746

وٹامن ای کی کمی کے نقصانات اور استعمال کے فوائد

ہیلسنکی: فن لینڈ کے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی نہ کرنے والے عمر رسیدہ افراد اگر اپنی روزمرہ غذا میں وٹامن ای کی صرف 50 گرام مقدار شامل کرلیں تو انہیں نمونیہ ہونے کے امکانات 72 فیصد تک کم ہوجاتے ہیں۔

یہ مطالعہ یونیورسٹی آف ہیلسنکی، فن لینڈ کے ڈاکٹر ہیری ہمیلا کی سربراہی میں کیا گیا جس کے دوران سائنسدانوں کی ٹیم نے 1985 سے 1993 کے دوران فن لینڈ میں 50 سے 69 سال عمر کے سگریٹ نوش افراد پر کی گئی تحقیق کا از سرِ نو جائزہ لیا۔ اس تحقیق میں 7,469 مرد شامل تھے جنہیں لمبے عرصے تک روزانہ وٹامن ای کی 50 ملی گرام مقدار استعمال کروائی گئی تھی۔

ان تحقیق کے اعداد و شمار کا ایک بار پھر، زیادہ باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ادھیڑ عمری سے بڑھاپے کے دوران وٹامن ای کا روزانہ استعمال سب سے زیادہ اُن افراد کو ہوا جنہوں نے اس عرصے کے دوران سگریٹ نوشی بالکل چھوڑ دی تھی۔ ان میں نمونیہ سے متاثر ہونے کی شرح 72 فیصد تک کم ہوگئی تھی۔

وہ افراد جنہوں نے 21 سال یا اس سے کچھ زیادہ عمر میں سگریٹ نوشی شروع کی تھی، انہیں بھی وٹامن ای استعمال کرنے پر بڑی عمر میں فائدہ ہوا لیکن اُن میں نمونیہ کا خطرہ صرف 35 فیصد ہی کم ہوسکا۔ کم تمباکو نوشی کے ساتھ روزانہ ہلکی پھلکی ورزش کرنے والے گروپ میں وٹامن ای کے استعمال سے نمونیہ کا خطرہ 69 فیصد تک کم ہوگیا۔ سگریٹ نوشوں میں وٹامن ای کا سب سے کم فائدہ ان لوگوں کو ہوا جو بہت زیادہ سگریٹ پیتے تھے اور ورزش کرنے سے جی چراتے تھے۔ وٹامن ای کے استعمال سے اس گروپ میں نمونیہ کا خطرہ صرف 12.9 فیصد تک ہی کم ہوسکا۔

’’کلینیکل انٹروینشنز اِن ایجنگ‘‘ نامی ریسرچ جرنل میں شائع ہونے والے اس مطالعے میں ماہرین نے لوگوں سے تمباکو نوشی ترک کرنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ ایسا کرکے وہ کسی اور پر نہیں بلکہ خود پر رحم کھائیں گے۔

واضح رہے کہ وٹامن ای سپلیمنٹ کی شکل میں بھی ملتا ہے جبکہ بادام، مونگ پھلی، سبزیوں کے تیل، سورج مکھی اور سویابین کے تیل، گندم اور مکئی میں بھی وافر موجود ہوتا ہے۔

Original Article
کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں