successful businessman qualities- in urdupixabay.com 318

کامیاب تاجر کی اہم خصوصیات

بنیادی طور ایک تاجر میں ان خصوصیات کا پایا جانا ضروری ہے:
1 خطرات یا جوکھم جوئی (Risk Bearing)
حوصلہ مندی اور جوکھم جوئی کی صلاحیت بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ جن میں یہ صلاحیت ہوتی ہے وہ ترقی کے میدان میں آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن میں پہل کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے، جو کامیابی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ کاروباری عمل خطرات سے پُر ہوتا ہے
جس میں خسارہ، دیوالیہ پن، آگ، مسابقت، نئی ایجادات، مسلسل تبدیلی سے دو چار سرکاری پالیسیاں، قیمتیں گر جانا، اہم ملازم یا منیجر کا انتقال کر جانا یا استعفا دے کر چلے جانا، گاہک کا ٹوٹ جانا اور اس میں چوری وغیرہ شامل ہیں۔ تو ان تمام تر حالات میںایک تاجر کو نہایت جوکھم جوئی اور بہادری سے کام لینا ہوگا اور اس وقت حوصلہ مندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
2 مقصدیت (Objectivity)
کامیاب تجارت کے لیے ضروری ہے کہ پہلے سے اپنی منزل مقصود طے کی جائے اور پھر اس پر کام کر کے اپنی اس مقصد کو حاصل کیا جائے۔ یہ منزل کاروباری ساکھ، صارفین کی خدمت، ایجادات، ترقی و ترویج، معاشرہ کی بہتری، آلودگی سے پاک ماحول کاقیام اور ملکی قوانین پر عملداری ہو سکتی ہے۔ نئے کاروبار کی منزل عام طور پر منافع ہو تی ہے۔ جب یہ کاروبار ترقی کر جاتے ہیں تو ان کی منزل اعلی تر مقاصد، مثلاً: عوام کی رہنمائی پر آجاتی ہے۔ جیسے کہ مائیکروسوفٹ کمپنی، اب اس منزل پر آچکی ہے جہاں سے عوام کو اعلی سے اعلی انفارمیشن ٹیکنالوجی مہیا کی جاتی ہے۔
3 باخبر اور وسیع معلومات رکھنا (Well lnformed)
یہ آئی ٹی کا دور ہے۔ جہاں ہر تاجر کو اطلاعات کے میدان میں بہت آگے ہونا چاہیے۔ کاروبار کی کامیابی کی ضمانت اس بات میں مضمر ہے کہ تاجر یا منتظم مند رجہ ذیل کے بارے میں کتنی معلومات رکھتا ہے: ایجادات، ممکنہ ایجادات، سرکاری پالیسیاں، ملکی بجٹ، سیاسی حالات، بین الاقوامی حالات، انفارمیشن ٹیکنا لوجی، مسلسل تبدیلیاں، کاروبار کی بڑھتی ہوئی پیچید گیاں، صارفین کا بدلتا ہوا رجحان، فیشن، ملازمین کے مسائل، بزنس سائیکل، صارفین کی ضروریات اور ان کی قوت خرید، مسابقت، مارکیٹ کے حالات، کاروبار سے متعلق مختلف ماحولیات اور کاروبار کے اندرونی مسائل وغیرہ۔ تاجر کے باخبر رہنے اور وسیع معلومات رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ مینجمنٹ انفارمشن سسٹم قائم کرے۔ حالات حاضرہ پرنظر رکھے، تحقیق (research) کا عمل جاری رکھے اور شماریات (statistics) کے ذریعے قیاس یا اندازے (Forecasting) کرے۔
4 کارکردگی پر نظر (Perfornancm Oriented)
قابل اور اہل تاجر ہمیشہ اپنی کارکر دگی پر نظر رکھتا ہے۔ جو کہ ایک مسلسل عمل ہے۔ وہ اپنی ذاتی کارکردگی، ملازمین کی کارگزاری اور کاروبار کی مجموعی حیثیت کا مسلسل جائزہ لیتا ہے۔ وہ کام کے نتائج کا جائزہ لے کر مستقبل کے منصوبے بناتا ہے۔ کام کی پیمائش کے لیے معیارات قائم کرتا ہے اور ان معیارات سے اصل کارکردگی کی جانچ کرتا ہے۔ معیارات اور کارکردگی میں اگر فرق ہے تو اسے عملی اقدامات کے ذریعے ختم کرتا ہے۔ بالفاظ دیگر تاجر کو ایک عملی اور محنتی انسان ہونا چاہیے۔
5 اہم مواقع پر نظر رکھنا (Exploiting Opportunities)
کاروباری عمل میں مسلسل مواقع آتے رہتے ہیں۔ ایک ہوشیار تاجر ان مواقع کی تلاش میں لگا رہتا ہے اور جب وہ پیدا ہو تے ہیں تو ان کو وہ حاصل کر کے اپنے کاروبار کو ترقی کی جانب رواں دواں کر دیتا ہے۔ ان موقعوں میں موسمیاتی تبدیلیاں، حکومتی اقدامات اور مراعات، قیمتوں میں ہمت افزا تبدیلیاں، نئی ایجادات، نئی ٹیکنا لوجی اور نت نئے طریقے شامل ہیں۔ وہ وقت کے ساتھ ساتھ فرسودہ طریقے، دقیانوسی مشینیں، غیر مروج اور متروک ایکوپمنٹ تبدیل کر کے اپنے کاروبار کو مسلسل جدید بناتا رہے۔
6 مخفی اور پراسرار باتوں پر اعتقاد نہ رکھنا (Unbliever of Mystical Forces)
بزنس مین کے لیے ضروری ہے کہ وہ مخفی اور پراسرا ر باتوں پر کبھی یقین نہ رکھے بلکہ منصوبہ بندی اور تحقیق کی بنیاد پر اپنے کاروبار کو چلائے۔ اس کا انداز اور عمل عالمانہ اور حقائق کی بنیاد ہونا چاہیے۔ حالات و معاملا ت کو قسمت کی بنیاد پر نہ چھوڑے۔ اس کی معاملات تک پہنچ یہ ہو نی چاہیے کہ آنے والی کل اس کی مرضی کے مطابق آئے اور اس کے لیے اس کو جدوجہد کرنا ہو گی، عملی انسان بنانا ہو گا اور انداز فکر سائنٹیفک رکھنا ہو گا۔
7 جذباتی کے بجائے عقلی و استدلالی انداز فکر (Rational Not Emotional)
کاروبار میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے۔ ان تبدیلیوں کی بنیاد پر اسے عقل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ حالات کے دباؤ میں آ کر ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ تمام فیصلوں میں استدلال عقل و شعور، توازن ہمت، خطرات مول لینے کی جسارت، مناسب وقت کا استعمال محنت اورلگن نظر آنا چاہیے۔ جذباتی، زورور اور غصہ ور لوگ ہر میدان میں نا کام رہتے ہیں۔
8 امانت داری
(Fair Dealer\ Business Ethics).
کاروبار کی بنیاد امانت داری پر ہوتی ہے۔ کاروباری اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ صحیح قیمت پر صارفین کو صحیح مصنوعات فراہم کی جائیں، منافع خوری سے پرہیز کیا جائے۔ ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ سے اجتناب کیا جائے۔ مال کی خرابی کو پہلے سے بتانا ضروری ہے۔ ناپ تول ٹھیک ہونا چاہیے۔ کاروباری ادائیگیاں اور واجبات وقت پر ادا کیے جانے چاہییں۔ ملازمین کے ساتھ انصاف سے پیش آنا چاہیے۔ اگر مصنوعات پر گارنٹی، وارنٹی یا مال کی تبدیلی کا وعدہ ہے تو اسے پورا کرنا چاہیے۔ مغربی ممالک کی ملٹی نیشنل کمپنیوں مثلاً آئی بی ایم (IBM) مائیکرو سوفٹ، ٹیوٹا، ہنڈا، سونی اور نیشنل کی کامیابی میں جہاں دوسرے عوامل ہیں ان میں امانت داری کا عنصر بھی یقینا شامل ہے۔
وہ کاروبار جس کی بنیاد دھوکہ دہی، جعل سازی اور جھوٹ پر ہو اس کی زندگی بہت مختصر ہوتی ہے۔
9 قوت عمل کا حامل اور مستقل مزاج (Dynamic & Steadfast)
کاروبار کی کامیابی کے لیے بزنس مین کو قوت عمل کا حامل اور مستقل مزاج ہونا چاہیے۔ وہ جس بات کا ارادہ کرے اس پر عمل بھی کرے۔ خالی خولی منصوبے جن پر عملدر آمد نہ ہو سکے، کاروبار کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
کاروبار میں مستقل مزاج ہونا ایک لازمی شرط ہوتی ہے۔ جو فیصلہ ایک دفعہ کر لیا جائے اس پر عمل کیا جانا چاہیے۔
فیصلوں کو بار بار تبدیل کرنا کاروبار کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے اور اس سے کاروباری ساکھ کو نقصان پہنچتاہے۔ یقینا فیصلوں میںلچک ہونی چاہیے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق ان کو ڈھال لینا چاہیے۔ لیکن غیر ضروری طور پر فیصلے تبدیل کرنا، نقصان کا سودا کرنا ہوتا ہے۔
پیہم عملی اور مستقل مزاجی کی خوبی ہمت و جرأت اور استدلال، فیصلوں اور لگن سے پیدا کی جا سکتی ہے۔ اس خوبی سے وہ راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کرتا ہوا آگے نکل جاتا ہے۔
شریعہ اینڈ بزنس کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں