karobar 42

کچھ کھری کھری باتیں کاروبار کی

کچھ کھری کھری باتیں کاروبار کی
————
ہمارے یہاں ایک بہت بڑی پریشانی یہ ہے کہ آپ جب بھی کسی نئے آئیڈیا کی بات کریں تو اس پر نامعلوم خوف اور غیر متوقع رویے آسانی سے دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔
لوگ اپنے حالات اور ملکی سطح پر پیش آنے والی کیفیات سے اتنے زیادہ خوف زدہ ہیں کہ اب نئی بات سننے کے لیے بھی راضی نہیں ہوتے۔
بہتری ہر ایک چاہتا ہے۔
اپنے حالات کو تبدیل کرنا ہر ایک کی خواہش ہے۔
لیکن درمیان میں ایک ہی چیز حائل ہے جسے میں سوشل پیسیمیزم (Social Pessimism) کا نام دیتا ہوں۔ یہ سوشل پیسیمزم یا سماجی بدگمانی ایک ایسا تخم ہم میں سرایت کرگیا ہے جو ہمیں کبھی بھی آگے بڑھنے نہیں دیتا۔ کتنے ہی بد تر حالات کیوں نہ ہو جائیں۔ کتنی ہی بے یقینی کی کیفیت کیوں نہ ہو۔ لیکن جب بھی آپ اس سماجی بد گمانی سے باہر آکر اپنے کندھوں پر رکھ کر بندوق چلانے کی ٹھان لیں گے حالات اسی دن بہتر ہو جائیں گے۔
ہمارے ایک بہت اچھے دوست کہا کرتے ہیں کہ پاکستانی کی مٹی میں بھی پیسہ ہے۔ یہاں آپ ہر اُس چیز سے پیسہ بنا سکتے ہیں جو بظاہر مٹی ہو۔ بے قیمت ہو۔ لیکن ایک چھوٹی سوچ رکھنے والا شخص، جس کی کُل زندگی نوکریاں ڈھونڈتے، نوکریاں مانگتے اور نوکریاں کرتے ہوئے گُزری ہو۔ جس کی تعلیم، ڈگری اور ساری بھاگ دوڑ ہی نوکری کے لیے ہو وہ یہ بات کبھی سمجھ نہیں سکتا۔ کیونکہ وہ سمجھنا ہی نہیں چاہتا۔
اور جو یہ بات سمجھ لیتا ہے تو وہ پھر دھوبی سے سنو وائٹ، نائی سے سیلون، پرچون سے سپر مارکیٹ اور نان بائی سے کیٹرنگ ہاؤس میں کنورٹ ہوجاتا ہے۔
اور یہی نیچے کی تیسری تہہ کے لوگ جب آپ اور مجھ جیسے ڈگری یافتہ لوگوں کو نوکری پر رکھ کر بیس، پچاس اور اسی ہزار تنخواہ دیتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ قابلیت کی قدر نہیں ہے۔
او بھائی یہ سب تم نے خود اپنے آپ پر لازم کیا ہے تو اس میں کسی اور کا کیا قصور؟
خیر!!!
میں معلوم نہیں کس کے آگے غوغاں کناں ہوں۔ لیکن بس افسوس ہوتا ہے۔
-مزمل شیخ بسملؔ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں