make money with youtube 413

یوٹیوب سے پیسہ کمانا

یوٹیوب سے پیسہ کمانا
————
میں نے اپنا یوٹیوب چینل بنایا تو بہت سے لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا۔
ایسے لوگ جو خود اپنی ذات میں علمی اور ذہنی صلاحیتوں کے شاہکار ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اچھا بولنا اور پرفارم کرنا جانتے ہیں۔ اور چاہتے ہیں کہ اپنی اس صلاحیت کی بنا پر ایک یوٹیوب چینل بنا کر روزی روٹی کا بند و بست کیا جائے۔
لیکن عموماً بات اتنی آسان ہوتی نہیں ہے جتنی کہ سمجھی جاتی ہے۔
یوٹیوب سے پیسہ کمانا بہت آسان بھی ہے اور بہت مشکل بھی۔
عموماً ہوتا یوں ہے کہ ہم آسانی والے پارٹ کو سیکھ لیتے ہیں، دیکھ بھی لیتے ہیں، ٹھکا ٹھک کیلکیولیشن بھی کرکے کسی کی بھی ماہانہ آمدنی کا تخمینہ نکال لیتے ہیں۔ لیکن جب میدان میں اترتے ہیں تو ناکام لوٹتے ہیں۔
اس ناکامی کی بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے کہ ہم آسان والا حصہ نظر میں رکھ کر میدان میں اترتے ہیں اور مشکل والے حصے کو یکسر نظر انداز کردیتے ہیں۔
یوٹیوب ہی کی بات کی جائے تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یوٹیوب سے پیسہ کمایا جاسکتا ہے۔
ایک منٹ سے پہلے آپ یوٹیوب چینل بنا سکتے ہیں۔
جتنے چاہے چینل بنائیں کوئی پابندی نہیں۔
یوٹیوب پر آڈینس کو اکھٹا کرنا نسبتاً آسان ہے۔
یوٹیوب فیس بک کے بر عکس آپ کے مواد کو خود پھیلاتا ہے۔
یوٹیوب پر ویوز آسانی سے آجاتے ہیں۔
یوٹیوب آپ کے مواد پر پیسہ دیتی ہے۔
یہ تو ہوئی آسانی والی باتیں جس پر سب متفق ہیں۔ لیکن اب مشکل والے معاملات کی طرف دیکھیے تو ذاتی تجربہ اور کئی لوگوں کی کہانیاں سننے کے بعد میں درج ذیل مشکلات کا ذکر کر سکتا ہوں:
-یوٹیوب پر آڈینس جمع کرنے میں وقت لگتا ہے۔
-ہر وڈیو کے لیے ایک ایسا آئیڈیا لانا جس سے ویلیو جنریٹ کی جاسکے، مشکل کام ہے۔ عموماً لوگ ایک وڈیو بنانے کے بعد دوسری وڈیو کے لیے آئیڈیا ہی تلاش نہیں کر پاتے۔
-مستقل طور پر وڈیوز بنانا خون پسینے کی محنت مانگتا ہے۔
-ایک وڈیو پروڈکشن سے لے کر اپلوڈنگ تک جس قدر محنت مانگتی ہے اتنی محنت کرکے آپ فیس بک پر باقاعدہ ایک بڑی فین فالوونگ جنریٹ کر سکتے ہیں۔
-لوگ یوٹیوب پر وڈیوز دیکھ کر لوگ عموماً سمجھتے ہیں کہ یہ بچوں کا کھیل ہے۔ لیکن جب بنانے بیٹھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وڈیو بنانے میں صرف بولنے، بات کرنے یا پرفارم کرنے ہی کی صلاحیت نہیں لگتی، کیمرا ہینڈلنگ، آواز کو کنٹرول کرنا، وڈیو ایڈیٹنگ اور دیگر بہت سارے کام ہوتے ہیں جو ایک وڈیو کو صحیح معنوں میں وڈیو بناتے ہیں۔
– اور سب سے اہم یہ کہ دو چار وڈیوز بنانے کے بعد اگر آپ کو ویوز نہ مل رہے ہوں تو استقامت دم توڑ دیتی ہے اور آپ میدان چھوڑ دیتے ہیں۔
یہ وہ بنیادی باتیں ہیں جن کی وجہ سے کامیاب یوٹیوبرز کی تعداد انتہائی کم اور ناکام ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ نظر آتی ہے۔ نتیجتاً لوگ کسی اور سہل کام کی تلاش کرتے ہیں جو کہ انہیں کبھی نہیں ملنا ہوتا۔
گزارش یہ ہے کہ جس کام میں بھی ہاتھ ڈالیں، اس کے منفی اور مثبت دونوں پہلوؤں پر نظر رکھا کریں۔ میرے سامنے ایک دو نہیں بلکہ بیسیوں مثالیں ہیں۔ ایسے لوگ جنہوں نے اپنا چینل بڑے جوش سے شروع کیا لیکن دس وڈیوز سے آگے نہیں جاسکے۔
یہ پوسٹ لکھنے کا اس وقت مقصد یہ ہے کہ یوٹیوب اپنی پالیسیز ری کال کر رہا ہے۔ بہت ساری چینجز آئی ہیں گزشتہ چند ماہ میں۔ یوٹیوب پر جو دو نمبری کرتے ہیں ان کی بینڈ بجے گی لیکن جو اوریجنل مواد کے لوگ ہیں ان کے لیے اس میدان میں بہت مواقع ہیں۔ لیکن یہ مواقع آپ کو فائدہ تب ہی دیں گے جب آپ باقاعدہ ایک لانگ ٹرم عزم کے ساتھ داخل ہوں گے۔ ورنہ کوئی فائدہ نہیں۔
-مزمل شیخ بسملؔ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں