Successful Small Town Business Ideas 126

اگر آپ دیہات میں ہیں تو یہ کاربار بھی آپ کے لئے بہترین ہے

ایک بہترین بزنس کا موقع آپ کا منتظر ہے

اگر آپ دیہات سے تعلق رکھتے ہیں تو آپ کے لئے سرمایہ کاری کا نادر موقع ہے — جیساکہ آپ کو معلوم ہے پہلے پہل گندم کے گٹھوں کوباندھنے کے لئےرسیاں کام آتی تھیں جوکہ گندم کے خوشوں کا باٹ کر ہی تیار کی جاتی تھیں ، اس طرح گنفم کے گٹھے تھریشر تک باآسانی پہنچ جاتے تھے پھر دور بدل گیا اور ان گندم کے گٹھوں کو باندھنے کے لئے گندم کےخوشوں کی جگہ کپڑے کی ٹاکیوں نے لے لی اور پھر یہ باقاعدہ بزنس بن گیا آج کل اس کا ٹرینڈ پھیل رہا ہے

ابھی دو سال پہلے ہی کی بات ہے

معین الدین نے اسی بزنس میں ہاتھ ڈالنے کا فیصلہ کیا ، اس کے ساتھ چند دوست مل گئے اور انہوں نے فیصل آباد سے کپڑے کی ٹاکیوں کی 14 گاڑیاں
( تقریبا80 ٹن ) لےلیں اور قریب کے تمام دیہاتوں میں تقریبا بیس سیل پوائنٹس لگالئے اور ہر پوائنٹ پہ دو ملازم رکھے اور ہر پوائنٹ کو ایک سو من ٹاکی مہیا کی۔۔
مارچ کے اواخر سے مئی کے آخر تک کے اس سیزن میں مال ہاتھوں ہاتھ بکتا ہے اس وقت بھی ایسا ہی ہوا ، معین الدین کا سارا مال نکل گیا اور اسے لاکھوں روپے ہاتھ آئے ۔۔

اس بزنس میں راز کی بات یہ ہے کہ کپاس کے موسم میں کپڑے کی ٹاکی کا ریٹ فی کلو 65 سے 70 روپے ہوتا ہے جبکہ گندم کے موسم میں یہ ٹاکی 80 سے 90 روپے فی کلو تک فروخت ہوتی ہے۔۔

تو معین الدین نے کپاس کے موسم میں دو ہزار من مال سٹاک کر لیا تھا جو کہ اسے 1600 روپے فی من کے حساب سے ملا ( یہ آج سے دو سال پہلے کا ریٹ تھا ابھی تقریبا 65 روپے فی کلو اور 26 سو روپے فی من ہے ) اس کی ٹوٹل سرمایہ کاری 32 لاکھ تھی ، اور بعد ازاں گندم کے موسم میں 3600 روپے فی من کے حساب سے فروخت کیا گیا۔۔

اخراجات کا حساب لگایاگیا تو فیصل آباد سے رحیم یار خان مال منگوانے پہ 2 لاکھ روپےخرچ آئے
جبکہ کام کے لئے مستقل دو ماہ کے لئے رکھے جانے والے مزدوروں کو فی دن 600 روپے دیئے گئے، اس طرح 40 مزدوروں کو 24 ہزار روپے فی دن کے حساب سے مزدوری دی گئی ، اور 60 دنوں کے لئے ٹوٹل مزدوری 14 لاکھ 40 ہزار روپے بنی جبکہ ہر پوائنٹ کو فعال رکھنے پہ کرایہ بجلی وغیرہ کی مد میں فی پوائنٹ 10 ہزار 5 سو روپے خرچ کئے گئے ۔۔

اس حساب سے ٹوٹل خرچ فی پوائنٹ 82 ہزار 5 سو روپے جبکہ 20 پوائنٹس پہ 16 لاکھ 50 ہزار روپے خرچ کئے گئے —

اب آمدنی کا موازنہ کیجئے

ٹوٹل خرید اری 34 لاکھ روپے ( مع کرایہ )
ٹوٹل خرچ 16 لاکھ 50 ہزار روپے ( جوکہ روزانہ سیل کی مد سے ہی نکلتا رہا )
ٹوٹل سرمایہ کاری 35 لاکھ روپےتقریبا

گندم کے موسم میں فی کلو 75 روپے فروخت کے حساب سے فی من 3 ہزار روپے کا بنا، اس طرح دو ہزار من ٹاکی 60 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی ، 35 لاکھ روپے سرمایہ کاری نکال کر محض چار ماہ کی سرمایہ کاری پہ 25 لاکھ روپے نفع ہوا۔۔

بلاشبہ بزنس ایک گیم ہے اوراس گیم میں وہی پار اترتے ہیں جن کو بزنس کی سمجھ ہو ، نفع اور نقصان کی بنیاد پہ بزنس ہوتا ہے اگر لاکھوں کا فائدہ ہوتا ہے تو لاکھوں میں نقصان بھی ہو سکتا ہے ،
پیسے کو ڈبودینے کے بعد ہی بزنس سمجھ میں آتا ہے ، نقصان سے ڈرنے والے اور رسک کے فیکٹر سے گھبراہٹ کا شکار ہونے والے صرف سوچتے رہ جاتے ہیں اور جن کی صلاحیتوں میں کاروبار رچا بسا ہوتا ہے وہ لنگر انداز ہوکر بلا کے تیراک کہلاتے ہیں ،
کسی نے صحیح کہا ہے کہ “بزنس بچوں کا کھیل نہیں ہوتا ” اور نہ ہی ہر بزنس ہر فرد کے لئے ہوتا ہے خدا نے الگ الگ صلاحیتوں کا سسٹم انسان میں نصب کر رکھا ہے جس نے اس سسٹم کو سمجھ لیا اس کی گتھی سلجھ گئی — پھر آر یا پار فیصلے بچنے اور ڈوبنے پہ ہوتےہیں —

میں چند دوستوں کے ساتھ مل کر یہ سٹیپ اٹھا رہا ہوں آپ بھی کچھ دوست مل کر ایک چھوٹا سا سٹیپ اٹھا سکتے ہیں ضروری نہیں آپ گاڑیاں یا ٹن بک کروائیں ، صرف چند من مال لیجئے گا اور موسم میں بیچ لیجئے گا — اور بس

اگر علاقہ میں گندم ہو تو یہ رسک اٹھالیجئے گا وگرنہ نہیں باقی وہ ایک شاعر نے کہا تھا

ایک سیپ میں دوموتی قسمت جدا جدا ہے
اک پس رہا ہے کھرل میں اک تاج میں جڑا ہے

مجھے نہیں پتہ کس کی کیا قسمت ہے لیکن گرنے اور سنبھلنے کا نام ہی زندگی ہے —

مجھے پتہ ہے اس پوسٹ کو پڑھنے کے بعد کئی لوگ اعتراض کرنے والے سامنے آجائیں گے اور میری ہر بزنس پوسٹ پہ ایسا ہوتا ہے ، دیکھیں بھائی اگر آپ نے یاکسی نے بھی بزنس کیا تو میرے لئے تو نہیں کرنا اپنے لئے ہی کرنا ہے، جس کو تحفظات ہوں وہ بزنس کی پوسٹ سے 4 سو قدم دور رہے اور خدا لگتی کہوں تو منفی باتیں کرکے کسی اور کو منفی سوچ کا موقع مت دیا کیجئے ،جس نے بھی کرنا ہے سبھی کچھ دیکھ بھال کے کرنا ہے میں یا آپ نقصان کے ذمہ دار نہیں ہوں گے اور میرے بعض بھولے بھالے دوست یہ سمجھتے ہیں کہ مجھ پہ شاید لائکس یا شئر کا خبط سوار ہے ۔۔ ایسا کچھ بھی نہیں یے اس لئے آپ کے لائک کرنے یا شئر کرنے سے نہ میری ذات کوکوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی ڈس لائک کرنے سے کوئی نقصان — جمع خاطر رکھئے اور چپ چاپ پڑھ کر گزر جایا کیجئے

مزید

آج ایک پروڈکٹ کے لئے کچھ تجربہ کار دوستوں کے ساتھ کراچی کی مارکیٹ گھوم کر آیا ہوں اور وہ پروڈکٹ ہے ” ٹاکی ” ۔۔
جی ہاں آپ نے تصویروں سے اندازہ لگا ہی لیا گیا ہوگا ۔۔ یہ کپڑا ہی ہے ، اس فیلڈ میں روزی ملنے کے بہت مواقع ہیں۔
جنوبی پنجاب میں یہ پروڈکٹ گندم کے گٹھے باندھنے کے لئے بکثرت استعمال کی جاتی ہے تاہم اس کا رواج ابھی اپر پنجاب تک نہیں پہنچا۔۔سندھ میں اس کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کے پاس چاول کی فصل ہے اور وہ اسی کے رسے باٹ کر گندم باندھتے ہیں خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کا اندازہ نہیں کہ وہاں کے لوگ گندم کیسے باندھتے ہیں ۔۔
بہرحال پنجاب میں مارچ کے اواخر سے مئی کے اختتام تک یہ پروڈکٹ کسان کی اہم ترین ضرورت ہوگی ۔۔
کراچی میں رشید آباد ، گودرہ مارکیٹ اور انڈسٹریل ایریا کورنگی اور فیصل آباد میں ٹاٹا مارکیٹ اس کے خاص پوائنٹ ہیں تاہم ریٹس اور معیار کے حساب سے کراچی کامال بہتر رہتا ہے ۔۔
لیکن اس کی خریداری کے لئے تجربہ کار آدمی درکار ہوتے ہیں وگرنہ کچا مال بھاری نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے ۔۔
اس پروڈکٹ کے ریٹس فی الحال کم ہیں لیکن جیسے جیسے گندم کا موسم قریب آتا جائے گا اس کے ریٹس بڑھتے جائیں گے ۔۔ 10 فیصد سے 30 فیصد تک منافع متوقع ہے۔۔
واضح رہے کہ یہ ” ٹاکی ” کپڑے کی وہ کناریاں ہیں جو تھانوں کی کٹائی کے بعد بچ جاتی ہیں، ان کا طول و عرض مختلف ہوتا ہے
فی الوقت اس کی تین اقسام ہیں ۔۔
اعلی کوالٹی کو ” ٹوئل ” یا جی – ایس – ایم بولتے ہیں اس سے نیچے ” پی – سی ” ہے اور ادنی قسم کی کوالٹی کو ” ڈینم ”
ہم بڑی سطح پہ خریداری کرنا چاہ رہے ہیں کوئی ساتھی شامل ہونا چاہے تو خوش آمدید ۔۔۔
یہ کام اپنی نگرانی میں اور اپنے علاقہ میں ہوگا ایک گاڑی تقریبا 6 لاکھ تک کی بن رہی ہے اگر کسی بھائی کو اعتماد ہو اور اعتماد کے بعد دلچسپی بھی ہو تو رابطہ کر سکتا ہے۔۔

عبداللہ بن زبیر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں