ایک بار نہیں بلکہ بار بار کی ضرورت ہوتی ہے، جو آپ کا ایک دفعہ کلائنٹ بن گیا، وہ آپ کے پاس بار بار آئیگا۔
مختصراً سروس یا خدمات کے کام میں کم سرمایا کاری میں کمائی کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ اُٹھتا ہے کہ یہ تو بہت عام سے آئیڈیے ہیں اِن کے لئے کلائنٹ کیسے ڈھونڈے جائیں؟
دوسرا مرحلہ (مارکٹنگ )
ایس ایم ایس مارکٹنگ: میرے ایک واقف کار اے سی سروس مین ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ گرمیوں کے موسم میں ایک دن میں میں تمام خرچہ نکال کر پندرہ ہزار روپے کما لیتے ہیں۔ میں نے اُن سے پوچھا اتنا کلائنٹ کہاں سے لاتے ہیں؟ کہتے ہیں کہ ایس ایم اس مارکٹنگ والوں کو دس ہزار دیتا ہوں، اتنا کلائنٹ آتا ہے کہ اُس کو کال کرکہ منع کرنا پڑتا ہے کہ مارکٹنگ روک دو۔ آپ جس بھی شہر سے تعلق رکھتے ہیں، اپنے شہر اور علاقہ میں ایس ایم ایس مارکٹنگ والوں کے ذریعہ صرف اپنے علاقہ کے لوگوں کو اپنی سروس سے آگاہ کریں، پھر نتیجہ دیکھیں۔
فیس بُک مارکٹنگ: اگر آپ کے شہر اور علاقہ میں فیس بک مارکٹنگ کی سروس فراہم کرنے والے ادارے موجود ہیں تو اُن کے ذریعہ مارکٹنگ کروائیں، آپ کو اپنے علاقہ سے ڈھیروں کلائنٹ میسر آجائیں گے۔ میں بذاتِ خود فیس بک مارکٹنگ کے ذریعہ سی سی ٹی وی کے کاروبار کی مارکٹنگ کرکہ بہت اچھے نتائج لے رہا ہوں۔ میرا تعلق آئی ٹی فیلڈ سے ہے تو ہم اکثر نوکریوں کے اشتہار دیتے ہیں، پچھلے ہفتے میں نے اشتہار کسی اخبار یا کسی ویب سائٹ پر دینے کے بجائے فیس بک پر چلایا، صرف دس ڈالر کے عوض مجھے چالیس سی وی موصول ہوئیں، اور یہ سب سی وی، میرے آفس کے تین میل کی دوری سے آئیں۔
اوبر اور کریم سے پہلے بھی ٹیکسی اور رکشہ موجود تھا، کیا وجہ ہوئی کہ اوبر اور کریم کم پیسے چارج کرکہ بھی عام رکشہ ٹیکسیوں کو کنارے پر کردیتا ہے، جبکہ پڑھے لکھے ڈرائیور، کم کرایہ لیکر بھی خوش ہیں؟ وجہ صرف یہ ہے کہ عام ٹیکسی ڈرائیور کو پورے دن میں اتنی سواریاں میسر نہیں ہوتی تھی جتنی کریم اور اوبر دیتی ہیں، یہی وجہ تھی ٹیکسی ڈرائیور اپنا خرچہ پورے کرنے کے غرض سے زیادہ کرایہ وصول کرتے تھے جبکہ کریم اور اوبر کے ڈرائیور کم کرایہ لے کر زیادہ سواریوں کو اُن کی منزل پر پہنچا کر زیادہ کما لیتے ہیں، یہی آپ نے کرنا ہے۔ جو بھی کام چنیں ایس ایم ایس اور فیس بک مارکٹنگ کے ذریعہ مناسب چارجز میں زیادہ سے زیادہ کام پکڑیں، اور زیادہ سے زیادہ کمائیں۔

مزید پڑھیں  زیتون کا باغ لگائیں اور بہترین منافع کمائیں ایک بہترین کاروبار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں