eid gosht 51

عید قرباں پر گوشت خوری اور صحت مند رہنے کے طریقے

عید قرباں اور گوشت خوری لازم و ملزوم ہیں لیکن گوشت کی بسیار خوری سے پرہیز کے علاوہ چند حفاظتی تدابیر آپ کی صحت و زندگی کی ضامن ہوسکتی ہیں۔

طبی ماہرین صحت مند انسان کے لیے گوشت کی مناسب مقدار کی حد 100 گرام بتاتے ہیں لیکن عید قرباں ایک ایسا تہوار ہے جس میں صحت مند افراد کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی اوسط مقدار سے زیادہ گوشت استعمال کر لیتے ہیں جو کسی عارضے میں مبتلا ہوں۔

گوکہ گوشت عید الاضحی کا تحفہ ہے مگر ہر وہ شے جو اعتدال سے تجاوز کر جائے، نقصان پہنچانے کا سبب بنتی ہے۔ ایسے میں خاتون خانہ کو چاہیے کہ وہ گھر کے تمام افراد کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ بقر عید اور اس کے پکوانوں کا بھرپور لطف بھی اٹھایا جا سکے اور صحت سے متعلقہ خطرات سے بچنے کی بھی ہر ممکن کوشش کی جا سکے۔

عموماً بقر عید کے موقع پر خوب چٹ پٹی ڈشز کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں روغن، سرخ مرچوں اور گرم مسالوں کی بھرمار ہوتی ہے۔ قربانی کے گوشت میں قدرتی روغن موجود ہوتا ہے، لہٰذا تیل اور مصالحوں کی مقدار کم سے کم استعمال کریں۔ سرخ مرچوں کے بجائے ہری مرچیں کاٹ کر یا پیس کر استعمال کریں۔ دَم پر کُٹا ہوا زیرہ بھون کر ضرور ڈالیں۔ یہ ہاضمے میں مدد دیتا ہے۔ گوشت کو جلدبازی میں پکانے کی بجائے اندر سے خون کو مکمل طور نکلنے دیں ورنہ اس سے کئی بیماریاں لاحق یوسکتی ہیں مثلاً بدہضمی اور پیٹ کا درد وغیرہ۔

گوشت کے ہرکھانے کے ساتھ پودینے کا رائتہ، پیاز ٹماٹر کی سلاد اور لیموں کا استعمال بھی لازماً کریں۔ عید قرباں پر باربی کیو کا بھی اہتمام لازمی کیا جاتا ہے، جس میں گوشت عموماً صحیح سے پک نہیں پاتا اور کچے پکے گوشت میں جراثیم نمو پاتے ہیں۔ ایسے میں اگر گوشت میں دہی اور کچا پپیتا لگا کر اچھی طرح میرینیٹ کیا جائے، تو وہ لذیذ ہونے کے ساتھ صحیح طرح گل بھی جاتا ہے۔

بقر عید کی دعوتوں، بلکہ خود گھروں پر بھی گوشت کے پکوانوں پر اس قدر زور ہوتا ہے کہ لوگ سبزی پھل کھانا تو گویا بھول ہی جاتے ہیں۔ اس لیے خاتون خانہ کو چاہیے کہ وہ پھلوں اور سبزیوں کا ملا جلا سلاد لیمن جوس یا اورنج جوس وغیرہ دسترخوان پر نہ صرف رکھیں، بلکہ کھانے کے لیے بھی اصرار کریں۔ اس کے علاوہ متواتر گوشت کی ڈشیں بنانے کے بجائے، ایک دن کے ناغے کے ساتھ دال اور سبزی کی ڈشیں بھی بنائیں، کیوںکہ گوشت کے زیادہ استعمال سے کولیسٹرول، بلڈ پریشر اور وزن بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

ہمارے یہاں رواج ہے کہ بقرعید کے گوشت کو سال بھر کے لیے فریزر میں جمع کر لیا جاتا ہے، جو کہ سراسر حماقت ہے۔ تین ہفتوں سے زائد عرصے کے لیے فریز کیا جانے والا قربانی کا گوشت صحت کے لیے مضر ثابت ہو سکتاہے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ موقع پر ہی اس کے مناسب حصے بخرے کر دیے جائیں۔ اس کے علاوہ خواتین کو اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ گوشت کو صحیح طور پر محفوظ کریں اور باہر نہ رہنے دیں۔ گوشت کے خراب ہونے کی مخصوص بو کے حوالے سے بھی احتیاط برتیں، نہ کہ گرم مسالوں سے اس کی بو ختم کرنے کی کوشش کریں، کیوں کہ ایسا گوشت صحت کو شدید نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔

گوشت چوں کہ ثقیل اور تا دیر ہضم ہونے والی غذا ہے، تو خاتون خانہ کو چاہیے کہ گھر کے تمام افراد کو اسپغول استعمال کرنے کا پابند بنائیں۔ یہ جسم میں کولیسٹرول کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔ اس کے علاوہ سبز الائچی کی چائے، اسکنجبین اور ادرک لیموں اور سونف کا قہوہ کثرت سے بنائیں۔ پانی جسم کی بیرونی صفائی کے ساتھ جسم کی اندرونی کثافتوں کو دور کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس سے ایک طرح کی ڈی ٹاکسیفکیشن ہوجاتی ہے۔ بقرعید کے دنوں میں ذیادہ گوشت کھالیا ہے تو پانی کا بہت ذیادہ استعمال کیجئے کیونکہ یہ جسم سے فاسد مواد بہا لے جائے گا۔

مریض جن کو یورک ایسڈ کی شکایت ہے، انہیں سرخ گوشت کے پکوان کھانے میں خاص احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ گوشت کے پکوان تیار کرنے کے طریقے بھی کچھ بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ گوشت کے پکوانوں میں استعمال ہونے والے مرچ مصالحے، چکنائی اور نمک ،مختلف بیماریوں میں ان کے اپنے نقصانات ہیں۔ مثلاً نمک کا استعمال دل ، بلڈ پریشر اور گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کے لئے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

غذائی ماہر ڈاکٹر نوشین جاوید کا مشورہ ہے کہ بہت طویل عرصے یعنی مہینوں گوشت فریز کرنے سے باز رہیں۔ اس کی ایک وجہ تو گوشت مہینوں کے لیے رکھنا غلط ہے تو دوسری جانب لوڈ شیڈنگ سے گوشت ڈی فریز ہوکر نرم پڑجاتا ہے۔ اب اسے دوبارہ سرد نہ کیجئے بلکہ اب گوشت کے پارچے کرکے ابال لیجئے اور پیکٹ بنا کر دوبارہ فریز کرلیجئے۔ وجہ یہ ہے کہ ڈی فریز ہونے کے بعد نرم ہوتا ہوا گوشت جراثیم کا گڑھ بن سکتا ہے اور مسلسل لوڈ شیڈنگ سے وہ مزید خراب ہوسکتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں