goat farming 72

بکریوں کی فارمنگ یا گوٹ فارمنگ کیسے کریں

بکریوں کی فارمینگ :۰
بکریوں کی فارمینگ ایک اچھا اور منافع بخش کام ہے بکریوں کی فارمینگ کم پیسے سے بھی کی جا سکتی ہے
اور بکریوں کی افزائش ہمارے پیغمبروں کا پیشہ بھی رہا ہے
بکریوں کی فارمینگ دو قسم کی ہیں
۱- دودھ دینے والی قسم
۲- گوشت کی پیداوار والی قسم
دونوں اقسام کا کام منافع بخش کاروبار ہیں ۰
فارم بنانے کیلیے جگہ کا انتخاب:۰
فارم بنانے کیلئے ایسی جگہ کا انتخاب کیا جاتا ہے جہاں پہ فارم کے شیڈ کے قریب قریب جنگل ہو جہاں سبز چارہ ،گھاس،جڑی بوٹیاں ، کیکر ، پھلائی ، بیری ، شہتوت ، جامن ، اور پیپل کے درخت ہوں
اگر یہ سہولت موجود نی ہے تو خود کے درخت لگائے
اسکے علاوہ چراہ گاہوں کے ساتھ ساتھ پانی کی ندی نالے یا کسی نہر کا گزر ہو ایسی جگہ کا انتخاب کریں
چراہ گاہوں اور کُھرلیوں میں پلنے والی بکریوں کے وزن بڑھانے میں زمین آسمان کا فرق ہے
چراگاہوں میں جانے والی بکریاں اپنا وزن زیادہ بڑھاتی ہے کُھرلیوں میں پلنے والی بکریوں کے مقابلہ میں ۔
اسکے علاوہ باہر چراگاہوں میں جانے سے بکریاں مختلف قسم کی جڑی بوٹیاں اور ہر قسم کا چارا کھانے سے مال مویشی بہت ساری بیماریوں سے بچ جاتے ہیں ۰

۱-بکریوں کے شیڈ کا طریقہ :۰
۱-بکریوں کے شیڈ کی تعمیر کے لے ہمیشہ جگہ اونچی ہو اور ایسی جگہ ہو جہاں قریب سیلابی پانی کے آنے کا خطرہ نہ ہو ۰
۲-شیڈ کی بنیادیں بھی زمین سے ۲ یا ۳ فٹ اونچی ہو تاکہ اندر کے پانی کی نکاسی اچھی ہو ۰
۳- شیڈ کی چھت صحن سے چھ انچ اونچی اور شیڈ کی پچھلی طرف چھ انچ نیچے ہو تاکہ بارشی پانی صحن میں نہ آئے ۰
۴- شیڈ کی چوڑائی کا رُخ شمالاً جنوباً ہو۰
۵- شیڈ کی چھت (7) سے (9) فٹ اونچی ہو۰
۶- شیڈ کی عمارت ہوا دار اور روشن ہو۰
۷- شیڈ کے ساتھ اور صحن میں سایہ دار درخت لگائے۰
۸- شیڈ کے اندر سردیوں میں دھوپ لگتی ہو۰
۹- شیڈ کے فرش پختہ ہو اگر فرش کچے ہے تو اندر کی دیواریں کم از کم (2) فٹ تک پختہ ہوں۰
۱۰- ٹیڈی بکری کیلے ۱۰ مربع فٹ چھتی جگہ ہو اور دوگنی جگہ کھلی صحن کی ہو۰
۱۱- بڑی نسل کی بکریوں کیلے (12) مربع فٹ جگہ چھتی ہو اور دوگنی جگہ کھلی صحن کے لے ہو۰
۱۲- شیڈ کے اندر چارے کی کُھرلیوں کی تعمیر ۰
۱۳- شیڈ میں پانی کے حوض چوڑائی ایک فٹ گہرائی نو انچ اور لمبائی جانوروں کی تعداد کے مطابق۰
۱۴- شیڈ میں سردی اور گرمی کے مطابق انتظام ۰

۲-بکریوں کا انتخاب :۰
بکریوں کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہوتا ہے اور اس کیلے اپ کو ان کا علم ہونا لازمی ہے کہ کس علاقہ کی نسل کدھر سے سستی ملے گئی ا س ک ے علاوہ اپ کو ان کی بیماریوں کا علم ہونا بھی ضروری ہے جانور لیتے وقت مکمل تسلی کر لیں کہ کہیں بیمار تو نی ہے یا کسی متعدی بیماری تو نی ہے
اس کے لے بکریوں کے کان کے اندر چیچڑ ، منہ اور کُھر کے اندر چھالے یا زخم نہ ہوں
تھن دو اور برابر ہوں زخمی یا سخت نہ ہو ں
پورا ھوانہ چیک کرے سخت یا سوجن نہ ہو
ھوانہ کا سائز بڑا ہو اور کم لٹکا ہو
ھوانہ میں دودھ ہو تو دودھ نکال کر چیک کرے
جانور کو دست کی بیماری نہ ہوں
بکریاں حاملہ ہوں یہ اپ کے لے سود مند ہوں گی
بکریاں جوان ہوں
ایسی بکریوں کا انتخاب کرے جو دو یا تین بچے پیدا کرنے والی ہوں
بکریاں اچھی نسل کی ہوں
بکریاں صحت مند ہوں
بکریوں کا قد و کاٹھ اچھا ہوں

۳-نئے فارم کے لے انتظامات :۰
نیا فارم شروع کرنے کے لے چند انتظام لازمی عمل میں لائیں
فارم صاف و ستھرا ہو
فارم میں پانی اور خوراک کا انتظام ہو
فارم میں سردی اور گرمی کے لحاظ سے مناسب انتظام ہو
فارم کے فرش پر چونے کا چھڑکاؤ ہو
فارم میں بکریوں کو اُتے ہی حفاظتی ٹیکہ جات لگوائیں
فارم میں اگر پہلے سے جانور موجود ہوں تو نئے جانوروں کو دس دن تک الگ رکھے اور ویکسین کر کے شامل کرے
حاملہ بکریوں کے آخری ماہ ہونے پر سب سے الگ رکھے
تمام جانوروں کو دس دن کے بعد کرموں کی دوائی دیں
جانوروں کی مینگنوں کو کسی لیبارٹری سے چیک کروا کر ان کی ہدایت کے مطابق کرم کش دوائی پلائیں

۴-کامیاب فارمینگ کے چند اہم نکات :۰
بکریوں کی فارمینگ کو کامیاب بنانے کیلے میں اپنے چند اہم نقطۂ نظر اپ کی پیش خدمت کرتا ہوں۰
جانوروں کا مکمل ریکارڈ رکھیں
بکریوں سے سال میں دو دفعہ بچے لیں
بکریوں سے حاصل ہونے والے ہر بچہ کی اچھی پرورش کریں
تمام بیماریوں کے حفاظتی ٹیکہ جات لگوائیں
تمام جانوروں کو اندرونی و بیرونی کرم کش ادویات دیں
تمام شیڈ کی صفائی ہر روز کریں
تمام شیڈ کو ہر ماہ چونا لازمی کریں خاص کر سردیوں میں
بکریوں کی اچھی پیداوار کے لے اچھی صحت کا ہونا اور اچھی صحت کے لے اچھی خوراک کا ہونا لازمی ہے
تمام جانوروں کے نمکیات اور منرل کا خیال رکھے
حاملہ جانوروں کو قبض سے بچائے
حاملہ جانوروں کو اپھارے سے محفوظ رکھیں
حاملہ بکریوں کو موسمی تبدیلیوں سے محفوظ رکھیں
چھوٹے بچوں کو موسمی تبدیلیوں سے محفوظ رکھیں
حاملہ بکریوں کو آخری ایام میں ونڈا کا استعمال کرے
بکریاں (145/150) دن میں بچہ دیتی ہے
بچوں میں میل فروخت کرے اور فیمیل رکھیں
حاملہ بکریوں کے ھوانہ کو سوزش سے محفوظ رکھیں
نسل کشی 15 مارچ سے 15 اپریل اور 15 ستمبر سے 15 اکتوبر تک کریں
ماہ جولائی اور اگست میں بکریوں کا ملاپ نہ کریں
ملاپ سے ایک ماہ پہلے بکریوں کو ونڈا استعمال کروائیں
30 بکریوں کے لے ایک بریڈر میل بکرا کافی ہے
اس کے علاوہ بھی اپ کے پاس بریڈر میل ہونے چاہیں
بریڈر میل کو نسل کشی کے موسم میں ہی ریوڑ میں چھوڑیں
نوکروں کے ساتھ خود بھی شیڈ میں کام کرے
جانوروں سے پیار اور محبت سے پیش انا لازمی شرط ہے.

بشکریہ دیسی مشورے
از محمد زاہد ایوب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں