make money online with freelance in pakistan-in urdupixabay.com 362

فری لانسنگ سے پیسے کمانے کے بہترین طریقے

ہمارے ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے ۔۔ بےشمار با صلا حیٹ نوجوان موجود ہیں لیکن صد افسوس انکی تربیت اور رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں ۔۔ میرے ناقص سے ذہن میں جو کچھ آ تا ہے آپ کی نظر کر دیا کرتا ہوں ۔۔ لو جی چند میتھڈ پیش خدمت ہیں
فری لانسنگ سے پیسے کمانا
پاکستان فری لانسنگ میں چوتھے نمبر پر ہے
فری لانسنگ کیا ہے ؟
فری لانسنگ انٹرنیٹ پر ایک دیہاڑی نما کام ہوتا ہے ، جس میں آپ کو آنلائن کام کرنے پر اجرت ملتی ہے۔ وہ اس طرح کہ مختلف ملکوں کے لوگ یا کمپنیاں جنہیں اپنے پروجیکٹس کے لیے دوسرے ممالک سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ٹرانسلیٹرز ، بلاگرز ، یوٹیوبرز ،وائس اوورز ، لوگو میکر، ویب ڈیویلپرز ، ڈیزائنرز یا رائٹرز وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ فری لانسنگ ویب سائٹس پر اپنے کام کی تفصیلات پوسٹ کرتے ہیں۔ اب جس شخص کو اس کام میں مہارت ہوتی ہے وہ اس کام کو گھر بیٹھے مکمل کر کے اس کمپنی یا شخص کے حوالے کرتا ہے اور بدلے میں پیسے لیتا ہے۔فری لانس کام کرنے والوں کو فری لانسر کہتے ہیں۔
فری لانسنگ کیوں ؟
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے لوگ انٹرنیٹ سے کام کیوں کرواتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ایک امریکی کمپنی کو اپنے کسی پراجیکٹ کے لیے اردو ٹرانسلیٹر کی ضرورت ہوتی ہے تو اگر وہ پاکستان سے کسی بندے کو بلائے اور اس شخص کے ویزا رہائش کھانا اور تنخواہ وغیرہ کا انتظام کرے تو اسے لاکھوں روپے کا خرچہ آئے گا جبکہ فری لانسنگ سے وہ یہی کام چند پیسوں سے کرواتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ آج کل لوگ آفس میں کام کرنے کے بجائے فری لانسنگ کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ آفس میں وقت کی پابندی اور مالکان کی ڈانٹ ڈپٹ سننے کے بجائے اپنی مرضی سے کام کرنا آسان ہے۔
اس کے علاوہ جو خواتین گھروں سے باہر نہیں نکل سکتیں وہ گھر بیٹھے فری لانسنگ سے اچھی خاصی آمدنی حاصل کرتے ہیں۔
دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے ۔اب ہر کوئی ڈیجیٹل طریقے سے کام کرنا پسند کرتا ہے ۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال پوری دنیا میں سے پاکستان فری لانسنگ میں چوتھے نمبر پر آیا لیکن اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن میں بہت ساری صلاحتیں موجود ہیں مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ کام کیسے کریں۔آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ فری لانسنگ کی شروعات کیسے کریں۔
شروعات
یوں بہت سارے فری لانسنگ ویب سائٹ موجود ہیں جن کے مختلف قوائد و ضوابط اور چارجز ہیں۔
اگر آپ ابتدائی طور پر کام شروع کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپ ورک پر مفت کام شروع کیجیے اس کے بعد جب آپ کو تجربہ ہوجائے تو دیگر پریمیم ویب سائٹس جسے فری لانسر ڈاٹ کم ، فیور وغیرہ پر بھی کام کر سکتے ہیں۔
ضروری چیزیں
فری لانسنگ کے لیے آپ کے پاس ایک عدد کمپیوٹر یا موبائل ، انٹرنیٹ کنیکشن اور ایک بینک اکاؤنٹ کا ہونا لازمی ہے۔
اگر آپ کے پاس ڈیبٹ کارڈ یا بینک اکاؤنٹ نہیں ہے تو یہ مضمون پڑھ لیجیےمفت بینک اکاؤنٹ گھر بیٹھے ڈیبٹ کارڈ بھی مفت حاصل کریں مفت امریکی بینک اکاؤنٹ مع ڈیبٹ کارڈ حاصل کیجیے۔
طریقہ کار
سب سے پہلے -www.upwork.com پر جائیں اور اپنا اکاؤنٹ بنائیں۔ یعنی اپنا ای میل ایٖڈریس نام پتہ صلاحتیں اور کام کی تفصیلات اور بینک اکاؤنٹ وغیرہ لکھیں۔ تقریبا دو دن کے اندر آپ کا اکاؤنٹ اپروو جائے گا۔ یاد رکھیں اپنی صلاحتیں یعنی skills زیادہ سے زیادہ لکھیں بصورت دیگر اپ ورک آپ کا اکاؤنٹ قبول نہیں کرے گا۔ اگر ایک دفعہ ریجیکٹ ہو بھی ہوجائے تو دوبارہ اپنی صلاحتیں بڑھا چڑھا کر لکھ بھیجیے۔درخواست قبول ہونے کے بعد آپ اپ ورک پر کام کرنے کے اہل ہوجاتے ہیں۔ لیکن کام کرنے سے پہلے اپنی پروفائل مکمل طور پر سیٹ کریں ، اپنی اصلی تصویر لگائیں فیس بک آئی ڈی اور لنکڈ ان یا ویب سائٹ اگر ہے تو اس کا لنک بھی دیں تاکہ آپ کی شناخت اصلی ہو۔ اپنی پورٹ فولیو یعنی سابقہ کام کی تفصیلات اور صلاحتیں اس طرح لکھیں کہ لوگ متاثر ہو کر آپ کو کام دینے پر راضی ہوجائیں۔اپ ورک کی مفت سروس میں آپ ہر مہینے صرف تیس جابز کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔ اس لیے اپنے کنیکٹ یعنی چانسز جو ضایع نہ کریں، جو کام صحیح طریقے آئے صرف اس جاب کے لیے اپلائی کریں ۔
فراڈ سے کیسے بچیں
یوں تو فری لانسنگ میں فراڈ کے امکانات بہت کم ہیں کیونکہ ویب سائٹ کے پاس کام کرنے والے فری لانسر اور کام کروانے والے کلائنٹ دونوں کا کریڈٹ کارڈ محفوظ ہوتا ہے اور جب کام مکمل ہوجاتا ہے تو وہ کام کے پیسے کلائنٹ کے اکاؤنٹ سے فری لانسر کے اکاؤنٹ میں منتقل کرتا ہے۔پھر بھی آپ کسی جاب کے لیے اپلائی کرتے وقت یہ ضرور دیکھیں کہ کلائنٹ کا پیمنٹ تصدیق شدہ ہے یا نہیں۔
چارجز
اپ ورک آپ کی کمائی سے بیس فیصد فیس چارج کرتا ہے یعنی اگر آپ دس ڈالر کمائیں گے دو ڈالر اپ ورک کے اور آٹھ ڈالر آپ کے۔
کام کی تلاش
اپ ورک پر کام تلاش کرنا آسان ہے مثال کے طور پر اگر آپ ایک ویب ڈیزائنر ہیں تو سرچ میں ویب ڈیزائن لکھ کر تلاش کیجیے یا ویب ڈیزائننگ کی کیٹیگری میں جائیے۔یا اگر آپ کسی ایک زبان مثلا اردو میں مہارت رکھتے ہیں تو سرچ میں اردو لکھیں، آپ کو اردو کے حوالے سے بہت سے کام ملیں گے۔ اب جو کام آپ کو اچھا لگے اس کے لیے اپلائی کیجیے۔
اپلائی کرنے کا طریقہ
اپلائی کرتے وقت یعنی درخواست لکھتے وقت کلائنٹ کو پہلے اپنا تعارف نام شہر ملک وغیرہ بتا دیجیے۔ اس کے بعد اپنی سابقہ کام کی تفصیلات کا حوالہ دیجیے اس کے بعد کلائنٹ کو کوئی وجہ دیجیے کہ وہ کیوں آپ کو کام دے یعنی اس طرح قائل کیجیے کہ وہ متاثر ہو کر آپ کو کام دے۔
کیونکہ بہت سے لوگ اس جاب کے لیے اپلائی کر رہے ہوں گےاور فری لانسنگ میں بولی لگتی ہے مقابلہ ہوتا ہے۔ اگر کلائنٹ نے پچاس ڈالر کا کام پوسٹ کیا ہے لوگ بولی لگاتے ہیں کہ میں پینتالیس ڈالر میں یہ کام کروں گا اب دوسرا بندہ چالیس ڈالر میں خود کو اس کام کے لیے پیش کرتا ہے۔ یوں پینتیس ، پھر تیس آخر کار پچیس ڈالر میں بھی لوگ وہ کام حاصل کرلیتے ہیں۔
اپنی ریٹنگ بڑھائیں
فری لانسر کی ایک ریٹنگ ہوتی ہے کہ اگر کسی کلائنٹ کو آپ کا کام پسند آتا ہے تو وہ آپ کی پروفائل کو اچھی ریٹنگ دیتا ہے۔عام طور پر اس فری لانسر کو کوئی کلائنٹ کام نہیں دیتا جس کی کوئی ریٹنگ نہ ہو۔ اس لیے شروع شروع میں کسی فری لانسر کو کام ملنا مشکل ہوتا ہے۔ اگر آپ ایک دو کلائنٹس کو متاثر کر کے کام لینے میں کامیاب ہوجائیں تو اس کے بعد آپ کے لیے کام لینا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ جب آپ کی ریٹنگ بڑھ جائے گی تو آپ منہ مانگی اجرت پر بھی کام کر سکیں گے۔یہاں ایسے بھی فری لانسر موجود ہیں جو فی گھنٹے دو ہزار روپے چارج کرتے ہیں۔اس کے بعد آپ چاہیں تو دیگر ویب سائٹس پر ماہانہ فیس دے کر اچھے اچھے کام حاصل کرسکتے ہیں یا اپ ورک پر مفت کام کرنے کے بجائے پریمیم ممبرشپ حاصل کر کے لامحدو جابز حاصل کر سکتے ہیں جس کے بہت سے فوائد ہیں۔
اپ ورک سے آپ اپنے تجربہ کی سرٹیفکیٹ بھی ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ اور وہ سرٹیفکیٹ آپ دوسرے فری لانسنگ ویب سائٹس پر اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ فری لانسنگ ویب سائٹ پر ریٹنگ بڑھانے کے لیے ٹیسٹ بھی دے سکتے ہیں یعنی اگر آپ انگلش میں اچھے ہیں تو انگلش زبان کا ٹیسٹ منتخب کر کے دیے گیے سوالات کے صحیح جواب پر نشان لگائیں اگر آپ کا ٹیسٹ اچھا ہوگا تو آپ کی ریٹنگ بھی اچھی ہوگی۔
اس کے علاوہ چھوٹے چھوٹے کام جیسے اگر کسی کلائنٹ کو ایک عدد لوگو بنانے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کا بجٹ پانچ ڈالر ہے۔تو آپ اس کو ہلکا نہ لیں پانچ منٹ میں بنا کر دے سکتے ہیں اور اپنی ریٹنگ بڑھا سکتے ہیں یا کسی شخص کو اس کی کمپنی یا کاروبار کے لیے اچھا سا نام اور آئیڈیا تجویز کریں اگر اس کو پسند آیا تو وہ آپ کو اس آئیڈیے کے پیسے بھی سے گا اور اچھی ریٹنگ بھی اور اس کے علاوہ چھوٹے چھوٹے صفحے ٹرانسلیٹ کر کے بھی آپ اپنی ریٹنگ بڑھا سکتے ہیں۔۔
یوں آپ ایک گھر بیٹھے اچھی خاصی آمدنی حاصل کر پائیں گے۔۔
اگر آپ آن لائن پیسے کمانے چاہتے ہیں تو یاد رکھیں۔۔۔
آن لائن ارننگ کے حقیقی اور جنیون 5 میتھڈز ہیں
فری لانسنگ
ویب سائٹ
یوٹیوب
ڈیجیٹل مارکیٹنگ
5۔آن لائن سروسز
پھر ان پانچوں میتھڈزکی آگی کافی برانچز ہیں ہر ایک کی الگ الگ تفصیل ہے
اگر آپ لائف ٹائم مستقل بنیادوں پر آن لائن کمانا چاہتے ہیں اور اپنی پہچان بنانا چاہتے ہیں اپنی لائف سیٹ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کوئی سکل سیکھیں اور اس سکل پربھرپور گرفت حاصل کریں
٭ 1 فری لاسننگ
یہ میتھڈ دنیا کے تمام پروفیشنل اور ہنر مندوں کے لئے بہترین پلیٹ فارم ہے،فری لانسنگ کا مطلب ہے آپ لوگوں کو سروسز دے کر ان سے معاوضہ وصول کرتے ہی
فری لانسنگ دنیا میں سب سے زیادہ قابل اعتماد اور پیسے کمانے کا بہترین ذریعہ ہے جہاں فری لانسر اپنی محنت کے عوض پیسے کماتا ہے
فری لانسنگ سروسز میں سب سےاچھی کمائی والی جو سکل ہیں ان میں سر فہرست گرافکس ڈیزائننگ، وڈیو اڈیٹنگ، ویب ڈیزائننگ اینڈ ڈویلپر، ایپ ڈیزائننگ اینڈ ڈویلپر، تھری ڈی میکس، آٹوکیڈ،رائٹنگ اینڈ ٹرانسلیشن، آڈیو وڈیو پروڈیکشن وغیرہ۔۔۔
اگر آپ سکل ہولڈر نہیں ہیں یعنی آپ کے پاس کوئی ہنر نہیں ہے تب بھی کچھ طریقے ایسے ہیں جن کی بدولت آپ فری لانسنگ کے ذریعے کما سکتے ہیں
آپ بلاگنگ کر سکتے ہیں، تحریر لکھ سکتے ہیں، ٹرانسلیشن کر سکتے ہیں، یا آپ کی آواز اچھی ہے یا ڈیٹا انٹری کر سکتے ہیں تب بھی آپ ماہانہ اچھی خاصی آمدن کر سکتے ہیں
٭ 2 ویب سائٹ
اگر آپ ویب سائٹ سے پیسے کمانا چاہتے ہیں تو یہ مستقل اور لگاتار آمدن کی ذریعہ ہے
آپ کسی اچھے موضوع پو ویب سائٹ بنائیں اس کو سکیور کریں اس کو خوبصورت ڈیزائن کریں اور مستقل بنیادوں پر کنٹینٹ ڈالتے رہیں اور اپنی ویب سائٹ کی رینکنگ، ایس ای او کریں تو یقینا آپ کی ویب سائٹ آپ کو اچھی خاصی آمدن دے سکتی ہے
٭ 3 یوٹیوب
اگر آپ کو بولنے کا اچھا طریقہ آتا ہے اور آپ کسی بھی موضوع پر اپنا ذاتی کنٹینٹ دے سکتے ہیں تو پھر آپ کے لئے یوٹیوب ایک اچھا آپشن ہے
لیکن یوٹیوب پر کام کرنے کے لئے صبر آزما صبر محنت کی ضرورت پڑتی ہے اور بھرپور کنٹینٹ اور ذاتی مواد کی ضرورت ہوتی ہے
(یوٹیوب کے حوالے سے ایک بات یاد رہے۔ یوٹیوب کی پالیسیاں قوانین تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور اس پر کام کرنا بنسبت دوسرے میتھڈ کے تھوڑا صبر آزما ہے)
٭ 4 ڈیجیٹل مارکیٹنگ
دنیا میں موجودہ جتنے بھی مشہور اور معروف آن لائن شاپنگ کمپنیاں ہیں یا مشہور اور امیر لوگ ہیں انہوں نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ والا میتھڈ اپنایا
یقینا ڈیجیٹل مارکیٹنگ دنیا بھر میں سب سے زیادہ انکم والا ذریعہ آمدن ہے
موجودہ دور میں پوری دنیا کی مجموعی آبادی کے 70 فیصد لوگ سوشل میڈیا سے منسلک ہیں اپنی پراڈکٹ بیچنی ہو، یا کسی کی کوئی چیز اپنا حصہ رکھ کر بیچنی ہو یا پرموشن کرنی ہو اس کے لئے سب سے بہترین میتھڈ ڈیجیٹل مارکیٹنگ ہے
اسی میں ایفیلیٹ مارکیٹنگ بھی ایک میتھڈ ہے جس کو دنیا مانتی ہے کہ بہترین انکم کرنی ہو تو اس کے لئے ایفیلیٹ مارکیٹنگ بہترین ہے
٭ 5 آن لائن سروسز
جس بندے کے پاس کوئی قدرتی صلاحیت ہے اور اس میں خود اعتمادی بھی ہے یقینا وہ اپنی خدادا صلاحتیوں کو بروئے کار لاکر اپنی شخصیت کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ اپنی پہچان بنا کر اچھا خاصہ کما سکتا ہے
اگر آپ میں بولنے کی صلاحیت ہے اور آپ موٹیویشنل سپیچ دے سکتے ہیں۔ یا آپ کسی سبجیکٹ کو پڑھانے کی ماہر ہیں۔ یا آپ کی آواز اچھی ہے اور آپ کسی کے لئے ڈیبیٹ کر سکتے ہیں۔ یا آپ آڈیو ایڈوٹائزنگ کر سکتے ہیں۔ یا آپ کسی کے لئے اپنی سریلی آواز میں کچھ گا سکتے ہیں تو آپ بہترین انکم کر سکتے ہیں۔اگرآپ میں اتنا اعتماد اور صلاحیت ہے کہ آپ کوئی چیز دوسرے کو اعتماد دلا کر فروخت کروا سکتے ہیں تو آپ کے لئے بہت ساری کمپنیوں کے دروازے کھلے ہیں اور آپنا کرئیر بنا سکتے ہیں
نوٹ۔ ایک ایک میتھڈ کو تفصیلاً لکھوں گا اور مکمل رہنمائی کی کوشش کروں گآ ۔۔
ان کے پانچ میتھڈزکے علاوہ کوئی ایسا طریقہ نہیں ہے۔۔ جس کی مدد سے آپ ماہانہ ہزاروں لاکھوں کما سکیں یا چند عرصے بعد کروڑ پتی بن جائیں۔۔
اگر کوئی ویب سائٹ یا اشتہار یا کوئی بھی یہ کہے کہ فلاں ویب سائٹ پر انویسٹ منٹ کریں،اگر کوئی اشتہاریہ کہے کہ چند مہینے دن میں دس بیس منٹ کام کریں اور دس بیس بندے لے کر آئیں اور ریفر لائیں،روزانہ سو ایڈز پر کلک کریں یا پچاس ویب سائٹس دیکھیں یا گیم کھیلیں یا تصویریں وڈیو دیکھ کر پیسے کمائیں
مہینے میں لکھ پتی اور پانچ ماہ بعد کروڑ پتی بن جائیں تو دنیا میں ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے اس طرح کے تمام کام بلکل جعلی فیک اور سکیم ہوں گے۔۔
پھر کہتا ہوں کہ پی ٹی سی، ایڈ کلنگ، ایڈ پیسٹنگ، کیپچہ فل، وغیرہ وغیرہ اس طرح کے تمام کام بکواس جھوٹ سکیم اور فراڈ پر مبنی ہوتے ہیں۔۔
پاکستانیوں پر ایک رات میں کروڑ پتی بننے کا بھوت سوار ہوتا ہے اسی لئے اس طرح کے فراڈی لوگ فراڈ لگانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور چونا لگا کر بھاگ جاتے ہیں
کوئی بھی پی ٹی سی، ایڈ کلکنگ، ایڈ پیسٹنگ کی ویب سائٹ، بندہ لاکھ قسمیں کھائے اور جنیون ہونے کی تقریر کرے اور بہت سارے خواب دیکھائے تو یقین کر لیں کہ یہ کام بلکل جعلی اور فضول ہوگا۔۔
اس لئے خدا را خود کو بھی اس طرح کے دھوکوں سے بچائیں اور اپنے دوست احباب کو بھی بچائیں
یاد رکھیں آن لائن کمائی کرنے کے لئے کڑی محنت اور بھرپور طریقے سے کام کرنا پڑتا ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ ایک دو دن میں ارننگ شروع ہوجائے یا بس کام نہیں کرنا بس پیسے آتے جائیں گے۔۔
جنیون طریقے وہی ہیں جو اوپر ذکر کئے گئے ہیں
ان پانچ میتھڈ ز اور ان کی آگی جتنی شاخیں ہیں ان سے ماہانہ اچھی خاصی رقم کما سکتے ہیں۔۔
پاکستان میں ایسے کئی فری لانسر، یوٹیوبر، بلاگر،آن لائن مارکیٹر ہیں جو کئی سالوں سے اچھی خاصی رقم کما رہے ہیں۔۔
فری لانسنگ کا دور
یہ نومبر 2015ء کی بات ہے۔ ایلیکس نامی بائیس سالہ لڑکی نیویارک کے ایک اپارٹمنٹ میں اپنی والدہ کے ہمراہ مقیم تھی۔ ایک دن معمول کے مطابق وہ اپنے دفتر پہنچی تو اسے پتہ چلا اسے کسی دوسری ریاست میں ٹرانسفر کر دیا گیا ہے۔ ایلیکس کے لئے پریشانی کھڑی ہو گئی۔ وہ اپنی والدہ کو اولڈ ہوم میں چھوڑنا چاہتی تھی نہ ہی اپارٹمنٹ میں تنہا چھوڑ سکتی تھی۔ اس نے مگر عجیب فیصلہ کیا۔ اس نے ایک کاغذ قلم پکڑا‘ استعفیٰ منیجر کی میز پر رکھا اور پرس اٹھا کر باہر نکل آئی۔ آج وہ خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی۔ اس روز وہ دو تین میوزیمز میں بھی گئی اور خوب آوارہ گردی کی۔ شام کو وہ گھر لوٹی تو اسے عجیب خیال ستانے لگے۔ اس نے سوچا نوکری تو رہی نہیں اب گھر کے اخراجات کیسے چلیں گے۔ اسے ایک خیال سوجھا۔ وہ انٹرنیٹ پر گئی اور ایک ویب سائٹ Fiverr پر اپنا اکائونٹ بنا لیا۔ اس ویب سائٹ کا اسے کسی دوست نے بتایا تھا۔ اس پر گھر سے کام کرکے پیسے کمائے جا سکتے تھے۔ ایلیکس ایک نیوز ایجنسی میں کام کرتی تھی‘ اسے انگریزی کے علاوہ فرانسیسی پر بھی عبور حاصل تھا۔ وہ پریس ریلیز بھی بنا لیتی تھی‘ ترجمہ بھی کر لیتی تھی‘ آرٹیکلز کی ایڈیٹنگ بھی کر لیتی تھی‘ بلاگز بھی لکھ لیتی تھی‘ تبصرہ بھی کر لیتی تھی اور اہم لوگوں کے انٹرویوز بھی کر چکی تھی۔ اس نے فیور ویب سائٹ پر اپنا اکائونٹ بنا کر پانچ ڈالر میں کام کرنے کی ہامی بھر لی۔ اگلی صبح اس نے اکائونٹ چیک کیا تو کسی نیوز ایجنسی نے ایک خبر بھیجی تھی جسے پریس ریلیز کی صورت میں تیار کرنا تھا۔ یہ ایلیکس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ اس نے فوراً وہ کام کر دیا اور یوں پندرہ منٹ میں اس نے پانچ ڈالر کما لئے۔ یہ صرف پانچ ڈالر نہیں تھے بلکہ وہ اعتماد تھا جس کی بنیاد پر ایلیکس نے ایک نئی دنیا میں قدم رکھا تھا۔ آہستہ آہستہ اسے مزید کام ملنے لگا اور وہ ہفتہ وار سو سے دو سو ڈالر کمانے لگی۔ ایلیکس نے انگریزی سے فرانسیسی میں ترجمے سمیت پانچ ڈالر کی نو مزید سروسز کے لئے اپلائی کر دیا جن میں اسے مہارت تھی۔ حیرانی کی انتہا نہ رہی جب چند ہی گھنٹوں بعد کچھ لوگوں اور کمپنیوں نے اسے کام کی آفر کر دی جس میں دو کتابوں کا انگریزی سے فرانسیسی میں ترجمہ بھی شامل تھا۔ یوں ایک ہفتے کے اندر اندر ایلیکس نے ایک ہزار ڈالر کما لئے۔ جب اسے ایک ہزار ڈالر کی یہ رقم موصول ہوئی تو وہ جذبات کی رو میں بہہ کر رونے لگی۔ اسے وہ دن یاد آ گئے جب اسے دوسری ریاست میں ٹرانسفر کیا جا رہا تھا اور وہ اپنے مستقبل اور ماں کے بارے میں پریشان تھی۔ اب وہ سنجیدگی کے ساتھ مکمل طور پر فری لانس کام کرنے کو تیار ہو چکی تھی۔ اس نے اپنی فیس پانچ ڈالر کیٹیگری سے بڑھا کر پندرہ ڈالر فی گھنٹہ کر دی۔ اس نے اپنا لائف سٹائل بھی تبدیل کر لیا۔ گھر کے ایک کونے کو دفتر میں تبدیل کر دیا جہاں وہ اپنی مرضی کے اوقات میں آٹھ سے دس گھنٹے روزانہ کام کرتی۔ والدہ کو بھی وقت دیتی اور ہفتہ اتوار بھرپور چھٹی مناتی۔ اس طرح ایک سال میں وہ صرف ایک ویب سائٹ کے ذریعے کام کر کے 33 ہزار ڈالر کما چکی تھی۔ اس کے بعد اس نے upwork اور اس جیسی دو تین مزید ویب سائٹس پر اکائونٹس بنا لئے اور وہاں سے بھی اسے کام ملنے لگا۔ دوسرے سال میں اس کے پاس کام بھی بہت آیا اور اس نے اپنے کام کی فیس بھی بڑھا دی جس سے آن لائن فری لانس کام کرکے اس نے 48 سو آرڈر مکمل کرکے ڈیڑھ لاکھ ڈالر کما لئے۔ یہ اس سے آٹھ گنا زیادہ رقم تھی جو وہ نوکری کرکے کماتی تھی۔ آہستہ آہستہ اس کا کام اتنا بڑھ گیا کہ اسے ایک اور کمرہ کرائے پر لینا پڑا جہاں اس نے چار لوگوں کو ملازمت دی اور ان کے ساتھ مل کر آن لائن فری لانسنگ کی چھوٹی سی کمپنی بنا لی اور یوں وہی ایلیکس جو دو سال قبل گھر یلو اخراجات اور ماں کی دیکھ بھال کے لئے پریشان تھی‘ اب مالی طور پر خوشحال ہو چکی تھی۔
یہ صرف امریکہ کی نہیں بلکہ پوری دنیا کے ممالک میں روزانہ ایسی ہی حقیقی کہانیاں سننے کو مل رہی ہیں۔ اس کی وجہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ہے جو تیزی سے لوگوں کا لائف سٹائل ہی نہیں بلکہ پیسہ کمانے کا انداز بھی بدل رہی ہے۔ ایک امریکی رپورٹ کے مطابق صرف امریکہ میں 2028ء تک فری لانس کام کرنے والوں کی تعداد روایتی آفس جاب کرنے والوں کے مقابلے میں بڑھ کر چوراسی فیصد تک پہنچ جائے گی یعنی صرف سولہ فیصد لوگ ایسے رہ جائیں گے جو دفاتر میں جا کر کام کریں گے۔ آپ امریکہ کو ایک طرف رکھیں‘ میں آپ کو پاکستان کی مثال دیتا ہوں۔ پنجاب کے ایک پسماندہ قصبے میں ایک لڑکا کسی کالج کی لیب میں پندرہ ہزار روپے میں نیٹ ورک ایڈمنسٹریٹر تھا۔ اس کی تعلیم تو صرف ایف اے تھی لیکن وہ نیٹ ورکنگ اور کمپیوٹر گرافکس کا بھی ماہر تھا۔ اس نے upwork اور اس جیسی دوسری ویب سائٹس پر اکائونٹ بنایا اور پانچ ڈالر فی گھنٹہ کے لئے اپلائی کر دیا۔ چند دن بعد اسے ایک کمپنی نے قدرتی مناظر پر مبنی دس خوبصورت وال پیپر بنانے کا کہا۔ اس نے یہ کام کر دیا اور یوں اس کی کمائی کا آغاز ہو گیا۔ اس کا کام انتہائی معیاری تھا جس کی وجہ سے اسے آرڈر بھی تیزی سے ملنے لگے۔ اس وقت وہ لڑکا نہ صرف لیب کی وہ نوکری چھوڑی چکا ہے بلکہ اس نے جگہ لے کر نو مزید لڑکے اپنے ملازم رکھے ہیں جو آن لائن فری لانس کام کرکے ہزاروں ڈالر ماہانہ کما رہے ہیں۔ پنجاب میں جو ای روزگار پروگرام شروع ہوا اس کی وجہ بھی یہی لڑکا بنا۔ اس کی کہانی جب سرکاری آئی ٹی آفیشلز تک پہنچی تو انہوں نے پنجاب میں وسیع پیمانے پر بے روزگار نوجوانوں کو ای روزگار ٹریننگ دینے کا فیصلہ کیا۔ پنجاب کے تئیس اضلاع میں ای روزگار سنٹرز قائم کئے گئے جہاں سے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بیروزگار نوجوان مرد و خواتین تربیت لے کر چند ماہ میں کل ایک لاکھ بارہ ہزار ڈالر کما چکے ہیں۔ فری لانسنگ کا آن لائن کاروبار بڑی تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس کی کوئی سرحد نہیں اور نہ ہی آن لائن فری لانس کام کی کمی ہے۔ آپ ان میں سے کسی بھی فری لانس ویب سائٹ پر جائیں تو آپ کو ہزاروں آفرز نظر آئیں گی۔ کہیں کسی کو مختلف زبانوں میں ٹرانسلیشن کا کام درکار ہے‘ کہیں بلاگ رائٹنگ‘ بلاگز ایڈیٹنگ‘ سٹوری رائٹنگ‘ گرافکس ڈیزائننگ‘ پروف ریڈنگ‘سافٹ ویئر ڈیزائننگ‘ میڈیکل ٹرانسکرپشن‘ آڈیو سے تحریری شکل میں لانے کا کام غرضیکہ ہزاروں طرح کے کام آپ کے منتظر ہیں۔
ہمارے نوجوان اس ملک کی آبادی کا ساٹھ فیصد سے زائد ہیں۔ اس وقت الیکشن کی گہما گہمی ہے۔ بدقسمتی سے ان کی اکثریت حکومتوں کی جانب سے کسی معجزے اور نوکریوں کے پرمٹ کے انتظار میں بیٹھی ہے۔ انہیں اپنی قابلیت اور مہارتوں کا اندازہ ہی نہیں۔ پاکستان میں نوجوانوں کی اوسط عمر تئیس برس ہے‘ جبکہ امریکہ میں یہی عمر اڑتیس اور جاپان میں بیالیس سال ہے۔ نوجوانوں میں کام کا جذبہ اور توانائی زیادہ ہوتی ہے اور وہ نئے اچھوتے خیالات سامنے لاتے ہیں اس لئے ہر ملک میں نوجوانوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے نوجوان صرف ایم اے کرنا کافی سمجھتے ہیں۔ دنیا بدل رہی ہے۔ روزگار کے مواقع اور تعلیم کے انداز بھی بدل رہے ہیں۔ ہمیں بھی ان کے ساتھ خود کو بدلنا ہے۔ جو نوجوان براہ راست آن لائن عالمی ویب سائٹس سے استفادہ کر سکتے وہ ای روزگار جیسے منصوبوں سے تربیت حاصل کرکے آمدنی کے نئے در کھول سکتے ہیں۔ اب وہ زمانے گئے جب سولہ جماعتیں اور محض کسی ایک نوکری پر ساری زندگی گزارا ہو جاتا تھا اور بعد میں پنشنیں لگ جاتی تھیں۔ اب جو خود کو زمانے کے ساتھ اپ ڈیٹ نہیں کرتا وہ زندگی تو کیا چار مہینے نہیں گزار سکتا کیونکہ روایتی نوکریاں ساری دنیا میں آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہیں اور وقت کے ساتھ جو نہیں چلے گا‘ اسے مشکلات کا سامنا کرنا کے لئے تیار رہنا چاہیے ۔۔ میرا خیال ہے پوسٹ قافی لمبی ہو گی ہے اسی پر اکتفا کرتا ہوں ۔۔ ٹائم دینے کا شکریہ ۔۔رب راکھا
ملک محمّد اصغر سیفی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

فری لانسنگ سے پیسے کمانے کے بہترین طریقے” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں